جھارکھنڈ

بابر خان کی پکار پر ظلم کے ہرکارہ کالا قانون کے خلاف روزہ داروں نے کی اللہ سے فریاد

جمشید پور سے اٹھنے والا ابرِ پورے چھارکھنڈ میں برسے گا زیبا قادری

جمشیدپور (ایم ندیم احسن) آل انڈیا مائنارٹی سوشل ویلفیئر فرنٹ کی آواز پر جمشیدپور نے لبیک کہا جس کے بعد فرزندان و بنتان ملت اسلامیہ کا رخ ساڑھے تین بجے سے ہی آذاد نگر عید گاہ میدان کی طرف دیکھا گیا- سوا چار بجتے بجتے عید گاہ میدان پوری طرح بھر گیا تھا در اصل گزرشتہ کل فرنٹ کے قومی جنرل سیکرٹری بابر خان نے ملت اسلامیہ کے نام اپیل جاری کرتے ہوئے گزارش کی تھی کہ ان آر سی’ سی سی اے اور ان پی ار جیسے سیاہ قانون سے نجات کے لیے اجتماعی روزہ کا اہتمام کریں اور عصرکے وقت آزاد نگر عید گاہ میدان پہنچ کر فرنٹ کے زیر اہتمام دعائے یونس اور اس کے بعد اجتماعی دعوت افطار میں شرکت کریں بابر خان کی آواز سے آواز ملاتے ہوۓ مدرسہ باغ عائشہ کی بانی و ڈائریکٹر زیبا قادری نے علاقے کی ایک ایک خاتون تک ان کا پیغام پہنچایا فرنٹ کے رہنما بابر خان اور زیبا قادری کی درد مندانہ اپیل پر جمشید پور نے لبیک کہا اور ہزاروں کی تعداد میں صاحب ایمان کلمہ گو بھائی بہنوں نے روزہ کا اہتمام کیا اور مقررہ وقت پر جائے وقوع پر پہنچنے کے لیے اپنے اپنے گھروں سے کشاں کشاں نکل پڑیں بے حد روح پرور منظر تھا جب مرد’ خواتین اور معصوم بچے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے عید گاہ میدان کا رخ کر رہے تھے جلسہ گاہ میں بنتان ملت اسلامیہ کے لئے خصوصی پردے کا نظم تھا جبکہ فرزندان توحید کے لیے علحدہ انتظام! نماز عصر سے قبل ہی خواتین نے آیات کریمہ کا ورد شروع کردیا جو نماز عصر کے بعد بھی جاری رہا اور پھر مرد و خواتین اور چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں نے اللہ کریم کے حضور ہاتھ اٹھا کر آنسوؤں بھری آنکھوں ‘ سسکیوں اور ہچکیوں کے درمیان دعاء یونس کے ذریعہ اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے ظالم حکمرانوں کے دست و برد اور سیاہ قانون سے نجات کے لئے فریاد کی- آنسو بھری فریاد کاسلسلہ مغرب کی اذان تک جاری رہا- پھر وقت مغرب موذن کی اذان کی صدا بلند ہوتے ہی دعا کے لیے بلند ہاتھوں کو روزہ داروں نے سمیٹ لیا اور اللہ قادر و ارحم راحمین کی حمدوثنا کرتے ہوئے روزہ افطار کیا گیا اس موقع پر زیبا قادری نے کہا کہ آج کے اجلاس میں شریک کلمہ گو بھائی بہنوں اور بزرگ روزہ داروں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کراس بات کا یقین ہو گیا ہے کہ مذکورہ کالے قانون کے خلاف ہماری جنگ کمزور پڑنے والی نہیں انہوں نے کہا کہ جمشید پور سے اٹھنے والا ابر پورے جھارکھنڈ میں برسے گا- ھالانکہ آج کے پروگرام کے روح رواں آل انڈیا مائنارٹی سوشل ویلفیئر فرنٹ کے قومی جنرل سیکرٹری بابر خان تھے لیکن گریڈیہہ کے بگودر میں مذکورہ سیاہ قانون کے خلاف منعقدہ عظیم الشان اجلاس کے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کے لیے انہیں بگودر جانا پڑا تھا اس لئے وہ خود جمشیدپور میں روزہ داروں کے دعائیہ اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے ٹیلی فون پر نامہ نگار سے
بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرب وابتلاء کے اس دور میں ملت اسلامیہ انتشار کی شکار ہے اور اپنے مذہبی احکام سے دوری اختیار کر چکی ہے جس کی وجہ سے ہم ذلیل و خوار ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم ظالم حکمران وقت کے ظالم قانون کے خلاف اپنی متحدہ آواز تو اٹھا ہی رہے ہیں لیکن ہمارا ایمان ہے کہ اللہ کریم کی مدد کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہوسکتی لہذا فرنٹ کی پکار پر جمشیدپور کے کلمہ گو بھائی بہنیں اور سفید ریش بزرگ روزہ رکھ کر اللہ کریم قادر مطلق اور ارحم راحمین کے حضور دعاء یونس کے ذریعہ اپنی فریاد پیش کی ہے اور اجتماعی دعا یونس میں آنسو بھری فریاد رکھ کر اللہ کی رحمت طلب کی ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین کامل ہے کہ دل کی گہرائی سے نکلی ہوئی دعائیں مستجاب ہونگی معلوم ہو کہ شہر جمشیدپور میں ملت اسلامیہ کی ایک مضبوط آواز کے طور پر بابرخان جانے جاتے ہیں اور جب کبھی ملت اسلامیہ کا کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو سب سے پہلے یہی آواز بلند ہوتی ہے چاہے وہ پولیس کی ظالمانہ کاروائی کے خلاف ہو’ حکومتی عمال کی تاناشاہی اور زور زبردستی کے خلاف یا حکومت کی عوام دشمن پالیسی کے خلاف- واضح ہو کہ گزشتہ دنوں گاندھی میدان میں مذکورہ سیاہ قوانین کے خلاف عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ و اجلاس کا بھی اہتمام فرنٹ نے کیا تھا جس میں پپو یادو اور سپریم کورٹ کے مشہور قانون دان کے علاوہ کئی مشہور شخصیات نے اپنی موجودگی درج کرائی تھی جس کے بعد صدر جمہوریہ ہند ‘وزیراعظم’ وزیر داخلہ نیز چیف جسٹس آف انڈیا کے نام ڈپٹی کمشنر کو مکتوب سونپ کر مذکورہ ظالمانہ قوانین کو کالعدم قرار دینے کی مانگ کی گئی تھی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close