ممبئی

جنسی استحصال کے ارادے کے بغیر لڑکی کے گال کو چھونا جنسی حملہ نہیں ہے: بمبئی ہائی کورٹ نے ملزم کی ضمانت منظور کرلی

ممبئی،29؍اگست (ہندوستان اردو ٹائمز) بمبئی ہائی کورٹ نے ایک آٹھ سالہ بچی کے ساتھ جنسی استحصال کے الزام میں 46 سالہ شخص کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ کسی بچی کو جنسی استحصال کے ارادے کے بغیر اس کے گالوں کو چھونا جرم نہیں ہے۔ جسٹس سندیپ شندے کی سنگل بنچ نے 27 اگست کو ملزم محمد احمد اللہ کی ضمانت منظور کی جسے جولائی 2020 میں پڑوسی تھانے ضلع میں ربوڈی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہاکہ میری رائے میں جنسی زیادتی کے ارادے کے بغیر کسی کے گال کو چھونا ’جنسی زیادتی‘ کے جرم کے مترادف نہیں ہے جیسا کہ جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ کے سیکشن 7 کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ ریکارڈ پر دستیاب دستاویزات کی ابتدائی تشخیص سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ درخواست گزار نے متاثرہ لڑکی کے گالوں کو جنسی زیادتی کے ارادے سے چھوا ہے۔

تاہم جسٹس شندے نے حکم میں واضح کیا کہ ان کے تبصرے کو اس کیس میں ضمانت کے لیے دی گئی رائے کے طور پر سمجھا جانا چاہیے اور دیگر معاملات میں سماعت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔استغاثہ کے مطابق احمد اللہ نے مبینہ طور پر لڑکی کو اپنی دکان کے اندر بلایا جہاں اس نے اس کے گالوں کو چھوا، اس کی قمیض اتار دی اور اپنی پتلون کھولنے ہی والا تھا کہ ایک عورت وہاں آگئی جس نے ملزم کو لڑکی کو اپنی دکان پر لے جاتے ہوئے دیکھا تھا اور اس کو شک ہوا تھا۔اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی اور احمداللہ کو گرفتار کیا گیا۔ وہ اس وقت نوی ممبئی کی تالوجا جیل میں بندہیں۔ انہوں نے اپنی ضمانت کی درخواست میں کہا کہ انہیں کاروبار میں ان کے حریفوں نے جھوٹے طریقے سے پھنسایا ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اور وہ کافی عرصے سے علاقے میں رہ رہا تھا اور گوشت کی دکان چلا رہا تھا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close