سیرت و شخصیات

جناب عباد الرحمن نشاط کی ابو الحسن شناسی : فتح محمد ندوی

عباد الرحمن نشاط صاحب ۵ ۲رمضان المبارک ۱۴۴۳ ( مطابق )کو داغ مفارقت دے گئے عباد الرحمن نشاط صاحب جضر ت مولانا علی میاں کے ان تربیت یافتہ لوگوں میں تھے جنہیں دنیا کم جانتی ہے ملأ اعلی کے فرشتے ،کروبیاںیعنی ملائکہ زیادہ جانتے ہیں فرشتہ خصلت انسان کو فرشتے ہی زیاد ہ بہتر جان سکتے ہیں ۔ عباد الرحمن نشاط صاحب کے اندر ملکوتی روح کار فرما تھی
خاکی و نوری نہاد بندہ مو لا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیاز

ڈاکٹر عباد الرجنشاط صاحب نے عفوان شباب میں مولانا علی میاںکی کتاب ’’ سوانح حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری پڑھی ، عش ومحبت میں ڈوبی ہوئی کتاب تھی، عشق کا تیر چل گیا، اور عباد الرحمن نشاط صاحب نیم بسمل ہو کر اس کتاب کے قائل اور تیر قلم کے گھائل ہو گئے اور تصوف کی طرف پورے طور مائل ہو گئے، وہ تمام اوگ جنہوں نے یہ کتاب پڑھی ہے جانتے ہیں کہ مولانا علی میاں کے قلم میں کیسی خوبی موجزن ہے ۔ سوانح حضرت مولانا عبد القادر راے پوری یہ ایک صاحب دل انسان کی سوانح ہے اور اگرکسی صاحب دل کی سوانح ہو اور مولانا علی میاں کا قلم ہو تو پھر کتاب دلسوز دلکشانغمہ بن جاتی ہے جس سے دل کی کشادہوتی ہے جس سے روح معطر ہوتی ہے ،کتاب ’’ از دل خیز بر دل ریزد‘‘ کا مصداق تھی اس کتاب نے عباد الرحمن نشاطصاحب کو مولانا علی میاں سے بہت قریب کردیا ، ا ن کی دل کو گھائل اور ان کو علی میاں کی طرف مکمل طور پرمائل کردیا ۔ مولانا علی میاں کے قلم میں غضب کی تاثیر تھی ۔ یہی تاثیر ان کی کتاب مولانا زکریا صاحب کی صوانح میں ہے ۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہمارے ملک میں ایسی شخصیتیں پیدا ہوئیں جنہوں نے اہل قلم کی کھیپ پیدا کردی مضمون نگار شاعر ادیب اور مصنف ، ایسی رجال ساز شخصیت کا انتقال ہوا تو معلوم ہوا سارے اہل قلم بانجھ ہو گئے روشنائی خشک ہو گئی کوئی کتاب ایک عرصہ تک ایسی منظر عام پر نہیں آئی جیسی سوانح مولانا زکریا یا سوانح مولانا عبد القادر رائے پوری کے ہم پلہ اور ہم وزن کہا جاسکتا ہو، آخر یہ فرق کیوں ہوا جو لوگ اہل عقل تھے فریب عقل کا شکار تھے اور عقل کا سہارا ڈھونڈھتے تھے وہ پس پشت چلے گئے لیکن جنہوں نے دل کی رفاقت اختیار کی، عقل کے بجائے دل کو رفیق ورہبر بنایا وہ کامیاب رہے اسی لئے اقبال نے کہا
روز ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
مجھے مذکورہ بالا تجزیہ پر اصرار نہیں ہے لیکن آخرکیوں ایسا ہوا کہ دوسری اہم شخصیتوں پر اعلی درجہ کی کتاب سامنے نہیں آسکی ۔ مولانا علی میاں کی کتاب سوانح مونا عبد القادر رائے پوری اور سوانح شیخ الحدیث مولانا زکریا بے مثل اور لاجواب سوانح عمریاں ہیں ۔ شخصیتیں اور بھی اٹھیں ان کی بھی قابل ذکر خدمات رہی ہیں آخر ان کی سوانح اتنی موثر اتنی دلسوز اور اتنی جاں نواز کیوں نہیں سامنے آئیں، دوسری کتابیں جو سوانح کے موضوع پر ہیں انہیں وہ قلم کیوں نصیب نہیں ہوا جو مولانا علی میاں کو نصیب ہوا اصل میں یہ وہ فرق ہے جو ایک کھردری نثر میں اور دلنوازدلر با غزل میں پایا جاتا ہے ایک غزل ہوتی ہے جو دل کے تاروں کو مرتعش کردیتی ہے جو از دل خیز بر دل ریزد کا مصداق ہوتی ہے اور ایک کھردری نثر ہوتی ہے سنگلاخ زمین کی طرح ۔مولانا علی میأن کا قلم ازدل خیزد بر دل ریز د کا مصداق ہے ۔ ماہر القادری نے مولانا علی میاں کی ایک کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا ’’ اہل دل کا تذکرہ ہو اور مولانا علی میاں کاقلم،تو پھر اسلوب گلبہار اور گلزار ہوجاتا ہے ۔ مولانا عبد القادر رائے پور کی سوانح جب عباد الرحمن نشاط صاحب نے پڑھی تو اپنا ذاکر وشاغل دل اس روح پرور کتاب کو دے بیٹھے ۔اورکتاب پڑھتے رہے اور خوشبو کو اپنا ہمسفر بناتے رہے۔عباد الرحمن نشاط صاحب مولانا سے اور زیادہ قریب ہو گئے بہت قریب۔
عباد الرحمن نشاط صاحب خوش قسمت تھے ایک طویل عرصہ تک مکہ مکرمہ میں ام القری ییوینیورسیٹی میںانگریزی زیان کے پروفیسر رہے مولانا ابو الحسن علی ندوی رابطہ عالمی سلامی کی اساسی رکن اور مدینہ کی یونیورسیٹی کے بنیاد گذار وں تھے اس لئے سال میں کئی بار مولانا کا حرمین کا سفر ہوتا تھا اور ڈاکٹڑ عباد الرحمن نشاط کو استفادہ کا موقع ملتا تھا مولانا علی میاں کی روحانی شخصیت ہواور حرم کی روحانیت نواز اور روح پرور سرزمین ڈاکٹر عباد الرحمن نشاط کو روحانیت اور تصوف کی دولت بے بہا حاصل کرنے کا خوب خوب موقعہ ملا اتنا زیادہ کا اس کا اندازہ لگانے کے لئے اس راہ کے مسافر سے ہی سوال پوچھنا پڑے گا کہ موسم سہانا اورسازگارہو اور ساقی بھی موجود ہو نہ خم کی کمی ہو نہ جام وساغر کی تو میکشی کی زیادہ سے زیادہ حد کیا ہوسکتی ۔
ڈاکٹر شاہ عباد الرحمن نشاط کئی معتبر کتابوں کے مصنف تھے ،مجھے صرف ان کے اس انٹرویو کا تذکرہ کرنا ہے جو ’’ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نور اللہ مرقدہ کے افکار کی عصری معنویت ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے یہ مختلف سوالات کے فکر انگیز جوابات کا مجموعہ ہے سوالات کرنے والے ’’بے باک گفتگو ‘‘نامی ویب سائیٹ کے مالک جناب فتح محمد ندوی تھے اور جواب دینے والے ڈاکٹر شاہ عباد الرحمن نشاط ۔
یہ چھوٹا سا کتابچہ جو ایک انٹرویو ہے مولانا علی میاں سے متعلق اٹریچر میں اہمیت کا حامل ہے اس کتابچہ سے ڈاکٹرعباد ارحمن نشاط کی ابو الحسن شناسی پر روشنی پڑتی ہے مولانا علی میاں ندوی کی مینارہ نور شخصیت کے کئی اہم گوشے واضح ہوتے ہیں مولانا علی میاں پر بہت سے کتابیں لکھی گئی ہیں ،کئی کتابیں عربی میں اردو میں اور دو تین کتابین انگریزی میں ۔لیکن جو باتیں اس انٹرویو میں بتائی گئی ہیں وہ بہت اہم ہیں اور انفرادیت کی حامل ہیں ۔اور ان پہلووں کو شامل کئے بغیر مولانا علی میأں کی شخصیت کو پورے طور پر سمجھا نہیں جاسکتا ہے۔پھر یہ پہلو معمولی پہلو نہیں ہیں بلکہ یہ ہر قائد کے لئے اسوہ ہیں نمونہ ہیں اور قائدین کو اسی مزاج اور سیرت اور اسی کردار کا حامل ہونا چاہئے اقبال نے اخوت کی جہاں گیری اور محبت کی فراوانی کی جو دعوت دی ہے مولانا علی میاں کی شخصیت اس کی تمثیل ہے یہ وہ کردار ہے جس کی طرف علامہ اقبال نے بار بار اشارہ کیا ہے
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق وباطل ہو توفولاد ہے مومن
جناب فتح محمد صاحب کی ایک سوال کے جواب میں عباد الرحمن نشاط صاحب نے فرمایا :
’’ وہ کسی مخصوص دینی کام کی سرپرستی میں یہ غلو پسند نہیں کرتے تھے
کہ اس کام کے علاوہ دوسرے سب کام کم تر اور حقیر ہیں اور فرماتے تھے کہ
شریعت مطہرہ کے دائرہ کے اندر اسلامی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے سب
کام ضروری ہیں اور انہیں سمجھ داری اور اخلاص کے ساتھ سر انجام دینا چاہئے ‘‘
یقینا اس ابو الحسن شناسی کی ملت کو ضرورت ہے کتنے لو گ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ مولانا علی میاں تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور دلیل اس کی یہ ہے کہ مولانا نے مولانا الیاس کے ساتھ کام کیا اور مولانا الیاس کی سیرت اور خدمات پر کتاب بھی لکھی یہ ثبوت ہے کہ مولانا تبلیغی جماعت کے خاص آدمی ہیں ، تصوف وسلوک کے دائرے کے لوگ کہتے ہیں مولانا صوفی تھے تصوف پر اور صوفیاء کرام پر مولانا کی وقیع تصنیفات ہیں اہل فکر مولانا کو عالم اسلام کا مفکر مانتے ہیں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش اور دوسری کتاب انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر کو اپنے دعوی کے ثبوت کے طور پر بیش کتے ہیں کچھ لوگ مولانا کو مورخ کہتے ہیں اور تاریخ دعوت وعزیمت کی جلدوں کو اور دوسری کتابوں کو دعوی کی دلیل کے طور پروہ پیش کرتے ہیں مولانا کو سب سے زیاہ ایک بڑے عالم دین داعی کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے مولانا کی پوری زندگی دعوت میں گذری مولانا کے سلسلہ میں یہ تمام باتیں درست ہیں ہر دعوی صحیح ہے مولانا مورخ ، مفکر، داعی، پیام انسانیت کے رہنما، ایک صوفی باصفا ، حکمرانوں سے لے کر عوام تک سب کو خطاب کرنے والے ، اعلی ترین اخلاق والے راہنما ادیب اور مصنف سب کچھ تھے اس لئے ڈاکٹر عباد لرحمن نشاط صاحب کا یہ حوالہ کہ ’’شریعت مطہرہ کے دائرہ میں اسلامی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے سب کام ضروری ہیں ‘‘ مولانا علی میاں کی شخصیت کو سمجھنے کے لئے بہت موزوں حوالہ ہے مولانا کا یہ بیان کرنا کہ یہ غلط ہے کہ ایک ہی کام کے علاوہ سارے کام کہتر ہیں مولانا کی شخصیت کی صحیح عکاسی کرتا ہے مولانا علی میاں بہت سے کاموں کو جو مختلف لوگ انجام دے رہے ہیں بہت ضروری سمجھتے تھے ان کی شخصیت میں الار کی کیفیت نہیں تھے ۔ پہلے کے زمانہ گاڑی بان مسافروں سے کہتا تھا الار ہورہا ہے کچھ لوگ بائیں طرف بیٹھ جائیں یا دائیں طرف بیٹھ جائیں اب آج کے زمانہ میں زیادہ تر شخصیتین یا جماعتوں کے ذمہ دار الاری شخصیت رکھتی ہیں ایک طرف جھکی ہوئی غیر متوازن ، مولانا علی میاں کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ان کی شخصیت میں الار نہیں تھا توازن تھا عدم اعتدال نہیں تھا مکمل اعتدال تھا ۔ ڈاکٹر عباد الرحمن نشاط صاحب نے بجا طور پر مولانا کی اس شخصیت کواوران کی اس حیثیت کو نمایاں کیا ہے ۔ جہاں مولانا علی میاں کابہت بڑا امتیازی وصف ہے گونا گوں کمالات کو اپنے اندر جمع کرلینا وہیں ڈاکٹر عباد الرحمن نشاط صاحب کا امتیازی وصف ان کی اعلی درجہ کی ابو الحسن شناسی ہے ۔مولانا علی میاں کے چاہنے والے ماننے والے عقیدت رکھنے والے لاکھوں کی تعداد میں ہیں لیکن بہت کم لوگ ہوں گیٍ جو عباد الرحمن نشاط صاحب کی طرح ابوالحسن شناس ہوں ۔
ڈاکٹر عباد ارحمن نشاط صاحب سے ایک اہم سوال پوچھا گیا کہ مولانا علی میاں کا اپنے زمانہ کے بعض مفکرین سے اختلاف بھی ہواہوگا ان اختلافات میں مولانا کارویہ کیا ہوتا تھا ۔ یہ سوال بہت اہم تھا انسان اپنی معتقدین مریدین اور شاگردوں کے ساتھ بہت اونچے اخلاق سے پیش آتا ہے انسان کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اسے سابقہ مخالفوں کے ساتھ یا ہم عصر علماء اور مفکرین کی ساتھ پیش آتا ہے
ڈاکٹر عباد احمن نشاط صاحب نے بتایا کہ افراد اور جماعتوں کے ساتھ انکااختلاف بھی رہا تھا لیکن انہوں نے احتلاف رائے کوٹکراو تک نہیں بڑھنے دیا باہمی اعتماد اور تعاون کا مخلصانہ تعلق انہوں نے ہمیشہ باقی رکھا آپس میں بے تکلف ملنا جلنا باقی رہا ضرورت پڑنے پر دینی مقصد کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا بھی ہوا ۔
ڈاکُر نشاط صاحب کایہ جواب ان کی ابوالحسن شناسی کی بہت بڑی دلیل ہے اور واقعہ یہ ہے کہ مولانا علی میاں کے نقوش قدم اختلافات کے موقعہ پر بہت مثالی ہوا کرتے تھے ۔ اعلی درجہ کی مثال اعلی درجہ کا نمونہ ، اخلاق وشرافت کے پیکر سے جو توقع کی جاسکتی ہے وہی عمل اور وہی کردارمولانا علی میاں کے یہاں پایا جاتا تھا ۔ مثال کے طور پر مولانا علی میاں کو جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی سے اسلام کی شرح وتفصیل میں اختلاف تھا اور مولانا علی میاں نے اس اختلاف پر کتاب بھی لکھی ’’ عصر حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح ‘‘ اداب اختلاف کی رعایت دیکھئے کہ کتاب کا پہلا نسخہ شریفانہ جملوں کے ساتھ مولانا نے مودودی صاحب کو بھیجا اور مولانا مودودی نے بھی ویسا ہی شریفانہ جواب دیا ۔
مولانا علی میاں کے اس طرز عمل کو دیکھئے اور’’ مودودیت کا فتنہ ‘‘ جیسے پورے لٹریچر پر نظر ڈالئے تو معلوم ہوگا کہ مولانا علی میاں عام علماء کی ذہنی اور اخلاقی سطح سے کئی گنا بلند ہیں ، اس اردو کتاب کا عربی ترجمہ مولانا نور عالم امینی نے ’’ التفسیر السیاسی للاسلام ‘‘ کے نام سے عربی میں کیا تھا یعنی دین اسلام کی سیاسی تعبیر ۔ علامہ یوسف الفرضاوی نے جس طرح مولانا ابو الاعلی مودودی پر کتاب لکھی ہے اس طرح انہوں نے مولانا علی میاں کی شخصیت پر بھی کتاب لکھی ہے اس کتاب میں انہوں نے لکھا ہے کہ مولانا علی میاں سے انہوں کہا کہ عرب دنیا کے ڈکٹیٹر حاکم ہم دین کے داعیوں پر یہ الزام تراشی کرتے ہیں کہ ہم اسلام کی سیاسی تشریح کرتے ہیں آپ کی کتاب سے انہیں تقویت مل جائے گی یوسف لقرضاوی صاحب نے لکھا کہ مولانا علی میاں نے فورا جواب دیا کہ یہ پہلو ذاہن میں نہ تھا ورنہ میں اس کتاب کا نام یہ ہرگز نہیں رکھتا ۔ کوئی اور شخص ہوتا کہ تو یوسف القرضاوی صاحب سے بحث وحجت کرنے لگتا مولانا علی میاں نے مولانا مودودی سے اختلاف ضرور کیا لیکن ان کے انتقال کے بعد وہ ان کی لئے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کا اہتمام کرتے رہے یہ اس لئے کہ مولانا مودودی خادم دین تھے ہادم دین نہیں تھے ۔بابری مسجد کے سلسلہ میں بھی ملت کے قائدین سے مولانا علی میاں کو اختلاف تھا اور ان قائدین نے مولانا کے خلاف سخت زبان استعمال کی مولانا نے اپنا موقف واپس لے لیا ۔اب ساری دنیا جانتی ہے کہ نتیجہ کیا نکلا ۔ مولانا علی میاں کے مزاج وکردار کے بارے میں ڈاکٹر نشاط صاحب نے جو لکھا وہ حرف بحرف صحیح ہے اقبال کے شعر سے مولانا علی میاں کے مزاج اور اخلاق کی تصویر سامنے آتی ہے
ہو حلقہ یاران تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق وباطل ہو تو فولاد ہے مومن
ڈاکٹر عباد الرحمن صاحب کا انٹریو بہت اہم ہے انہوں پختہ ابو الحسن شناسی کاثبوت دیا ہے لیکن انہوں نے صرف حلقہ یاران کا تذکرہ کیا ہے رزم حق وباطل کا تذکرہ نہیں کیا ہے ۔ رزم حق وباطل میں مولانا کی دینی غیرت وحمیت بہت نمایاں ہو جاتی تھی ۔ جب جما ل عبد الناصر نے مصر میںفرعون کے مجسمے نصب کرنے شروع کئے تو اس مجسمہ سازی کے خلاف سب سے طاقتورجو آواز اٹھی وہ مولانا علی میاں اور ان کے شاگردوں کی تھی۔ آج حرمین شریفین میں جو بے دینی پھیل رہی ہے اور بے دینی پھیلانے کی جو تیاری ہورہی ہے اور اسرائیل کے ساتھ جو خفیہ تعلقات قائم کئے جارہے ہیں ممکن نہیں تھا کہ مولانا علی میاں ہوتے تو خاموش ہوتے ۔ سلمان حسینی ندوی کی بہت سی غلطیاں ہوسکتی ہیں لیکن سعودی عرب اور امارت کے سلسلہ میں ان کا موقف درست ہے آخر امام حسین نے یزید سے جنگ کیوں کی تھی اگر امام حسین کا موقف درست تھا تو آج شہزادہ محمد بن سلمان پر جو لوگ سخت تنیدیں کررہے ہیں ان کا موقف بھی درست ہے ۔تمام مسائل میں تو نہیں لیکن اس مسئلہ
میں ہم مولانا سلمان حسینی کے پورے حامی اور موید ہیں اور یہ حق کی تایید ہے اور حق کی نصرت ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close