جموں کشمیر

فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی کو رہا کیا جائے : اپوزیشن کا مطالبہ

اہم اپوزیشن رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ جموں وکشمیر کے لیڈران سابق وزرائے اعلی اور دیگر سیاستدانوں کو غیر معینہ مدت تک نظر بند نہیں رکھا جاسکتا، یہ آئین میں دیئے گئے حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔
نئی دہلی ۔ 10 مارچ 2020
اپوزیشن نے جموں وکشمیر کے سابق وزرائے اعلی فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت ریاست میں سبھی سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پیر کو کہا ہے کہ لوگوں کو غیر معینہ مدت تک نظربند رکھنا آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شردپوار، مغربی بنگال کی وزیراعلی اور ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی، سابق وزیراعظم اور جنتا دل سیکولر کے صدر ایچ ڈی دیوے گوڑا، مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری جنرل سیتا رام یچوری، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ڈی راجہ ، راشٹریہ جنتا دل کے منوج کمار جھا، سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا اور ارون شوری نے یہاں جاری مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے تینوں سابق وزرائے اعلی اور دیگر سیاستدانوں کو غیر معینہ مدت تک نظربند نہیں رکھا جاسکتا۔ یہ آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’جموں وکشمیر کے تینوں وزرائے اعلی اور دیگر سیاست داں نظر بند لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔اس کے علاوہ اپوزیشن پارٹیاں کشمیر کے لوگوں کے حقوق اور آزادی کو پوری طرح سے بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘

اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہےکہ ہندوستانی آئین تنوع میں یکجہتی پر اعتماد کرتا ہے اور ہر ایک کے خیالات کی قدر کرتا ہے۔ نریندر مودی حکومت میں جمہوری اختلاف کو انتظامی مشنری کے ذریعہ دبایا جارہا ہے۔یہ آئین میں دیئے گئے انصاف، آزادی، مساوات اور بھائی چارگی کے جذبات کے خلاف ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close