جموں کشمیر

جموں وکشمیر : بھیم سنگھ نے ہندوستان کے صدر رامناتھ کووند سےریاستی خدمات کو سنگین بحران سے بچانے کے لئے فوری طورپر مداخلت کرنے کی درخواست کی

جموں وکشمیر (طارق خان جنجو عہ) نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی ، اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی ایکزیکیو ٹیو چیرمین اور اسمبلی میں تین مرتبہ رکن اسمبلی رہ پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندستان کے صدر رامناتھ کووند سے جموں وکشمیر میں ریاستی خدمات کو سنگین بحران سے بچانے کے لئے فوری طورپر مداخلت کرنے کی درخواست کی ہے اس سے پہلے کہ مناسب کارروائی نہ کرنے کے سبب یہ جوالا مکھی کی طرح پھٹ جائے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہ کہ اسٹیٹ سبجیکٹ جسے مہاراجہ ہری سنگھ نے 1927میں متعارف کیا تھا اور جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی نے مستقل رہائشی حیثیت سے اس کا نام تبدیل کیا تھا، صدر کے نامزد کردہ یا کسی ایگزیکیوٹیو اتھارٹی کے ذریعہ اس درجہ میں تبدیل /ترمیم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جب دستور اسمبلی نے آئین تیار کیا اور 25نومبر 1949کو اسے حتمی شکل دی گئی تھی توجموں وکشمیر کے بے روزگار نوجوانوں /عوام کے بنیادی حق کے طورپر اسے قبول کیا گیاتھا ۔ہندستانی آئین کے باب۔3میں تسلیم کیا گیاہے کہ جموں وکشمیر میں مہاراجہ کی حکومت کے دوران کے تمام پرانے قانون نافذ رہیں گے اور ان میں کوئی تبدیلی/ترمیم یا منسوخ نہیں کیا جاسکتا اگر ایسے قوانین جموں وکشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے پیش کئے گئے ہوں۔ہندستان کے آئین کے باب ۔3میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ کسی بھی اتھارٹی کے ذریعہ نہ تو بنیادی حقوق اور آئین ساز اسمبلی کے عہد کو نہ تو تبدیل اور نہ ہی الٹا جاسکتا ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے امید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت کے جموں وکشمیر میں جاری ڈرامہ پر ہندستان کی پا رلیمنٹ خاموش تماشائی نہیں بنی رہے گی۔قومی یکجہتی کو مضبوط بنانا ہوگا اور آئین میں دیئے گئے قواعد اور بنیادی حقوق پر عمل درآمد ہوگا۔سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور انسانی اور بنیادی حقوق کے دفاع میں سپریم کورٹ میں کئی عرضیاں داخل کرچکے پروفیسر بھیم سنگھ نے اعلان کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اس معاملہ کو ہندستانی سپریم کورٹ میں لے کرجائیں گے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close