جموں کشمیر

جموں و کشمیر: کانگریس نے کہا: حکومت کا دعویٰ کھوکھلا تھا : دفعہ 370 کو ہٹانے کے بعد بھی وادی میں دہشت گردی جاری

سری نگر،یکم اپریل (ہندوستان اردو ٹائمز) کشمیر میں نوگام میں بی جے پی رہنما کے گھر پر حملے کو لے کر کانگریس نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے پولیس ہر سالانہ رپورٹ میں یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ ریاست میں 200 سے 250 دہشت گرد سرگرم ہیں ، توکس بنیاد پر ریاست میں صورتحال معمول پرہونے کا دعوی کیا جارہا ہے؟ ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر نے کشمیر میں بی جے پی رہنما انور خان کے گھر پر حملے کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر ایک حساس ریاست ہے اور حکومت کو یہاں کی صورتحال کو درست کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کرنا ہوگا ۔ میر نے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست سے آرٹیکل 370 کو ختم کرتے ہوئے یہ دعوی کیا گیا ہے کہ اس سے جموں و کشمیر میں دہشت گردی ختم ہوگی اور امن میں کمی واقع ہوگی۔ لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے اپنی سالانہ رپورٹ میں پولیس دعوی کررہی ہے کہ ریاست میں 200 سے 250 دہشت گرد سرگرم ہیں اور یہ تعداد اب بھی ایک جیسی ہے۔ میر نے کہا کہ یہ اعدادوشمار جموں و کشمیر پولیس نے جاری کیے ہیں اور اعداد و شمار سرکاری ہیں جس کا واضح مطلب ہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے دہشت گردی متاثر نہیں ہوئی ہے اور دہشت گرد اب بھی سرگرم عمل ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close