جموں کشمیر

ایشیا کے نامور سکی ریسارٹ گلمرگ میں برف باری کی جھلکیاں

گلمرگ سکی ریسارٹ کا درجہ حرارت منفی ۷.۵ ڈگری سینٹیگریڈ تک گیا

سرینگر ۲جنوری (ہندوستان اردو ٹائمز/ جموں کشمیر بیرو چیف – زمان نور )وادی کشمیر میں گزشتہ ہفتہ میں بیشتر مقامات پر ہلکی برف باری ہوئی جس سے سیاحت اور تجارت سے وابستہ افراد کو خوشی ملی کیونکہ وہ توقع کرتے ہیں کہ نئے سال کے موقع پر کاروبار میں اضافہ ہوگا۔عہدیداروں نے بتایا کہ سرینگر میں منگل کے صبح سات بجے کے قریب برف باری کا آغاز ہوا ، بڈگام اور پلوامہ اضلاع میں اس کے کئی گھنٹوں بعد ہی اس کی شروعات ہوئی تھی۔

جنوبی کشمیر کے کولگام اور اننت ناگ اضلاع میں بھی برف باری ہو رہی تھی۔عہدیداروں نے بتایا کہ شمالی کشمیر میں گلمرگ کے اسکی ریسارٹ میں سات انچ تازہ برف باری ریکارڈ کی گئی ، جبکہ جنوب میں پہلگام ریسارٹ اور وسطی کشمیر میں سونامرگ ریزورٹ میں قریب تین سے چار انچ برف باری ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے گریز میں تین انچ تازہ برف باری ریکارڈ کی گئی ، انہوں نے مزید کہا کہ وادی کے بالائی علاقوں میں بھی دوسرے علاقوں میں برف باری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔عہدیداروں نے بتایا کہ سرینگر جموں قومی شاہراہ پر جواہر سرنگ کے آس پاس کے علاقے میں بھی پیر سے برف باری ہوئی ہے

انہوں نے بتایا کہ نئے سال سے پہلے ہونے والی برف باری نے بہت سے گھریلو سیاحوں اور مقامی افراد کو گلمرگ اور پہلگام کی طرف آتے ہوئے دیکھا ہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ گلمرگ میں پیر کے روز ۱۲۰۰سے زیادہ قومی سیاحوں کی آمد دیکھی گئی ، جب کہ وادی کے مختلف علاقوں سے ۲۵۰۰ سے زیادہ مقامی لوگ بھی اسکیئنگ ریسورٹ میں تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ توقع کی جارہی ہے کہ اگلے دو دن میں ان کی تعداد بڑھ سکتی ہیں۔دریں اثنا ، ابر آلود حالات کا مطلب یہ ہوا کہ شہر میں رات کا درجہ حرارت نقطہ انجماد کے آس پاس رہا۔عہدیداروں نے بتایا کہ پیر کی رات سرینگر – جموں و کشمیر کا موسم گرما کے دارالحکومت میں کم سے کم درجہ حرارت 0 ڈگری سینٹیگریڈ رہا۔ان کا کہنا تھا کہ جنوبی کشمیر میں پہلگام سیاحتی مقام میں پارہ منفی ۳ ڈگری سینٹیگریڈ ، گلمرگ میں منفی ۷.۵ ڈگری سینٹیگریڈ ، قاضی گنڈ میں منفی 0.۴ ڈگری سینٹیگریڈ ، کپواڑہ میں منفی ۱ ڈگری سینٹیگریڈ اور کوکرناگ میں منفی ۳ ڈگری سینٹیگریڈ دیکھا گیا۔

گلمرگ کا سکی ریسارٹ وادی میں سب سے زیادہ ٹھنڈا ریکارڈ کیا گیا۔دریں اثنا ، اس وقت کشمیر ‘چلی کلان’ کی گرفت میں ہے – سردی کی لہر ۴۰ دن تک جاری رہنے والی سخت سردی کا دور ہے جب علاقے میں سردی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور درجہ حرارت کافی حد تک کم ہوجاتا ہے جسکی وجہ سے وقتًا فہ وقتًا تری جم جاتی ہیں جس میں یہاں کی مشہور ڈل جھیل بھی شامل ہے اور ساتھ ہی وادی کے کئی حصوں میں پانی کی فراہمی کی لائنی بھی جام ہو جاتی ہیںعہدیداروں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران برف باری کے امکانات اکثر اور زیادہ سے زیادہ ہوتے ہیں اور زیادہ تر علاقوں خصوصا اونچے علاقوں میں شدید برف باری ہوتی ہے۔جبکہ ۲۱ دسمبر سے شروع ہونے والا ‘چلی-کلان’ ۳۱ جنوری کو ختم ہوگا ، اس کے بعد بھی کشمیر میں ۲۰ روزہ ‘چلی خورد’ (چھوٹی سردی) اور ۱۰ دن چلی-بچہ’ (بچہ سردی)کی سردی کی لہر برقرار رہتی ہے۔

بحر حال وادی میں جما دینے والی سردی یہاں کی زندگی کو چیلینجنگ بناتی ہیں مگر ساتھ ہی وادی کے جنت نما حسن میں بے حد اضافہ بھی کرتی ہیں اور اس سفید چادر میں لپٹی جنت کے شیدائی دنیاں بھر کے مخطلف گرم علاقوں سے منہ موڈ کر وادی کی سرد آگوش میں چلے آتے ہیں جس کی وجہ سے وادی میں سیاحت کا کام کاج منفی ڈگری سینٹیگریڈ میـں بھی رواں دواں رہتا ہے.

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close