جموں کشمیر

حکومت کی جانب سے گنے کی قیمت میں اضافہ نہ کئے جانے کے باوجود گنا پیدا کرنے والے کسانوں نے گنے کی پیداوار کم نہیں کی ہے

دیوبند، 22؍ جنوری (رضوان سلمانی) گنا محکمہ کے سب کمشنر ڈاکٹر دنیشور مشر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گنے کی قیمت میں اضافہ نہ کئے جانے کے باوجود گنا پیدا کرنے والے کسانوں نے گنے کی پیداوار کم نہیں کی ہے، جس کی وجہ سے گذشتہ تین سالوں میں سہارنپور کمشنری میں گنے کی فصل کی پیداوار میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ تِروینی شگر فیکٹری کامعائنہ کرنے کی غرض سے دیوبند آنے والے گنا کمشنر ڈاکٹر دنیشور مشر نے بتایا کہ پاپولر کی لکڑی کی بہتر قیمت نہ ملنے پر مغربی اترپردیش کے کسانوں نے دوبارہ گنے کی فصل اُگانے شروع کردی ہے، انہوں نے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ 3؍ لاکھ 16؍ ہزار ہیکٹئر زمین میں کسانوں نے گنے کی فصل اُگائی ہے، انہوں نے بتایا کہ گذشتہ تین سالوں کے دوران 19؍ ہزار ہیکٹئر زائد زمین میں گنے کی فصلیں تیار کی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے بھلے ہی گنے کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا ہو لیکن پھر بھی گنا پیداکرنے والے کسانوں کی دلچسپی برقرار ہے۔ ڈاکٹر دنیشورمشر نے بتایا کہ زیادہ تر کسان سی او 238؍ قسم کی گنے کی فصل تیار کررہے ہیں، کسانوں کو ایک ہیکٹئر زمین سے تقریباً 1500؍ کوئنٹل گنا حاصل ہوتا ہے، گنے کی اس قسم سے چینی ملوں کو 13؍فیصد چینی زیادہ حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 90؍فیصد کسان مذکورہ قسم کے گنے کی فصل اُگنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اسی فصل کو کچھ کسان جدید تکنیک سے تیار کررہے ہیں، جس سے انہیں زیادہ منافع حاصل ہوتاہے، کیونکہ اس فصل کے ساتھ ساتھ وہ دوسرے اناج کی فصل بھی تیار کرتے ہیں۔دوسری جانب اترپردیش جن کلیان منچ سیو ا ٹرسٹ کے ریاستی صدر چودھری اوم پال سنگھ نے کہا کہ گنے کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب کسانوں کی حالت خراب ہے ، اوپر سے محکمہ بجلی کے افسران کسانوں کا استحصال کررہے ہیں جسے کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے علاقائی دفتر پر منعقدہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چودھری اوم پال سنگھ نے کہا کہ گزشتہ تین سال کے دوران حکومت کی جانب سے گنے کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے جب کہ شوگر فیکٹریاں عدالت کے احکامات کے باوجود گنا کسانوں کو ان کے گنے کی ادائیگی نہیں کررہی ہیں جس سے گنا کسانوں کی حالت بے حد خراب ہے ۔ گنے کے ادائیگی نہ ہونے کے سبب ہی کسان بجلی کے بل جمع نہیں کرپارہے ہیں جس کی وجہ سے محکمہ بجلی کی جانب سے ان کے کنکشن کاٹے جارہے ہیں جس سے کسانوں پر چاروں طرف سے مار پڑرہیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کو کسان کی حالت کو دھیان میں رکھتے ہوئے اسے راحت دینے کا کام کرنا چاہئے ۔ ڈاکٹر اکرام انصاری نے کہا کہ تاریخی اور مذہبی شہر دیوبند میں جگہ جگہ گندگی کے انبار لگے ہوئے ہیں ، سڑکیں خستہ حال ہیں اور غیراعلامیہ بجلی کی تخفیف کی جارہی ہے جس سے لوگو ںکا جینا دشوار ہوگیا ہے ۔ انہوں نے ضلع کے اعلیٰ افسران سے لوگوں کو بنیادی سہولتیں دیئے جانے کا مطالبہ کیا۔ میٹنگ میں راج کمار سنگھ ، واجد علی، ماسٹر محسن، سشیل جاٹو، حاجی حنیف، راج پال جاٹو، رام کرن وغیرہ موجود رہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close