جموں کشمیر

پولیس سربراہ نے کہا کہ تینوں عسکریت پسند چار پولیس اہلکاروں اور چار عام شہریوں کے قتل میں براہ راست

جموں (طا رق خا ن جنجو عہ) پولیس سربراہ نے کہاکہ تینوں عسکریت پسند چار پولیس اہلکاروں اور چار عام شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث تھے۔ انہوںنے کہاکہ سال 2020کا سیکورٹی نظریہ سے بہت اچھا ہوا ہے کیونکہ پچھلے 20روز کے دوران سیکورٹی فورسز نے ایک درجن کے قریب ملی ٹینٹوں کو جاں بحق کیا۔ گرفتار ڈی ایس پی کے بارے میں پولیس سربراہ نے کہاکہ قانون سب کیلئے ایک ہی ہے اور گزٹیڈ آفیسر ہونے کے باوجود بھی ڈی ایس پی کے خلاف کارروائی کی گئی ۔ا نہوںنے کہاکہ پولیس نے اس کیس کو اب قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) کے سپرد کیا ہے۔ پولیس سربراہ کے مطابق پوچھ تاچھ کے دوران کچھ چیزیں سامنے آئی ہیں جس کی بڑے پیمانے پر تحقیقات ہو رہی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ نوید کی گرفتاری کے بعد جنوبی کشمیر میں سرگرم ملی ٹینٹوں کے حرکات و سکنات بڑھ گئے ہیں جس وجہ سے اُنہیں مارنے میں آسانی ہور ہی ہیں۔نما ئند ے کے مطابق پولیس کنٹرول روم سرینگر میں ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہاکہ وچھی شوپیاں میں تین عسکریت پسندوں کی ہلاکت حزب کیلئے بہت بڑا دھچکا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پہاڑی ضلع شوپیاں میں حزب کا لگ بھگ صفایا ہو چکا ہے کیونکہ تینوں عسکریت پسند ضلع بھر میں سرگرم تھے۔ جھڑپ کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے پولیس سربراہ نے کہاکہ مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے سوموار کے روز وچھی شوپیاں علاقے کو محاصرے میں لے کر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا جس دوران گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ پولیس سربراہ کے مطابق کئی منٹوں تک گولیوں کا تبادلہ جاری رہنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جائے جھڑپ کے نزدیک تین عسکریت پسندوں کی لاشیں برآمد کی جن کی شناخت حزب کمانڈر وسیم احمد وانی ساکن شوپیاں ، عادل شیخ ساکن شوپیاں اور جہانگیر احمد ساکن پلوامہ کے بطور ہوئی ہے۔ پولیس سربراہ کے مطابق تینوں عسکریت پسند پولیس وفورسز پر حملوں ، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں پیش پیش تھے۔ انہوںنے کہاکہ حزب کمانڈر وسیم احمد وانی سال 2017سے سرگرم تھا اور اُس کے خلاف انیس کے قریب ایف آئی آر بھی درج ہیں۔ پولیس سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ تینوں عسکریت پسندوں نے چا ر عام شہریوں جن کی شناخت گوہر احمد ڈار ، ندیم منظور ، الیاس خان اور زاہد خان کے قتل میں براہ راست ملوث ہیں جبکہ چار پولیس اہلکاروں کا بھی ان تینوں نے ہی بے دردی کے ساتھ قتل کیا ۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close