جموں کشمیر

جموں وکشمیر: باندی پورہ میں مارے گئے بی جے پی لیڈر وسیم باری کی حفاظت میں تعینات 8 پولیس اہلکار معطل

سری نگر،9جولائی(آئی این ایس انڈیا) شمالی کشمیر کے علاقے باندی پورہ میں دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والے بی جے پی لیڈر وسیم احمد باری کے قاتلوں کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔ وسیم کی سیکوریٹی کے باوجود قتل کے اس واقعہ نے کشمیر میں سیکیورٹی انتظامات پر بڑے سوالات کھڑے کردئے ہیں۔ اس کے علاوہ باندی پورہ پولیس نے وسیم کی سکیورٹی میں تعینات 8 فوجیوں کو معطل کردیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ جس وقت وسیم پر حملہ کیا گیا تھا، اس وقت ان کا کوئی سکیورٹی اہلکار موجود نہیں تھا۔جموں وکشمیر پولیس کے ایک افسر کے مطابق تمام پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے ڈیوٹی میں غفلت برتنے کے معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ حملے کے وقت پولیس اہلکار کہاں تھے یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے۔ باندی پورہ کے پولیس اسٹیشن سے صرف 10 میٹر کے فاصلے پر پیش آنے والے اس واقعے نے کشمیر میں امن وامان کی صورتحال پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، جبکہ حزب اختلاف اس معاملے پر مرکزی اور ریاستی حکومت پر حملہ کررہی ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ موٹرسائیکل سوار شرپسندوں نے مسلم پورہ علاقے میں وسیم احمد باری، اس کے والد اور بھائی کو گولی مار دی۔ ان سب کی حفاظت کے لئے 8 پولیس اہلکار تعینات تھے، حملہ کرنے والے دہشت گردوں نے تابڑتوڑ گولیاں چلائیں، لیکن کہا جارہا ہے کہ کسی نے بھی اس کی آواز نہیں سنی۔ اس کے بعد دہشت گرد موقع سے فرار ہوگئے۔ اسی دوران واقعے کے بعد زخمی افراد کو پہلے باندی پورہ میں داخل کیا گیا تھا اور اس کے بعد سب کو سری نگر روانہ کردیا گیا تھا۔اس واقعے کے بعدکشمیر سمیت ملک کے تمام حصوں میں بی جے پی لیڈران میں کھلبلی مچ گئی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے واقعے پر غم کا اظہار کرتے ہوئے خود مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے معاملے کے بارے میں معلومات لی۔ اسی دوران فوج نے اس علاقے میں وسیم اور اس کے اہل خانہ کے قاتلوں کی تلاش شروع کردی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close