جموں کشمیر

جموں و کشمیر : راجوری کے جنگلاتی علاقے میں فوج اور جنگجوئوں کے درمیان جھڑپ میں 2 اہلکار ہلاک

جموں و کشمیر (طارق خان جنجو عہ) راجوری کے جنگلاتی علاقے میں فوج اور جنگجوئوں کے درمیان جھڑپ میں2اہلکار ہلاک ہوئے،تاہم فوجی آپریشن جاری ہے۔اس دوران مزید فوجی کمک طلب کی گئی ہے،جبکہ ایک وسیع جنگلاتی علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشیوں اور ممکنہ جنگجوئوں کی تلاشیوں کا سلسلہ دراز کیا گیا ہے۔ نما ئند ے کے مطابق پیر پنچال کے راجوری میںکھاری بھارڑ والا جنگلاتی علاقہ بدھ کو اس وقت گولیوں کی گن گرج سے گونج اٹھا جب جنگجوئوں اور فوج کے درمیان اس جنگلاتی علاقے میں مسلح جھڑپ شروع ہوئی اور طرفین نے آزادانہ طور پر خود کار ہتھیاروں کے دہانی کھول کر ایک دوسرے کو نشانہ بنایا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مصدقہ اطلاعات اور اس علاقے مین ممکنہ جنگجوئوں کی نقل و حرکت کی خبریں موصول ہونے کے بعد فوج نے بدھ کو اس جنگلاتی علاقے کو محاصرے میں لیا اور جنگجوئوں کی تلاش شروع کی،تاہم بتایا جاتا ہے کہ تلاشیوں کے دوران ہی جنگجوئوں اور فوج کا آمنا سامنا ہوا،اور طرفین میں جھڑپ ہوئی۔ ذرائع کئے مطابق جنگجوئوں نے خود کار ہتھیاروں سے ابتدائی طور پر فوجی اہلکاروں پر حملہ کیا،جس کے دوران کئی اہلکار زاخمی ہوئے،جن میں بعد میں رپورٹوں کے مطابق2اہلکار ہلاک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق فوج نے بھی جوابی حملہ کیا اور جنگجوئوں پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ ذرائع کے مطابق طرفین میں گولیوں کا تبدالہ شروع ہوا اور اس جنگلاتی علاقے میں ہر سو گولیوں کی گونج سنائی دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طرفین کے درمیان سخت جھڑپ کے دوران اس جنگلاتی علاقے میں جنگ جیسا منظر آیا،اور دونوں اطراف سے آزادانہ طور پر گولیوں کا تبادلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ ذرائع کے مطابق فوج نے پورے علاقے کو محاصرے میں لیا ہے جبکہ مزید فوجی کمک بھی جائے جھڑپ کی جان روانہ کی گئی ہے اور جنگلاتی علاقے سے باہر جانے والے تمام راستوں کو سیل کیا گیا ہے تاکہ جنگجو اس علاقے سے فرار نہ ہوسکے۔ذرائع نے بتایا کہ اگر چہ کچھ دیر تک اس جنگلاتی علاقے میں خاموشی نظر آئی تاہم فوج نے سونگنے والے کتوں کی خدمات بھی حاصل کی ہے،تاکہ جنگجوئوں کو فرار ہونے کا موئی بھی موقہ فراہم نہ ہوا۔ راجوری کے اس جنگلاتی علاقے سے لگنے والے علاقوں کو بھی سیل کیا گیا ہے جبکہ فوج کی ایک بڑی تعداد نواحی علاقوں میں بھی تعینات کی گئی ہے،تاہم بتایا جاتا ہے کہ آخری اطلاعات ملنے تک ابھی علاقے کا محاصرہ جاری ہے،اور اس محاصرے کو مزید تنگ کیا گیا ہے۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ سخت جغرفائیائی موسمی حالات کی بنیاد پر اس جنگلاتی علاقے مین آپریشن آسان نہیں ہے تاہم فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں ے پورے جنگلاتی علاقے کو محاصرے میں لیکر ممکنہ فراری کے راستوں کو سیل کیا ہے۔ دفاعی ذرائع نے کہا کہ موسم کی خرابی کے نتیجے میں آپریشن میں تاخیر اور مشکلات کا سامنا ہے تاہم فوج اس ماحول میں کام کرنے اور صورتحال سے نپٹنے کیلئے لیس ہے۔آخری اطلاعات موصول ہونے تک اس جنگلاتی علاقے کا محاصرہ جاری تھا،اور بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن جاری تھا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close