ہندوستان

جلسۂ تعزیت بر وفات مولانا واضح رشید حسنی ندوی بمقام علی گڑھ لیکچرہال

پریس ریلیزعلی گڑھ۱۸ جنوری ۲۰۱۹ءجلسۂ تعزیت بر وفات مولانا واضح رشید حسنی ؒ 
آج ۱۷ جنوری بروز جمعرات بعد نماز مغرب مدرسۃ العلوم الاسلامیہ علی گڑھ کے لیکچر ہال میں حضرت مولانا واضح رشید حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے سانحۂ ارتحال کی نسبت سے ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی، جس کی صدارت پروفیسر سید احتشام احمد ندوی صاحب نے کی، جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور شہر علی گڑھ کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔مدرسہ کے طالب علم عبدالباسط نے تلاوت سے مجلس کا آغاز کیا۔ اس کے بعد مدرسے کے مہتمم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی نے اس شعر سے اپنی بات شروع کی۔

*سحر جو آئی تو لائی اس چراغ کی موت*

*تمام عمر جو جلتا رہا سحر کے لئے

*ڈاکٹر صاحب نے آگے فرمایا: مولانا کا سانحۂ ارتحال صرف ان کے خاندان کے لیے ہی نہیں، بلکہ پوری ندوی برادری اور پوری انسانیت کے لیے ایک بڑا حادثہ ہے۔ مغرب کے علوم اور مغربی مصادر اور مغربی تہذیب اور اس کے مفکرین پر ان کی ایسی نظر تھی کہ ان کا اس دور میں اس وقت کوئی ثانی نہیں تھا، پروفیسر محسن عثمانی ندوی صاحب نے ابھی چند دنوں پہلے اپنے ایک مضمون میں مولانا کو مفکرین کی فہرست میں سر فہرست رکھا تھا، تمام اداروں کے تعزیت ناموں میں مولانا کو مفکر اسلام تسلیم کیا گیا ہے۔ مولانا کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انھوں نے ہمیشہ خود کو پیچھے رکھا۔ دوسروں کو آگے بڑھایا، اس صفت میں وہ منفرد تھے۔ جب وہ بولنا شروع کرتے تھے تو لگتا تھا جیسے الفاظ کا سیل رواں ہو جو روکے نہ رکتا ہو۔ آج فضلاء ندوہ میں بالخصوص پر انے ندویوں جنہیں بھی قلم پکڑنے کا سلیقہ ہے یا جو عربی میں لکھتے ہیں، وہ سب مولانا کے تربیت یافتہ ہیں، یہ لوگ اعتراف کرتے ہیں کہ مولانا نے ہمیں قلم پکڑنا سیکھایا۔مولانا کا قرآنی ذوق بہت اعلی تھا اور قرآن سے تعلق بہت گہرا تھا۔مغرب اور فجر بعد تلاوت کا معمول رہا اور وہ بڑے والہانہ انداز میں تلاوت کیا کرتے تھے۔ حدیث سے گہرا تعلق تھا۔ ان کا سب سے اعلی وصف ان کی تواضع تھی۔ مولانا نے اپنے پیچھے اپنے شاگردوں کی ایک بڑی کہکشاں چھوڑی ہے، جو اس وقت مختلف میدانوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔اس کے بعد پروفیسر ابو سفیان اصلاحی صاحب نے اپنے درد وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا: مولانا صاحب علم تھے۔ اور معرفت ربانی کی وجہ سے ہی ان میں انکساری تھی۔ مولانا کے یہاں مہمانوں کے تئیں بڑا زبردست اکرام تھا۔ کبھی کبھی میں مولانا رابع صاحب اور مولانا واضح صاحب کے پاس ایک ایک ہفتے ٹھہرا ہوں، میں نے ان دونوں حضرات میں جو انکساری اور فروتنی دیکھی، وہ بہت کم کہیں اور دیکھنے کو ملی، ان کے ٹفن اپنے گھرسے آتے تھے اور اس میں بڑا سادہ کھانا ہوتا تھا۔ ہمیشہ ان کے چہروں پر مسکراہٹ ہوتی تھی۔ قرآن وحدیث میں مومن کے جو مطلوب اوصاف بیان کیے گئے ہیں، ان دونوں حضرات میں اس کی جھلک صاف نظر آتی تھی۔وہ دریا کو کوزے میں بند کر دیتے تھے۔ طویل گفتگو کو مختصر لمحوں میں بیان کرنے کا انھیں فن آتا تھا۔ نقد کا جو شعور تھا، وہ مولانا میں تھا۔ مولانا صاحب زبان تھے اور زبان کی باریکیوں سے واقف تھے۔ ان کے بعد انجینئر خالد فریدی صاحب نے اپنے احساسات ذکر کرتے ہوئے کہا مولانا واضح صاحب میرے ماموں بھی تھے، خالو بھی تھے۔ میں نے انھیں اور ان کے بھائیوں کو بڑے قریب سے دیکھا ہے۔ جب ہم وہاں جاتے تھے تو بڑی محبت سے پیش آتے تھے، میں نے انھیں سنہ ۱۹۵۰ء سے دیکھا ہے، میں نے اپنی زندگی میں والدین کے اتنے تابعدار بچے نہیں دیکھے۔ جب وہ آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت کرتے تھے ان کے والد نے انھیں ملازمت چھوڑ نے کے لئے کہا، انھوں نے فورا ہی استعفیٰ دے دیا۔ یہ ان کی سعادت مندی کی عظیم مثال ہے۔ ان کا نکاح بھی بڑا سادہ ہوا، دو دن پہلے انھیں بتایا گیا کہ تمہارا نکاح ہے۔ مولانا واضح صاحب بہت زیادہ قناعت والے تھے، میں نے ایسی قناعت کہیں نہیں دیکھی۔ان کے بعد پروفیسر عبد الباری صاحب نے کہا کہ مولانا واضح صاحب علم کی آبرو تھے، اگر کسی کو علم کی آبرو دیکھنی ہوتی، تو وہ مولانا واضح صاحب کو دیکھ لیتا۔ انھوں نے مولانا کی تواضع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجلس میں ، اسٹیج پر ہوتے تھے اور پتہ نہیں چلتا تھا کہ وہ بھی ہیں ۔ان کے بعد پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا مولانا کی وفات پوری انسانیت کے لئے بڑے صدمے کی بات ہے، وہ بڑے عظیم انسان اور جلیل القدر عالم تھے، ایسے لوگ بڑی مدتوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی گفتگو قرآنی رنگ میں رنگی ہوئی تھی انھوں نے اپنے گہرے تاثر اور تعلق کا اظہار کیا۔ اخیر میں صدر محترم پروفیسر احتشام صاحب نے اپنے درد و غم کا اظہار کیا، انھوں نے کہا کہ میرا مولانا سے بڑا گہرا تعلق تھا، وہ بڑے آدمی تھے، بہت بڑے عالم تھے، اور میرے سب سے بڑے دوست تھے۔  ان کے مضامین اور ان کی تحریریں نشان راہ ہوتی ہیں، ان کے چلے جانے سے ملت کا بڑا خسارہ ہوا ہے، اللہ سے دعا ہے کہ ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ اور متعلقین و احباب کو صبر جمیل سے نوازے۔ صدرجلسہ کی دعا پر اس مجلس کا اختتام ہوا۔ اس موقع پر علی گڑھ شہر کے ممتاز اور نامور شخصیات نیز مدرسۃ العلوم الاسلامیہ کے جمیع اساتذہ و طلبہ موجود رہے۔ 

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close