مضامین و مقالات

جس سے ڈرتے تھے وہی بات ہوگئی- عارف حسین طیبی

جس سے ڈرتے تھے وہی بات ہوگئی- عارف حسین طیبی

مضمون کے ساتھ چسپاں تصویر گذشتہ کل کی ہے یہ وہی تصویر ہے جسکو ہم لوگ اصل میں دیکھنا چاہتے ہیں زیر نظر تصویر اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ ہم لوگ ایک ہی بل سے بار بار ڈسے جارہے ہیں یہ تصویر ہماری اس لاپرواہی کا نتیجہ ہے جسے ہم کبھی سدھارنا ہی نہیں چاہتے آج ملک کی یہ حالت ہے کہ ہر چہار جانب سے ایک طبقے کو نشانہ بنایا جارہا ہے راہ چلتے لوگ ہجومی تشدد کے شکار ہورہے ہیں لیکن ان سب باتوں کو جاننے کے باوجود ہم لوگ ایسی نادانیاں کر جاتے ہیں کہ جسکے تصور ہی سے بدن میں سحرن طاری ہوجاتی ہے
آج ایسا لگتا ہے کہ ہمارے سینوں میں دل کی جگہ پتھر منجمد ہوگیا ہے ورنہ ایسی کیا ضروت آن پڑی کہ ہم اور ہمارا سماج معصوم بچوں کو تعلیمی ہجرت پر مجبور کر رہے ہیں یہ تصویر اپنے آپ میں بہت کچھ بیاں کرتی ہے اور ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر کب تک ہم لوگ اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرتے رہیں گے کب تک یہ معصوم جان اغیار کے زودو کوب اور غلط رویے کا شکار ہوتے رہیں گے کب تک یہ معصوم بچے اپنی جسامت و قدامت سے زیادہ وزنی رخت سفر ڈھوتے رہیں گے ہمارے سیمانچل میں اعلی اور معیاری دینی تعلیمی مراکز ہونے کے باوجود ان معصوموں سے اور کتنی قربانیاں لی جائینگی
ذلت وخواری کے قعر عمیق میں کب تک ان معصوم فرشتہ صفت بچوں کو ہم ڈھکیلتے رہیں گے اس سے پہلے بھی راقم الحروف نے ایک تحریر کے ذریعہ بڑی تفصیل سے اس بات پر زور دیکر عوام الناس سے اپیل کی تھی کہ برائے مہربانی اپنے جگر کے ٹکڑوں کو تعلیمی ہجرت پر مجبور نہ کریں لیکن آج جو تصویر نکل کر سامنے آئی ہے یہ ہم سب کی لاپرواہی یا بے خبری کا نتیجہ ہے اس دور پر فتن میں جہاں ٹرین کا سفر کسی خطرے سے کم نہیں باطل اور فسطائی طاقتیں ہماری تعاقب میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ایسے میں اپنے کم سن بچوں کو صرف اسلئے گھر سے بھیج دینا کہ وہ دین کی تعلیم حاصل کرنے جارہا ہے بہت بڑی نادانی ہے
زیر نظر تصویر سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ چلتی ٹرین سے بچے صرف اسلئے اتار لئے گئے کہ یہ خاص مذہبی شناخت رکھتے ہیں آپ خود سوچئے ان معصوم جانوں پر کیا گزرتی ہوگی جب بھوکے پیاسے پولیس حراست میں اپنی رہائی کی بھیک مانگتے ہونگے لائق مبارک باد ہیں جمیعتہ علما ہند کی ٹیم جو وقت رہتے ان بچوں کو پولیس حراست سے آزاد کرانے میں کامیاب رہے ورنہ نہ جانے اور کتنے دن ان بچوں کو اپنی بے گناہی کی سزا کاٹنی پڑتی

ایک بار پھر باشندگان سیمانچل سے میری مؤدبانہ گزارش ہے کہ برائے مہربانی اپنے معصوم بچوں پر رحم کھائیے اور مزید انہیں ذلیل اور رسوا ہونے سے بچائیے اور اپنے اطراف و اکناف ہی کے تعلیمی ادروں میں انکا داخلہ کرائیے یہ بچے آپکی محبت و شفقت ، پیار اور توجہ کے طالب ہیں اور یہ انکا بنیادی حق بھی ہے انکو انکے حقوق سے فراموش مت کیجئے اعلی تعلیم کے لئے انکے پاس مستقبل میں سفر کے ہزاروں مواقع آئینگے کم از کم بنیادی تعلیم انکو آپکے سایے میں تو حاصل کرنے دیجئے
اور اپنے معصوم بچوں کو اپنی نظروں سے دور کرکے انکا بچپن مت چھینئے

اللہ کرے زیر نظر تصویر کو دیکھکر ہم سب کو بات سمجھ میں
آجائے

( یہ تصویر آپکو بے چین بھی کرسکتی ہے )

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close