دیوبند

جس دل میں خدا کا خوف ہوتا ہے اسے پھر کسی کا خوف نہیں ہوتا

جامعہ رحمت گھگرولی میں منعقدہ رحمت کانفرنس سے مولانا حکیم عبداللہ مغیثی کا خطاب

دیوبند، 21؍ مارچ (رضوان سلمانی) جامعہ رحمت گھگرولی سہارنپور میں 12ویں رحمت کانفرنس کے زیر اہتمام ایک جلسہ اصلاح معاشرہ و دستاربندی حفاظ کرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز قاری محمد طالب کی تلاوت قرآن پاک اور مولانا علاؤ الدین جلال آبادی کی نعت پاکؐ سے ہوا، جلسہ کی صدارت آل انڈیا ملی کونسل کے قومی صدر ورکن تاسیسی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مولاناحکیم محمد عبداللہ مغیثی نے کی اور سرپرستان کی حیثیت سے مولانا محمد سعیدی ناظم و متولی مدرسہ مظاہر علوم وقف سہارنپور ،مولانا محمد طاہر شیخ الحدیث رائے پور،مولانا محمد عارف قاسمی ،صوفی معین الدین خانقاہ پٹھیڑ،شاہ عتیق خانقاہ رائے پور،مولانا ریاض الحسن ندوی مظاہری استاذ مظاہر علوم وقف سہارنپور شریک رہے۔ نظامت پروگرام کے کنوینر (مولانا ڈاکٹر) عبد المالک مغیثی ضلع مہتمم جامعہ رحمت و مفتی محمد صابر قاسمی شیخ الحدیث جامعہ احمد العلوم خان پور مشترکہ طور پر کی۔بعد ازاں پروگرام میں تشریف لائے علماء کرام کا تعارف پیش کیا اور جلسہ کے اہداف ومقاصد بیان کئے۔

آغاز میں طلبہ جامعہ ہذا کا پروگرام پیش کیا گیا جس میں طلبہ نے اپنی تقاریر،نعتیں پیش کیں۔ مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ دینی مدارس کو دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی اور نہ ہی انھیں مٹایا جاسکتا ہے۔ مدارس کی ذمہ داری اللہ تعالی پر ہے،لہٰذا ہم اللہ پر بھروسہ اور اعتماد رکھیں اور اسکے تمام احکام پر عمل پیرا ہوں۔ آج مسلمانوں پر بظاہر مشکل حالات نظر آرہے ہیں لیکن یہ بات یاد رہے کہ ظلم ہمیشہ نہیں رہتا،تاریکی کے بعد روشنی ضرور آتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے لہٰذا ہم اپنے آپ سے مکمل طور پر شرعی زندگی گزارنے کا عہد کریں تبھی دنیاوی پریشانیوں سے نجات ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جس دل میں خدا کا خوف ہوتا ہے اسے پھر کسی کا خوف نہیں ہوتا ہے، اسی طرح انھوں نے نمازوں کی پابندی کے ساتھ ادائیگی کی تاکید کی اور اپنے گھریلو اور معاشرتی نظام کو خوبصورت بنانے پر زور دیا۔ علامہ مفتی عبدالغنی ازہری الشاشی مہتمم دارلعلوم نظامیہ بادشاہی باغ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری سب سے بڑی کمی یہ کہ ہمارا تقدیر پر ایمان نھیں،ہم نے اللہ سے دوری بنالی ہے،یاد رہے ہم اللہ تعالیٰ کو جتنا یاد کریں گے اللہ تعالیٰ بھی ہمیں اتنا ہی یاد کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم زوال کی جانب اس لئے ہیں کہ ہم حرص و ہوس اور مال و دولت کی طرف چل پڑے ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ سب سے بڑا فتنہ وہ ہے جو اندھا،گونگا اور بہرا ہوگا اور آج یہی فتنہ ہر جانب نظر آتا ہے،ہماری عقل،شعور اور بیداری ختم ہوچکی ہے،جب تک اللہ تعالی کا نور ہمارے دلوں میں پیدا نہیں ہوگا تب تک ہمارے کام نہیں بنیں گے۔دارالعلوم وقف کے استاذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اصلاح معاشرہ کے کے لئے لازمی اور ضروری ہے کہ آدمی پہلے اپنی اصلاح کرے ، فرد کی اصلاح سے جماعت کی اصلاح کی راہیں ہموار ہوںگی، ہر آدمی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اخلاق وکردار کو درست کرے اور خود کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لئے تیار ہو۔ مولانا شوکت علی بستوی استاذ دارالعلوم دیوبند نے کہا کہ تمام کتابوں میں سب سے مقدس کتاب قرآن پاک ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لی ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ قرآن سیکھتے تھے اور بھوکے رہ رہ کر بھی پڑھتے تھے۔

اسی طرح یہ مدرسے کے طلبہ وہی دینی تعلیم سیکھتے ہیں اور تبلیغ کرتے ہیں،آج جہاں بھی علم دین نظر آرہا ہے وہ انھیں اکابر دیوبند اور اکابر اہل حق کی بدولت ہے،لہٰذا انکی قدر اور احترام نہایت ضروری ہے۔ مفتی عمران قاسمی استاذ و مفتی دارالعلوم وقف دیوبند نے کہا کہ اسلام میں انسان کی تعلیم و تربیت اور اخلاق پر بہت زور دیا گیا ہے،لفظ اقرا سے نبوت کا آغاز ہوا،آپﷺ کی ذات تمام انسانوں کے لیے نمونہ قرار پائی اور آپ نے کہا کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے۔پھر ایک دوسرے موقع پر آپ نے کہا کہ مجھے اعلی اخلاقی اقدار ہی کو مکمل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔لہٰذامسلمان ان چیزوں کی طرف اپنی خصوصی توجہ مبذول کریں۔مولانا محمد عاقل مہتمم مدرسہ بدرالعلوم گڑھی دولت نے رمضان المبارک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کی آمد سے قبل رمضان سے استفادے کے لئے شعوری تیاری، اہلِ ایمان کی دینی حِس ضروری ہے۔ مفتی ناصر الدین مظاہری نے کہا کہ تمام تعصبات خاندانی تفوق، ذات برادری کی اونچ نیچ قومی وعلاقائی عصبیت اور برادری واد جاہلیت ہے جن سے بہت سارے معاشرے تباہ ہوگئے انھیں ختم کرنا اور اسلامی رنگ میں رنگنا وقت کا تقاضہ ہے۔قاضی ابو ریحان فاروقی نے اپنے بیان میں کہا کہ بہترین آدمی وہ ہے جو لوگوں میں سب سے زیادہ نفع پہنچائے،ہمیں دین متین کی خدمت کرنا ہے،

نبی کی سنتوں کو پہچاننا ہے،انکو اختیار کرنا ہے اور اپنی زندگی کو سنوارنا ہے۔مولانا فیصل ندوی استاذ حدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے اپنی تقریر میںکہا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت جو ظلم و زیادتیاں تھیں وہ عروج پر تھیں،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا گیا،صحابہ نے آپؐ کی سیرت کو اپنی زندگی میں اتارا اور کامیاب ہوئے،ہمیں بھی نبی پاک ؐ کی ذات اور آپؐ کی سیرت کو کامیابی کے لئے نمونہ بناناہوگا۔مولانا سید عبد العلی حسنی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو چیز زیادہ نفع بخش ہوتی ہے وہ باقی رہتی ہے اور نبی پاک ؐکی سیرت زیادہ نفع بخش ہے،آپکے اخلاق،آپکی تعلیمات آپکی پوری زندگی ہمارے لئے سب سے زیادہ نفع بخش ہے۔ پروگرام میں متعد علمائے کرام اور ممتاز شخصیات کے خطاب ہوئے جن میں،مولانا محمد ہاشم مہتمم جامعہ کاشف العلوم چھٹمل پور،مولانا ظہور احمد قاسمی صدر جمیعۃ علماء ضلع سہارنپور،مولانا عبدالرشید مہتمم مدرسہ فیضان رحیمی مرزاپور،مفتی صابر شیخ الحدیث و نائب مہتمم جامعہ احمدالعلوم خانپور،مولانا عبدالخالق مغیثی ناظم تعلیمات جامعہ رحمت،مولانا محفوظ الرحمن ضلع صدر ملی کونسل شاملی،مولانا توقیر احمد قاسمی استاذ و نگران شعبہ انگریزی دارالعلوم دیوبند،مولانا واصل الحسینی ناظم مدرسہ زاہدیہ فیض کامل،مفتی عطاء الرحمن جمیل قاسمی،مفتی مظہر ندوی ، مفتی مالوہ، حاجی فضل الرحمن علیگ ایم پی مظاہر رانا اور علی خان برادر عمر علی خان ایم ایل اے وغیرہ خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔اخیر میں جامعہ ہذا کے 13 حفاظ کرام کی دستار بندی کی گئی اور انھیں سند سے نوازا گیا اور ایک جوڑے کا نکاح بھی آسان و مسنون نکاح مہم کے تحت عمل میں آیا۔آخر میں پروگرام کے کنوینر مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button