بہارپٹنہ

جامعہ رحمانی مونگیر : شعبہ تخصص فی الافتاء کا تاسیسی وافتتاحی اجلاس

شعبہ تخصص فی الافتاء کے قیام کا مقصد ایسا گروہ تیار کرنا ہے جو اللہ کے لیے کام کرے اور قرآن وحدیث کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کا حل پیش کرسکے :امیر شریعت

مونگیر ۲۹؍ جون ۲۰۲۲ء (ہندوستان اردو ٹائمز) مفتی اللہ کے نائب کی حیثیت سے فتویٰ پر دستخط کرتا ہے؛ اس لیے فتویٰ دینے میں بہر حال احتیاط کو ملحوظ رکھنا چاہیے – مولانا بدر الحسن قاسمی، کویت بہ روز سوموار، 27 جون 2022 دن کے دس بجے خانقاہ رحمانی کی عظیم الشان مسجد میں جامعہ رحمانی کے شعبہ تخصص فی الافتاء کا تاسیسی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سرپرست جامعہ رحمانی و سجادہ نشین خانقاہ رحمانی امیر شریعت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی، جب کہ مہمان خصوصی کے طور پر مجلہ الداعی عربی دار العلوم دیوبند کے سابق ایڈیٹر اور المعھد العالی للتدریب فی القضاء و الافتاء امارت شرعیہ پٹنہ کے صدر، کویت کی وزارت اوقاف وشؤون اسلامیہ کے رکن حضرت مولانا بدر الحسن قاسمی صاحب تشریف لائے۔ اجلاس میں جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے تمام اساتذہ، کارکنان اور طلبہ نے شرکت کی –

اجلاس کا آغاز جناب مولانا قاری محمد وسیم اختر صاحب قاسمی کی تلاوت اور جناب مولانا منظر قاسمی رحمانی صاحب کی نعت سے ہوا، اس کے بعد جامعہ رحمانی کے استاذ حدیث جناب مولانا جمیل احمد صاحب مظاہری نے فقہ و فتاوی کی ضرورت واہمیت پر مختصر وقت میں مفصل روشنی ڈالی، تدوین فقہ کی مختصر تاریخ کو بیان فرمایا اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات اور فقہ میں امام اعظم ابوحنیفہ کی دسترس اور قدرت کو بیان فرمایا اور 40 فقہاء پر مشتمل فقہ کمیٹی اور اس کے استنباط و استخراج کے طریقہ کار کو بتلایا ، انہوں نے فرمایا کہ اس کمیٹی نے تقریباً 6000 ہزار یا امام ابوبکر ابن عتیق رحمہ اللہ کے ایک قول کے مطابق 5لاکھ مسائل کو مستنبط فرمایا جن میں 48/ ہزار عبادات سے متعلق ہیں اور باقی معاملات سے متعلق مسائل ہیں۔

اس کے بعد جامعہ رحمانی کے استاذ حدیث و فقہ جناب مولانا مفتی ریاض احمد قاسمی صاحب نے فقہ حنفی کا تعارف، اس کی تدوین تاریخ، ائمہ احناف کی اصولی کتابوں، چالیس فقہاء پر مشتمل کمیٹی اور اس کے نمایاں کارناموں کو مفصل اور مدلل انداز میں بیان کیا۔
جامعہ رحمانی کے استاذ حدیث و فقہ جناب مولانا مفتی جنید احمد قاسمی صاحب نے جامعہ رحمانی کے شعبہ افتاء کے قیام، پس منظر اور اس کا تعارف پیش کیا، آپ نے اپنے خطاب میں جامعہ رحمانی کی فقہی خدمات اور فقہی شخصیات پر مختصر روشنی ڈالی اور بتایا کہ جامعہ رحمانی کی زمین اور یہاں کا ماحول اول دن سے فقہی رہا ہے۔

اس شعبہ کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ اس کی بنیاد استدلال و استنباط پر ہے، آپ نے شعبہ افتاء کی تدریس، مسائل کے استنباط اور تمرین افتاء کے طریقہ کار کو بتلاتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے مسئلہ کو قرآن مجید سے تلاش کریں گے پھر حدیث شریف سے پھر فقہی کتابوں سے حل کیا جائے گا، آپ نے بتایا کہ:
1- ہر سبق کے بعد معرفت، فہم، ترکیب، تجزیہ،تشخیص،اور تحلیل کی جانچ کی جائے گی۔تاکہ معلوم ہو سکے کہ طلبہ نے کتنا سمجھا ہے-
2- دوسرے دن سبق پڑھانے سے پہلے، پہلے دن کے پڑھائے ہوئے سبق کی جانچ کی جاتی ہے؛ تاکہ معلوم ہو سکے ان مہارات پر کتنا قابو ہو سکا ہے۔ اس کی جانچ کے بعد آگے کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔

اسی طرح آپ نے کہا: کوشش کی جاتی ہے کہ پرانے موضوعات پر نئے مسائل حل کرنے کے لیے دئیے جائیں۔
3- مقالہ نویسی: مقالہ میں رموز املاء کی خاص تعلیم دی جاتی ہے۔ طلبہ کو عربی میں مقالہ لکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ حوالہ اولی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ سلاست، روانی اور درست معلومات درج کرنے کی کوشش جاتی ہے۔
4- الأشباہ والنظائر اور قواعد الفقہ کے ہر سبق؛ بلکہ ہر قاعدہ سے استخراج مسائل کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اخیر میں آپ نے ان تمام اساتذہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس شعبہ کے نصاب پر نظر ثانی کی اور مختلف قسم کی رائے دے کر شعبہ کا کسی نہ کسی طرح تعاون فرمایا۔انھوں نے عالم عرب کے ان علماء کرام کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے باریکی کے ساتھ شعبہ کے منہج کو دیکھا اور رائے دی۔ ان میں شیخ عیاد ہلال اور شیخ ابو طارق قابل ذکر ہیں۔

انہوں نے جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کا پیغام پڑھ کر سنایا:نے جامعہ رحمانی کے ذمہ داروںبہ طور خاص حضرت امیر شریعت ثامن مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کو مبارک باد دی۔ اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اور اس شعبہ کے قیام کو جامعہ رحمانی کا تاریخی کارنامہ قرار دیا۔ مولانا نے اپنی تحریر کے ذریعہ پروگرام میں شریک نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انھوں نے حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمہ اللہ، مولانامنت اللہ رحمانی مولانا زبیر احمد قاسمی اور حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمہم اللہ کی فقہی بصیرت کے چند گوشوں کو اجاگر کیا۔

جامعہ رحمانی کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد اظہر صاحب مظاہری نے فقہ حنفی کے فروغ کے اسباب پر روشنی ڈالی۔آپ نے فرمایا کہ فقہ حنفی حقیقت میں قرآن وحدیث کا مغز، اس کا نچوڑ اور خلاصہ ہے، آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس کے فروغ کی اصل وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امام صاحب کو اور آپ کی فقہ کو شرف قبولیت سے نوازا اور بظاہر دوسری وجہ یہ ہے کہ جو آپ نے فقہی کمیٹی تیار کی تھی اس کی وجہ سے فقہ حنفی کو فروغ ملا۔
اس کے بعد استاذ الاساتذہ جناب مولانا عبد السبحان رحمانی صاحب نے شعبہ تخصص فی الافتاء کے قیام پر اپنے تاثرات کا اظہار فرمایا اور جامعہ رحمانی کے علمی دائرہ کی وسعت پر خوشی کا اظہار کیا۔

اخیر میں مہمان محترم حضرت مولانا بدر الحسن صاحب قاسمی نے جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر اور امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی نور اللہ مرقدہ اور امیر شریعت سابع مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے اپنے دیرینہ تعلقات کا اظہار کیا۔ مزید اپنے قیمتی تجربات اور موجودہ دور میں شعبہ افتاء کی ضرورت واہمیت پر مفصل روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی اپنے طویل تجربات کی روشنی میں افتاء کے طلبہ کو فقہ و فتاوی میں مہارت قدرت پیدا کرنے کے نت نئے طریقے کی راہ نمائی فرمائی اور مطالعہ کی کثرت خصوصاً فقہی مباحث اور قرآن وحدیث کی روشنی میں نئے مسائل کے حل پر زور دیا۔

سب سے اخیر میں سرپرست جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر امیر شریعت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا کہ اس شعبہ کے ذریعہ ہمیں ایسا گروہ تیار کرنا ہے جو اللہ کے لیے کام کرے اور قرآن وحدیث کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کا حل پیش کرسکے، مزید آپ نے اس شعبہ کے قیام کے مقاصد اور اہداف کو بیان فرمایا،اجلاس کی نظامت ناظم تعلیمات جامعہ رحمانی مولانا محمد خالد صاحب رحمانی نے کی۔حضرت ہی کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button