پٹنہ

جامعہ رحمانی مونگیر : جوش وخروش کے ساتھ منائی گئی یوم جمہوریہ تقریب

مونگیر ۲۸؍ جنوری ۲۰۲۳ء (محمدمجاہد الاسلام رحمانی،ہندوستان اردو ٹائمز) جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں یوم جمہوریہ پورے تزک واحتشام کے ساتھ منایا گیا، کلاس روم دانش گاہ کے سامنے سوا آٹھ بجے اور جامعہ رحمانی کے وسیع وعریض میدان میں ساڑھے آٹھ بجے پرچم کشائی کی گئی، جامعہ رحمانی کے وسیع وعریض میدان میں جامعہ رحمانی کے جنرل سکریٹری جناب الحاج مولانا محمد عارف صاحب رحمانی نے پُروقار پرچم کشائی کی ، جب کہ دانشگاہ کے میدان میں جامعہ رحمانی کے ناظم تعلیمات جناب مولانا عبد الدیان صاحب رحمانی نے پرچم کشائی کی رسم ادا کی، اس موقعہ پر جامعہ رحمانی کے طلبہ ، اساتذہ، منتظمین ، کارکنان ، خانقاہ رحمانی کے خدام اور قرب وجوار کے محلہ کے لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے، سبھوں کے درمیان اس موقعہ پر مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں، پرچم کشائی کی تقریب کا اہتمام مولانا عبد العظیم رحمانی اور مولانا رضی احمد صاحب رحمانی نے کیا۔

پرچم کشائی کے بعد تقریر کا ایک شاندار پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں جامعہ رحمانی کے متعدد طلبہ نے اردو، ہندی، انگریزی اور عربی زبان میں یوم جمہوریہ کی حقیقت ، دستور کی عظمت ، بنیادی حقوق کے دفعات ، رہنما اصول ، دستور ساز کمیٹی اور اس کے کارنامے جیسے عنوانات پر تقریریں کیں۔پروگرام کے آر گنائزر مولانا عبد العلیم رحمانی تھے۔
اس موقعہ پر جامعہ رحمانی کے تین اساتذہ مولانا محمد خالد رحمانی، مولانا محمد رضاء الرحمان رحمانی اور مولانا نور الدین صاحب ندوی کی تقریریں بھی ہوئیں، مولانا محمد خالد رحمانی نے کہا کہ دستور سازی میں تمام طبقات کی حصہ داری ہے، مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی حصہ لیا، مسلم علماء و دانشوروں کی ایک بڑی تعداد اس میں شریک رہی، انہوںنے کہا کہ جس طرح دستور سازی میں ہر ایک کی حصہ داری رہی ہے، دستور میں بھی ہر ایک کو اس کا حصہ ملا ہے، مولانا رضاء الرحمان رحمانی نے کہا کہ ہمارادستور جتنا اچھا ہے، آج اس کی اتنی ہی پامالی کی جارہی ہے، اور اس کے الگ معانی ومطالب نکال کر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو پریشان کیا جارہا ہے، اور دوسرے درجہ کا شہری بننے پر مجبور کیا جارہا ہے، انہوںنے کہا کہ آج انصاف، آزادی،مساوات اور اخوت کا جنازہ نکالا جارہا ہے، جو دستور کی روح ہے، اور دستور کی بالا دستی کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، مولانا نور الدین صاحب ندوی کی صدارت میں یہ تقریب منعقد ہوئی ، انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہمارے ملک کو سیکولر دستور کو شروع سے ہی خطرہ رہا ہے، مگر آج یہ خطرہ زیادہ بڑھ گیا ہے، کیونکہ اقتدار پر آج ان کا قبضہ ہوگیا ہے، جو اس دستور کے ہمیشہ مخالف رہے ہیں۔

اس پروگرام میں جامعہ رحمانی کے اساتذہ وکارکنان مولانا عبد السبحان صاحب رحمانی، مولانا محمد نعیم صاحب رحمانی، مولانا جمیل احمد صاحب مظاہری، مفتی ریاض احمد صاحب قاسمی، مولانا عبد الدیان صاحب رحمانی ،جناب الحاج حافظ رضی احمد صاحب رحمانی، مفتی عثمان صاحب قاسمی، مولانا مجاہد الاسلام صاحب رحمانی، مولانا منظر قاسمی، مولانا عبد السلام رحمانی، حافظ محمد امتیاز صاحب رحمانی،مولانا رفیع احمد صاحب رحمانی ، حافظ سمیع الدین صاحب رحمانی، مولانا انظر حسین صاحب قاسمی، مفتی نصر اللہ صاحب مظاہری، مولانا کبیر الدین صاحب رحمانی،مفتی اعجاز صاحب قاسمی، مفتی مبارک حسین صاحب قاسمی، حافظ اکرام الحق صاحب رحمانی، قاری محمد جوہر نیازی صاحب رحمانی ،دارالحکمت کے ذمہ دار جناب مولانا صالحین صاحب ندوی کے علاوہ اساتذہ دارالحکمت اور کناڈا سے تشریف لائے مہمان جناب سید حسن صاحب ، مہمان کے ہمراہ مونگیر شہر جناب سیف الحسن صاحب روائل بوٹ ہائوس نے شرکت کی۔ پروگرام کی نظامت جامعہ رحمانی کے شعبہ صحافت کے ایچ او ڈی فضل رحماں رحمانی نے کی۔اور صدر اجلاس مولانا نور الدین ندوی کی دعاء پرتقریب ختم ہوئی۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button