ممبئی

لاؤڈاسپیکر میں اذان دیکر گھروں میں نمازیں اداء کرنے کی اپیل کی جائےائمہ وذمداران مساجد سے قاضی شریعت جالنہ کی گذارش !

جالنہ (شیخ احمد جالنوی ) اس وقت ہمارے ملک میں کروناوائرس کی روک تھام کیلئے لاک ڈاؤن جاری ہے جس کے تحت مساجد میں بھی نماز کی ادائیگی کے لیے آنے کی عام اجازت نہیں ہے شہریان مسجد کی جماعت اور اذان کے سلسلے میں بہت تشویش میں مبتلاء نظر آرہے ہیں اور مائک میں اذان واعلان نہ ہونے کی بناء پر بڑی تعداد میں لوگ مساجد کا ر خ کر رہے ہیں اس لئے حالات کے پیش نظر قاضی شریعت جالنہ نے ائمہ وذمداران مساجد سے گذارش کی ہے کہ اذانیں مائک میں ہی ہو اور بعد اذان مائک میں یہ اعلان کیا جائے کہ تمام حضرات اپنے گھروں پر ہی نمازیں اداء فرمائیں اور کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے حکومت کی طرف سے دی جانے والی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور بلا کسی سخت مجبوری کے گھروں سے ہر گز نہ نکلیں آپ نے درج ذیل چند تجاویز بھی پیش کی ہے اور کہاہے کہ جب تک ہمارے علاقے میں کوناوائرس والی وبائی بیماری کے پھیلنے کا اندیشہ باقی ہے ان تجاویز پر ضرور عمل فرمائیں اور حکومت اور ادارۂ صحت کی طرف سے دی جانے والی ان تمام ھدایات پر خود بھی عمل کریں اور اپنے محلے کے لوگوں کو بھی عمل کروائیں جن پر عمل کرنے کی شریعت میں کسی بھی درجہ میں گنجائش ہو نیز مساجد میں بھی ان ھدایات کے مطابق احتیاطی تدابیر پر عمل کریں.
عا م ہدایات.. توبہ و استغفار اور نماز وصدقہ خیرات کاخودبھی خوب اہتمام کریں اور اپنے متعلقین سے بھی اہتمام کروائیں.
مسجدمیں جماعت اور جمعہ کو موقوف نہ کریں بلکہ مسجد میں جماعت اور جمعہ جاری رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں البتہ شرکت کرنے والے افراد کی تعداد کوانتظامیہ کی قانونی ھدایات کے مطابق محدود کردیں.
محلے کے لوگوں کو یہ بات سمجھائیں کہ آپ قانونی طور پر رکاوٹ کی وجہ سے مسجد کی حاضری سے معذور ہیں اس لئے اگر آپ اپنے گھر میں اپنے بال بچوں کے ساتھ جماعت سے نماز ادا فرمائیں گے تو ان شاء اللہ پورا ثواب ملے گا.اور ان کو ھدایت کریں کہ مسجد کی حاضری سے معذوری کی صورت میں بھی گھروں پر نمازباجماعت کا پورا اہتمام کریں. گھروں میں اپنی مستورات اور بچوں کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنے سے متعلق مسائل علماء کرام سے معلوم کریں اور ان پر عمل کریں.
جن مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان کا معمول ہیں ان مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر کی اذان بند نہ کریں اس میں بہت سے مفاسد ہیں. ہوسکے تو اذان کے بعد اردو زبان میں لوگوں سے اپیل کریں کہ وہ کرونا وائرس کے حملے سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور اپنے اپنے گھروں میں نماز باجماعت ادا کریں.
گرانتظامیہ کی طرف سے جمعہ کے موقع پر بھی زیادہ افراد کے جمع ہونے پر قانونی پابندی رہیں تو مسجد میں جمعہ ادا کرنے کے لئے شرعی طورپرکم از کم جتنے افراد کی شرکت ضروری ہیں اتنے افراد کے ساتھ مختصر خطبہ اور نماز کے ذریعہ جمعہ ادا کرلیا جائے. اسی طرح جن گھروں میں شرعی اور قانونی حدود میں رہ کر جمعہ ادا کیا جاسکتا ہو اس گھر میں بھی جمعہ ادا کیا جائے. اور جو افراد جمعہ کی نماز ادا کرنے سے معذور ہوں وہ اپنے گھر میں ظہر ادا کریں.
ائمہ حضرات اور ذمہ داران مساجد اپنے محلے کے ہر گھر کے ذمہ دار کا فون نمبر اپنے پاس رکھیں اور مسلسل فون کرکے خیرخیریت اور گھروں پر باجماعت نماز کی تلقین وجائزہ اور گھر کے افراد کی دینی تعلیم وتربیت کے لئے رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہیں. نیز کاروبار بند ہونے کی وجہ جن غریب گھروں میں اشیاء خردو نوش میں تنگی ہوان کی پریشانی دور کرنے کے لئے محلہ کے سرمایہ داروں کو متوجہ کرتے رہیں.
فقط والسلام
عبدالرحمٰن نائیگاؤی جالنہ
دارالقضاء آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ جالنہ

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close