حیدرآباددیوبند

تین ڈاکٹروں کے سہارے چل رہا ہے دیوبند کا سرکاری اسپتال ،خراب پڑی ہے الٹرا سائونڈ مشین ، سرجن سمیت 10ڈاکٹروں کے ہیں عہدے خالی

دیوبند، 26؍ جون (رضوان سلمانی) ضلع سہارنپو رکی سب سے بڑی تحصیل دیوبند کا سرکاری اسپتال سفید ہاتھی ثابت ہورہا ہے۔ اسپتال صرف تین ڈاکٹروں کے سہارے چل رہا ہے، اسپتال میں شدید مرض میں مبتلا مریضوں کا علاج تو دور عام مریضوں کو بھی ضروری صحت کی سہولیات نہیں مل پارہی ہیں۔ میڈیا کے سامنے آیا ہے کہ مریضوں کو صحت کے متعلق سہولیات مہیا کرانے والے اسپتال کو خود علاج کی ضرورت ہے۔ سوالات کی آبادی والے شہر دیوبند میں واقع سرکاری اسپتال 30سالوں سے قائم ہے لیکن یہاں پر سہولیات نہ کہ برابر ہے۔ میڈیا نے اسپتال پہنچ کر لوگوں کا حال چال جانا تو معلوم ہوا کہ مذکورہ اسپتال میں 13عہدے ڈاکٹروں کے ہیں لیکن صرف عام بیماری کے علاج کے لئے یہاں پر صرف تین ڈاکٹر تعینات ہیں،

بڑی بیماری یا پھر شدید طورپر زخمی ہونے والے افراد کو یہاں سے ضلع ہیڈ کوارٹر ریفر کرنا پڑتا ہے۔ اس اسپتال میں نہ تو سرجن کی تعیناتی ہے اور نہ ہی اینستھیٹس ، ریڈیو لوجسٹ اور آرتھوپیڈک سرجن ہیں ۔ اسپتال میں 5لیب ٹیکنیشین ضرور ہیں جو اسپتال کی پیتھالوجی لیب بلڈ بینک ، ایکسرے اور شوگر کی جانچ وغیرہ کا کام کرتے ہیں۔ الٹرا سائونڈ مشین گزشتہ کئی سالوں سے خراب حالت میں پڑی ہے ، کچھ مریضوں سے میڈیا کی ٹیم نے بات کی تو انہوں نے اسپتال کی خامیاں بتائیں ، صبح ساڑھے دس بجے اسپتال میں ملے شیو وہار کالونی کے رہنے والے سریندر کمار نے بتایا کہ وہ گزشتہ کل کتے کے کاٹنے پر یہاں ربیز کا انجکشن لگوانے کے لئے آئے تھے لیکن انہیں واپس بھیج دیا گیا تھا ، آج دوبارہ پھر سے وہ انجکشن لگوانے کے لئے آئے ہیں۔ سوا گیارہ بجے پٹھانپورہ محلہ کے رہنے والے انکت کمار سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ پیٹ میں درد کی شکایت لے کر اسپتال پہنچے تھے لیکن ڈاکٹر موجود نہیں تھے ۔ فارمیسسٹ سے ہی درد کی دوائی لے کر واپس جارہے ہیں ۔ پونے بارہ بجے کیشپ کالونی کی رہنے والی خاتون دلائوری احاطہ میں ٹہلتی ہوئی نظرآئی ۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ٹی بی کی مریض ہیں ان کا یہاں پر صحیح طریقے پر علاج نہیں ہوپا رہا ہے ،سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ اب کہاں جائیں ، کئی مریضوں نے لیب ٹیکنیشین اور اسٹاف کے ذریعہ مریضوں کے ساتھ نازیبا سلوک کئے جانے کی بھی شکایت کی۔ اس سلسلہ میں سرکاری اسپتال کے انچارج اجے تیاگی نے بتایا کہ اسپتال میں الٹرا سائونڈ کی مشین کے لئے حکومتی سطح پر کوششیں کی جارہی ہیں ۔ اس سلسلہ میں سی ایم او کے ذریعہ حکومت کو مکتوب بھی ارسال کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ اگر کوئی اسٹاف کی بدسلوکی کی شکایت مریض کرتے ہیں تو جانچ کے بعد متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کرائی جائے گی۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button