تنقید و تبصرہ

جہیز لینے والے مرد کیا شرعی طور پر ”کُفو“ (میچِنگ) ہوسکتے ہیں؟ ڈاکٹر علیم خان فلکی

جہیزاور بارات کی نحوست نے دین اور امّت کو کتنا نقصان پہنچایا، آیئے ایک نئے زاویہ سے جائز لیتے ہیں۔ یہ خاص طور پر ان بزرگوں کے لئے غورطلب ہے جو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی شادیوں کے فریضے ادا کرکے اب پوتا پوتی اور نواسے نواسیوں کی شادیوں کے انتظار میں ہیں۔ یہ لوگ نماز روزے اور عمرے کے بڑے شوقین ہوتے ہیں، امت کی ترقی کے لئے بڑی پیاری پیاری باتیں کرتے ہیں۔ امت کو نقصان پہنچانے والے عناصر کا بہت زبردست تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں خود اِن لوگوں نے رسم و رواج کو قائم رکھنے کی کوشش میں اسلام کے احکاماتِ نکاح کو کتنا نقصان پہنچایا، بلکہ تباہ کرکے رکھ دیا۔
شادی کے لئے دوسرے مذاہب یا کلچرز میں اتنا کافی ہے کہ مرد، مرد ہو یعنی بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ہو۔ چاہے وہ بوڑھا ہو، شرابی ہو، چورہو، جہاں بھی لڑکی کے ماں باپ اس کو شادی کرکے دے دیں، عورت کو اسی کے ساتھ زندگی گزارنی ہے، مرنے تک اسی کو بھگوان سمجھ کراُس کی پوجا کرنی ہے، جس گھر میں عورت کی ڈولی جائے وہاں سے اس کا ڈولا اٹھنے تک اسی گھر میں قید رہنا ہے، جیسا بھی سلوک اس کے ساتھ کیا جائے برداشت کرنا ہے۔ لیکن اسلام نے عورت کو اس جہنّم سے باہر نکالا اور عورت کو جینے کی آزادی دی۔ اس کو شوہر کے انتخاب کا حق دیا، مہر فِکس کرنے کا اختیار دیا، سب سے بڑا اختیار یہ دیا کہ جب تک شوہر اس کے ساتھ انسانیت اور پیار سے رہے، وہ اس کا ساتھ دے سکتی ہے، اگر مرد نے اپنا رویّہ بدلا اور اس کو کمزور سمجھ کر اس کا استحصال کرنا شروع کیا تو عورت اس سے فوری خلع لے سکتی ہے۔ اسی طرح، جس طرح اگر عورت اگر سرکشی کرے تو مرد اس کو طلاق دے سکتا ہے۔ اسلام نے اس قدر شاندار اصول دیا ہے کہ جب تک پیار ہے ساتھ رہو، ورنہ خوشی خوشی الگ ہوجاؤ، اور اپنی زندگی نئے سرے سے بسالو۔ عورت کو یہاں تک آزادی دی گئی کہ مرد اگر طلاق دیتاہے تو اسے قاضی کے سامنے وجہ بیان کرنی ہوگی، لیکن اگر عورت خلع چاہتی ہے، اور قاضی کو سبب بتانا نہیں چاہتی تو قاضی عورت کو مجبور نہیں کرسکتا۔ سبحان اللہ۔ کیا دنیاکا کوئی قانون عورت کو اتنا بڑا مقام دے سکتا ہے؟ لیکن افسوس، صد افسوس کہ ہم نے ساتویں صدی میں کلمہ پڑھ کر اسلام تو قبول کیا تھا، لیکن ہمارے ذہن جو کل تک برہمن شاستر کو ماننے والے تھے، آج تک وہی ہیں۔ ہم نے عورت کو وہ مقام ہی نہیں دیا جو اسلام نے دیا تھا۔ عورت کو جتنے اختیارات اسلام نے دیئے تھے، وہ سارے کے سارے جہیز کی رسم نے ایک ایک کرکے چھین لیئے۔ آج عورت وہیں کھڑی ہے جہاں اسلام سے پہلے کھڑی تھی۔ جب عورت کو معلوم ہے کہ اس کی شادی کے لیئے ماں باپ کو گھر بیچنا پڑتا ہے، کیا وہ مرد کی ذرا سی بھی نافرمانی کرنے، طلاق یا خلع لینے کی ہمت کرسکتی ہے؟ وہ سوائے ایک لونڈی بن کر رہنے کے اور کچھ نہیں کرسکتی۔ اس کو پتہ ہے کہ اگر مرد سے الگ ہوگی تو پھر دوسرے مرد سے شادی کے لئے اس کے ماں باپ کے پاس بیچنے کے لئے کچھ نہیں ہوگا۔
شادی کے لئے اسلام نے عورت سے زیادہ مرد پر قابلیت ثابت کرنے کی شرائط رکھی ہیں۔ اس کا صرف بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ہونا کافی نہیں ہے۔ عورت سے نکاح کے لئے مرد میں جو قابلیتیں درکار ہیں اس کو ”کفاء ت“ کہتے ہیں۔ یعنی Matching, Equality, Suitablity, Adjustibility۔ جو مرد اس عورت کے قابل ہو، اس کو کُفو Match, Qualified کہتے ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں کتنے مرد ہیں جو ایک مسلمان عورت سے نکاح کے لئے کوالیفائی کرتے ہیں۔
پہلی شرط ہے لڑکا اور لڑکی دونوں مسلمان ہوں، دونوں کلمہ کا اقرار کرنے والے ہوں۔
دوسری شرط یہ ہے مرد مال یعنی پیسے میں لڑکی سے زیادہ ہو یا کم سے کم برابر ہو، لڑکی کا نان نفقہ یعنی کھانے پینے اور رہنے سہنے کا خرچ اٹھانے والا ہو۔
تیسری شرط یہ ہے کہ مرد دیانت والا ہو یعنی فاسق، فاجر، شرابی، زانی یا کسی بھی حرام کاموں کا عادی نہ ہو۔
چوتھی شرط یہ ہے خاندان، قبیلے، پیشے، کلچر اور رکھ رکھاو میں لڑکی سے بہتر ہو یا کم سے کم برابر کاہو۔ ایسا نہ ہو کہ لڑکی اس کو کسی بنا حقیر سمجھے یا اس شوہر کی وجہ سے کسی کے سامنے اسے احساسِ کمتری کا شکار ہونا پڑے۔
پانچویں شرط یہ ہے کہ لڑکے میں کوئی عیب یا بیماری ایسی نہ ہو جس کا راز بعد میں کھلے اور لڑکی کے لئے یا اس کے خاندان کے لئے باعثِ شرم ہو۔
اس کے علاوہ بھی علما اور فقہا نے کئی اہم شرائط بتائی ہیں، لیکن ہمارے مضمون کا مقصد شرعی مسائل بتانا نہیں ہے بلکہ جہیز نے جہاں دوسرے کئی اسلامی بنیادی احکامات کی اہمیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، وہیں کفو یعنی میچنگ کے احکامات بھی مکمل مذاق بن گئے، اور مرد، صرف اپنے مرد ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بالکل ہندو معاشرہ کی طرح عورت کو اسلام کے دیئے گئے رائٹس کو ختم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ پولیس اسٹیشن، عدالتیں، قاضیوں کے دفتر، وکیلوں کے آفس برقع والیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ جن بزرگوں کے چار چار بیٹے ہیں، وہ شاندار ٹوپیاں اور عمامے پہن کر نمازوں کو جاتے ہیں، اور عمرے پر عمرے کرتے ہیں۔ جن کی تین چار بیٹیاں ہو جائیں وہ ساری عمر قرضے ادا کرتے ہیں یا پھر گھر بیچ کر کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ کس طرح پوری سوسائٹی نے اس جہیز کی رسم کی آڑ میں عورت کا استحصال کیا، اور اسلامی شریعت کو ایک ایک کرکے پامال کیا۔
سب سے پہلے کلمہ کی شرط کو لیجئے۔ پچھلے ایک ہزار سال کی تاریخ پڑھئے۔ لاکھوں ہندو، انگریزاور دوسرے مذاہب کی عورتیں کلمہ قبول کرکے مسلمان مردوں سے شادیاں کرتی تھیں، کئی مغل شہزادوں کی مائیں راجپوت شہزادیاں ہوا کرتی تھیں۔ لیکن اس کا دور، دور تک کوئی تصوّر نہیں تھا کہ کبھی کوئی مسلمان لڑکی کسی غیر کلمہ گو سے شادی کرے۔ آج حالت یہ ہے کہ مسلمان لڑکیاں جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی جارہی ہیں، ان کی میچنگ کے مرد ملنا مشکل ہوگیا ہے کیونکہ لڑکے جتنا زیادہ قابل ہیں، ان کے Rate بہت زیادہ ہیں جو لڑکیوں کے باپ Afford نہیں کرسکتے۔ اس لئے لڑکیاں اب نہ سید دیکھتی ہیں نہ برہمن، نہ شیخ یا پٹھان دیکھتی ہیں نہ ریڈّی، یا سنگھ۔یہ ٹرینڈ تو گلی گلی پھیل گیا ہے، غریب لڑکیاں بھی اب جہیز کی لعنت کی وجہ سے مجبور ہوکر اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے شادیاں کرنے لگی ہیں چاہے وہ ہندو ہو، دلت ہو یا مسلمان ہو۔ شرط یہی ہے کہ جہیز اور بارات کے کھانے نہ مانگے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ارتداد جہیز کی وجہ سے نہیں بلکہ تعلیم، سوشیل میڈیا اور بے دینی کی وجہ سے آیا ہے۔ یہ جھوٹ کہتے ہیں۔ کوئی مسلمان لڑکی چاہے وہ کتنی بے دین ہو، اس کا ضمیر یہ گوارا نہیں کرسکتا کہ وہ عیاشی یا عاشقی کی وجہ سے اپنے رحم میں کسی مشرک کا نطفہ پالے۔ لیکن لوگ جب اچھے رشتے آنے کی نیّت سے لڑکیوں کو زیادہ سے زیادہ پڑھانے لگے تو اچھے رشتوں کی قیمت بہت بڑھ گئی۔ لڑکیاں اتنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اگر انہیں زیادہ قیمت دے کر مسلمان لڑکوں کو خریدنا پڑے تو و ہ اسے اپنی اور اپنی تعلیم کی توہین سمجھنے لگیں اور مجبوری میں غیر کلمہ گو لڑکوں سے شادیاں کرنے پر مجبور ہوگئیں۔ غیرقوم تو اپنی تہذیبی فتح پر جشن منارہی ہے، لیکن نہ ہمارے قابل لڑکوں کو اور نہ ان کے ماں باپ کو شرم آتی ہے کہ ان کی وجہ سے ہماری قوم کی ہزاروں لڑکیاں اسلام کے کفو کے احکامات کو توڑ کر کلمہ کا انکار کرنے والوں سے شادیاں کررہی ہیں۔
مرد کے لئے کفو ہونے یعنی میچنگ ہونے کی دوسری شرط تھی مال۔ قرآن نے یہ شرط خود فِکس کی ہے۔ سورہ نساء آیت 34 میں یہ حکم دیا کہ مرد عورت پر قوّام یعنے نگران ہوگا اسی شرط پر کہ وہ مال خرچ کرے۔ لیکن اگر وہ عورت سے منگنی اور بارات کا کھانا مانگے، پلنگ، الماری، کار، بائیک، نقد رقم مانگے تو وہ عورت کا کفو نہیں رہا۔ آج 90% مرد جنہوں نے شادیاں کی ہیں، یا ان کے بزرگ ابّاجانوں اور امی جانوں نے یہ شادیاں کروائی ہیں، یا ان کی دادیوں اور نانیوں کے ارمانوں کی وجہ سے یہ شادیاں ہوئی ہیں، وہ سارے مرد اسلامی شریعت کے مطابق کفو نہیں ہیں۔ وہ ہندو معاشرے کے انہی مردوں کی طرح ہیں جو رسم و رواج کے نام پر منہ مانگا جہیز اور نقد رقم لے کر بِکتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ مسلمان مرد شادی کے بعد عورت کی ساری زندگیمرد کے لئے کفو ہونے یعنی میچنگ ہونے کی دوسری شرط تھی مال۔ قرآن نے یہ شرط خود فِکس کی ہے۔ سورہ نساء آیت 34 میں یہ حکم دیا کہ مرد عورت پر قوّام یعنے نگران ہوگا اسی شرط پر کہ وہ مال خرچ کرے۔ لیکن اگر وہ عورت سے منگنی اور بارات کا کھانا مانگے، پلنگ، الماری، کار، بائیک، نقد رقم مانگے تو وہ عورت کا کفو نہیں رہا۔ آج 90% مرد جنہوں نے شادیاں کی ہیں، یا ان کے بزرگ ابّاجانوں اور امی جانوں نے یہ شادیاں کروائی ہیں، یا ان کی دادیوں اور نانیوں کے ارمانوں کی وجہ سے یہ شادیاں ہوئی ہیں، وہ سارے مرد اسلامی شریعت کے مطابق کفو نہیں ہیں۔ وہ ہندو معاشرے کے انہی مردوں کی طرح ہیں جو رسم و رواج کے نام پر منہ مانگا جہیز اور نقد رقم لے کر بِکتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ مسلمان مرد شادی کے بعد عورت کی ساری زندگی کفالت کرتے ہیں، ان پر ضرور خرچ کرتے ہیں، لیکن اسلام نے حکم دیا ہے کہ نکاح یا شادی کے لمحے سے ہی مرد خود خرچ کرے۔ نقد مہر ادا کرے، اپنی حیثیت کے مطابق ولیمہ دے اور سارے جہیز کا خود انتظام کرے۔ وہ جو بھی انتظام کرسکتا ہے وہ صاف صاف بتادے تاکہ لڑکی خود فیصلہ کرے کہ وہ مرد اس کے قابل ہے یا نہیں۔ لیکن جہیز کی رسم اتنی زیادہ طاقتور ہے کہ اسلام کے دیئے گئے حق کا لڑکیاں استعمال کرہی نہیں سکتیں، کیونکہ ماں باپ تو ان لڑکیوں کو ایک بوجھ سمجھتے ہیں۔ جلد سے جلد ان کی شادی کرکے رخصت کرنا چاہتے ہیں۔ شادی کے بعد پتہ چلتا ہے کہ مردوں کی اکثریت ناکارہ مردوں کی فوج ہے جو صرف ڈرائیور، واچ مین، سیلزمین یا پھر ٹھیلے والوں کے کچھ اور نہیں۔ یاپھر ان مردوں کی ہے جو ملازم پیشہ ہیں، جن کی آمدنی کو اسلام نے ”نیچے والے ہاتھ کی آمدنی“ یعنی تنخواہ یا خیرات لینے والے ہاتھ کی آمدنی قرار دیا۔
کفو کی تیسری شرط تھی دیانت، یعنی مرد اگرفاسق، فاجر، شرابی، زانی یا منکرات یعنی حرام عادتوں کا مرتکب ہو تو وہ شریف لڑکی کا کفو نہیں ہوسکتا، اس سے نکاح نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس جہیز کی رسم نے لڑکیوں سے ان کے اپنے کردار کی بھی عصمت چھین لی۔ بجائے مرد کا کردار دیکھنے کے لڑکیوں کا کردار دیکھا جاتا ہے، ان کی سیرت، نماز کی پابندی، امورِ خانہ میں مہارت، ان کے بال، رنگ، صحت، تعلیم سب کچھ دیکھے جاتے ہیں، لیکن مرد کا کردار دیکھا ہی نہیں جاتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کرتے ہیں کہ مرد کے محلے میں جاکر دو چار لوگوں سے سطحی معلومات حاصل کر لی جاتی ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کئی لڑکیاں حافظہ اور عالمہ ہوتی ہیں، ان کو بھی کئی لاکھ کا جہیز دے کر ایسے لڑکوں کے حوالے کیا جاتا ہے جن کو لڑکی کے حافظہ یا عالمہ ہونے کی کوئی خواہش بھی نہیں ہوتی۔ اس میں لڑکی کے ماں باپ خود اس فتنے کے ذمہ دار ہیں۔ اگرچہ کہ ایسی لڑکیوں کے قابل کئی حافظ یا عالم لڑکے موجود ہیں جو شریف ہیں، دیندار ہیں اور اچھا مستقبل بنا سکتے ہیں۔ لیکن لڑکیوں کے ماں باپ یہ سوچتے ہیں کہ جب ہم نے دس پندرہ لاکھ خرچ کرنے ہی ہیں تو کیوں کرائے کے مکان والے کو اپنی بیٹی دیں؟ کیوں معمولی پیشہ آدمی کو اپنی لڑکی دیں۔ اس حِرص میں جب وہ ایک ذاتی مکان والے، Well settled کو ڈھونڈھ کر بیٹی دیتے ہیں تو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ لڑکا فضول دوستوں، فلموں، غلط عادتوں اور فسق و فجور کا عادی ہے۔ لڑکوں کا کردار تو اس وقت دیکھا جاتا جب جہیز کی بلیک میلنگ نہ ہوتی۔ کیونکہ کئی وقت ایسے بھی ہوتا ہے کہ لڑکی کے والدین جتنا پیسہ خرچ کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں، اس رقم میں فاسق فاجر قسم کے لڑکے ہی ملتے ہیں، اور ماں باپ مجبور ہوتے ہیں کہ جو بھی ملے بس لڑکی کے ہاتھ پیلے کردو۔
کفو کی چوتھی شرط تھی خاندان، قبیلہ، پیشہ، رکھ رکھاو، کلچر، زبان وغیرہ۔ اسلام نے کہا کہ قریش عورت کا غیر قریشی مرد کفو نہیں ہوسکتا۔ اگر مرد قبیلے میں کم ہوگا تو وہ اس پر برتری Superiority کا رویّہ رکھے گی۔ حضرت زینب ؓ کی زید بن حارث ؓ سے شادی کا واقعہ سب کو معلوم ہے۔ آج کے عرب بھی عجمیوں کے کفو نہیں ہوسکتے، کیونکہ جو لوگ عرب ممالک میں رہ کر آچکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ عرب کتنے سخت مزاج، عورتوں کے معاملے میں کتنے ظالم، شکّی اور مارپیٹ کرنے والے ہوتے ہیں۔ لیکن جہیز کی مجبوری نے بے شمار غریب لڑکیوں کے ماں باپ کو مجبور کردیا کہ اپنی پندرہ سولہ سال کی لڑکیوں کو پچاس ساٹھ سال کے عرب عیاش بوڑھوں کے حوالے کردیں۔ کئی ایسے قاضی ہیں جو پولیس اور سیاستدانوں کو پیسہ کھلا کر عارضی شادیاں کرواتے ہیں، یعنی عیاشیاں کرواتے ہیں، ایک شیخ واپس جاتے ہی اسی لڑکی کا نکاح کسی اور عرب سے کرڈالتے ہیں۔ اس طرح اسلام نے جو خاندان اور قبیلے کی شرط رکھی تھی، اس منحوس جہیز کی لعنت نے اس شرط کو بھی تباہ کردیا۔
سوال یہ ہے کہ کفو کے سسٹم کو کس طرح دوبارہ زندہ کیا جائے، کس طرح لڑکیوں کی عزت اور ان کے مقام کو دوبارہ بحال کیا جائے۔ اس کا پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کی کونسلنگ کا جو ہم نے طریقہ کمانڈمنٹ 19 تا 22 بتایا ہے، اس پر سختی سے عمل ہو۔ کوئی شادی ایسی نہ ہو جس سے پہلے لڑکا لڑکی اور دونوں کے خاندانوں کی مکمل کونسلنگ نہ ہو۔ یہ ویڈیوز یوٹیوب چینل سوشیوریفارمس سوسائٹی پر دستیاب ہیں۔ بے شمار باتیں جو لوگ شادی سے پہلے غور نہیں کرتے، شادی کے بعد وہ کئی جھگڑوں کی بنیاد بن جاتے ہیں، وہ کونسلنگ میں اچھی طرح واضح ہوجاتی ہیں۔ دوسرا قدم یہ ہے کہ جو لوگ جہیز اور بارات کے کھانے علی الاعلان لے چکے ہیں وہ علی الاعلان واپس کریں۔ اور تیسرا حل یہ ہے کہ جو شادیاں جہیزاور کھانے کے ساتھ ہورہی ہیں، ان شادیوں کا سختی سے بائیکاٹ کیا جائے اور ان کے دعوت نامے کو قبول کرنے سے معذرت کرلی جائے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جب لڑکا لڑکی کلمہ پڑھنے والے ہیں تو یہ کافی ہے، مزید کفو یا کفاء ت کے احکامات کی ضرورت نہیں۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔ کفو یعنی میچنگ کی شرائط کے بارے میں قرآن، حدیث اور معروف علما کیا کہتے ہیں اس پر غور فرمایئے۔
قرآن: سورہ نساء آیت 34: مرد عورت پر قوّام ہے اس لئے کہ وہ مال خرچ کرتا ہے۔ (اگر وہ مال خرچ نہ کرے تو کفو نہیں ہے)۔
حدیث: رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو مخاطب کرکے فرمایا ”ائے علی، تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو۔ نماز میں جب وقت ہوجائے، جنازے کی تدفین میں جب وہ تیار ہوجائے، اور لڑکی کے نکاح میں جب اس کا کفو مل جائے۔ (ترمذی)
حدیث: جابربن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ”کوئی نکاح نہ ہو سوائے اس کے کہ لڑکی کے کفو سے، اور ولی کے علاوہ کوئی نکاح نہ کرے۔ (سنن دارقطنی و ھدایہ، باب المہر)۔
حضرت عمرؓ فرماتے ہیں ”میں شریف گھرانوں کی عورتوں کے نکاح کفو کے سوا کہیں اور نہ کرنے دوں گا“۔ (کتاب الآثار، امام محمدؒ)
مرحوم صدرالدین اصلاحی نے اپنی کتاب ”نکاح کے قوانین“ میں لکھا کہ امام احمد بن حنبلؒ اور امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک چار چیزیں کفو میں داخل ہیں۔ حسب نسب، پیشہ، حریت اور مال۔ امام شافعی کے نزدیک کفوہونے کے لئے لڑکے کا کسی بھی عیب یا بیماری سے پاک ہونا بھی ضروری ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ”مجموعہ قوانین اسلامی“، دفعہ 70 میں لکھا ہے کہ اگر بالغ لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو میں نکاح کرلیا تو شرعی عدالت میں ولی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نکاح کو منسوخ کرواسکتا ہے۔ اور اگر نکاح کے وقت مرد نے جھوٹ کہا کہ وہ کفو ہے جب کہ وہ نہیں تھا تو لڑکی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی عدالت میں نکاح منسوخ کروائے۔
مفتی محمد شفیعؒ نے ”جواہرالفقہ“ میں کفو کے احکامات کے ضمن میں لکھا کہ کفو کے احکامات کو نظرانداز کرنا مساواتِ اسلامی کی غلط تعبیر ہے۔ کیا یہ اندھیر نگری ہے کہ مہذب اور غیر مہذب، عالم اور جاہل، گدھے اور گھوڑے ایک پلڑے میں تولے جائیں؟ فطرتِ انسانی میں ذہنی تحفظات Mental Reservations موجود رہتے ہیں۔ کفو یا کفاء ت کے احکام یہ تحفظات پیدا کرنے کے لئے نہیں بلکہ ان تحفظات کے فطری اثرات کو ختم کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے رسائل و مسائل میں لکھا کہ ”نکاح کا مقصد عورت اور مرد میں ایک مضبوط رحمت و مودّت یعنی پیار کا رشتہ قائم کرنا ہے۔ یہ رشتہ اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک دونوں کے درمیان مزاجوں اور حالات کی مناسبت اور مطابقت نہ ہو۔ کفو کے احکامات میں علما کے درمیان اختلاف تو ہے لیکن جن چیزوں پر اجماع ہے وہ ہیں اسلام، اخلاق، مال اور Social Status۔ ملک کی عدالتوں میں انصاف، سزا، حقوقِ انسانی اور بنیادی حقوق کے معاملے میں سب برابر ہیں، کوئی اونچا یا نیچا نہیں ہے لیکن نکاح کے معاملے سارے انسان آدم کی اولاد ہیں لہذا جو چاہے جس سے شادی کرسکتا ہے، یہ اصول نہیں چل سکتا۔ شادی ایک اچھی نسل پیدا کرنے کے لئے ہوتی ہے اس لئے اپنے خاندان کی لڑکی کے لئے اس کا کفو دیکھا جانا لازمی ہے۔ ورنہ معاشرہ کئی خرابیوں کی آماجگاہ بن جائے گا۔ کفو کے تفصیلی احکامات جاننے کے لئے ہماری تصنیف ”مرد بھی بِکتے ہیں۔۔ جہیز کے لئے“ کا مطالعہ فرمایئے۔

ڈاکٹر علیم خان فلکی
صدر سوشیوریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد 9642571721

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close