تعلیم

حصولِ علم اور اس کے تقاضے : ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی الأعظمى آراضى باغ ، أعظم گڑھ

ابتدائے آفرینش سے ہی حصول علم کی اہمیت مسلم ہے چنانچہ قرآنی فرمان اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ انسانیت نے اپنے سفر کا آغاز جہالت کی تاریکی سے نہیں بلکہ علم کی روشنی سے کیا ہے۔ تخلیق آدم کے بعد رب کائنات نے انسان اول کو سب سے پہلے جس چیز سے سرفراز کیا وہ اشیاء کا علم تھا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے: ” و علم آدم الأسماء کلھا "( البقرہ : 31)
( اور اس نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے)
یہ وہ علم اشیاء ہی ہے جس کی بنا پر انسان کو تمام مخلوقات پر برتری حاصل ہوئی۔ اور دین اسلام میں تعلیم کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں لہذا اسلام کا آغاز ہی لفظ ” اقرأ” سے ہوا جس سے دین اسلام کو وہ منفرد مقام حاصل ہوا کہ وہ سراپا علم بن کر تعلیمی دنیا میں ایک ہمہ گیر انقلاب کا پیامبر ثابت ہوا۔
تعلیم اور علم انسانی زندگی میں ایک روشن چراغ کی مانند ہیں جن کی روشنی میں ہی انسان صحیح راہ کا انتخاب کرسکتا ہے ورنہ جہالت کا گھٹا ٹوپ اندھیرا انسان کو کفر و ضلالت کے اس بھیانک گڑھے کی بھینٹ چڑھاتا ہے جہاں سے اس کا نکلنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آتا ہے۔ لہذا علم کی اسی فضیلت کے پیش نظر نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود منبع علم و فیض بن کر انسانیت کو راہ مستقیم دکھائی اور فرمایا ” انما بعثت معلما” ( ابن ماجہ : 229) ( میں تو صرف معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں) اور لوگوں کو علم کے حصول کی ترغیب دی اور علم کے اثرات کو واضح کرتے ہوئے علم اور اہل علم کو معزز ٹھہرایا اور علم سے پہلو تہی کے نقصانات سے آگاہ کیا۔
انسانی زندگی مختلف ترقیاتی مراحل سے گھری ہوئی ہے لہذا انسان کی معاشی ترقی ہو یا اقتصادی ، فکری ترقی ہو یا علمی ، حصول علم سے مبرّا نہیں۔ چنانچہ علم چاہے دینی ہو یا دنیوی بہرحال انسانی اقدار کو پروان چڑھانے کے لئے ضروری ہے ۔ لہذا فرمان نبوی ہے : ” ( طلب العلم فریضة علی کل مسلم و مسلمة ” ( ابن ماجہ : 224 ، و الطبرانی) ( علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے)۔ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دین کے بنیادی علوم خواہ وہ عقائد و نظریات سے متعلق ہوں یا ارکان اسلام سے، معاشرتی اقدار سے متعلق ہوں یا معاشی و اقتصادی معاملات سے ، شخصی عبادات سے متعلق ہوں یا دعوت إلی اللہ و الدین سے ، ان کا حصول بہرکیف ہر مسلمان پر فرض ہے، کیونکہ کسی بھی معاملے میں علم نہ ہونے کی صورت میں انسان اندھی تقلید پر مجبور ہوتا ہے جو بسااوقات شرک و بدعات پر مبنی ہوتی ہیں۔
اسلامی نقطئہ نظر سے اگرچہ دینی علوم کو فوقیت دی گئی اور بندے کا دینی تعلیم حاصل کرنا اللہ کا انتخاب مانا جاتا ہے جیسا کہ فرمان نبوی ہے ” من يرد الله به خيرا يفقهه فى الدين ” ( البخاري: 71, و مسلم : 1037) ( اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کرتا ہے) اور علم دین کی فضیلت اس ایک مبارک جملے سے جوڑ دی گئی ہے ” خيركم من تعلم القرآن وعلمه ” ( البخاری ) ( تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن کو سیکھے اور سکھائے).
مگر اس کے ساتھ ہی دیگر عصری علوم سے مستفید ہونے کی بھی ترغیب ملتی ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان الفاظ میں دعا مانگنا ” اللهم انفعنى بما علمتني و علمنى ما ينفعنى و زدنى علما ” ( ترمذى ) ( اے اللہ مجھے جو علم دیا ہے اس سے نفع پہنچا اور مجھے وہ علم دے جو میرے لئے نفع بخش ہو اور میرے علم میں اضافہ فرما) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ” ربنا اتنا فى الدنيا حسنة و فى الآخرة حسنة ” ( البقرة : 201) ( اے ہمارے رب ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ کو صرف اخروی زندگی ہی نہیں بلکہ دنیوی زندگی بھی مقصود ہے۔ اس لئے ہر وہ علم جو عالم انسانیت کے لئے نفع بخش ہو اس کے حصول میں کوئی قباحت نہیں بلکہ بعض دفعہ ضروری ہوجاتا ہے۔ دنیوی علم کے حصول کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ہمارے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کو سب سے پہلے اشیاء کا ہی علم دیا گیا اور آج سائنس کے سارے شعبے اشیاء کے علم سے ہی متعلق ہیں۔ اسی طرح نفع بخش اطلاقی سائنس اور صنعت و حرفت کے علم کے حصول کا جواز بھی ثابت ہے۔ چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام کا کشتی بنانے اور داؤد علیہ السلام کو زرہ بنانے کا علم عطا کیا جانا نیز حضرت ذوالقرنین کا لوہے اور تانبے کے استعمال سے واقفیت اور ان کے ذریعے دیوار بنا کر قوم کی یاجوج و ماجوج سے حفاظت وغیرہ کا ذکر قرآن میں یونہی نہیں کیا گیا ہے بلکہ نفع بخش علوم کے حصول کی طرف رہنمائی مقصود ہے جو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق اور کار ثواب کا باعث ہے۔
اسی طرح اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ایک ترقی یافتہ معاشرہ کو ہر علم و فن کے حامل افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً کسی سماج میں اگر کوئی ڈاکٹر نہ ہو تو اس کے افراد کی پریشانی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک منظم صورت میں حکومت کو چلانے کے لئے ہر سیکٹر میں ماہرین علم و فن کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ بصورتِ دیگر غیروں پر انحصار کرنا پڑےگا۔
طبی تعلیم ہو یا جدید تکنیکی تعلیمات ، عصر حاضر میں ان کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی تعلیم و ترغیب سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مگر تحصیل علم کے میدان میں قدم رکھنے سے پہلے کچھ شریعت اسلامیہ کے تقاضے ہیں جن کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
حسن نیت
علم چاہے دینی ہو یا عصری حسن نیت یعنی خالص رضائے الٰہی مقصود ہو۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے” انما الاعمال بالنیات ” ( البخاری : رقم 1) ( اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے) صدق نیت کے بغیر اگرچہ ہم دنیا میں شہرت و نمود کے اعلی منازل طے کرلیں اور بہترین مبلغہ و واعظہ کا تمغہ حاصل کر لیں مگر آخرت میں ہمارا کوئی حصہ نہ ہوگا ( اعاذنا اللہ منہ )
اسی طرح یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر کوئی ڈاکٹر محض اللہ کی رضا کے لئے اپنے دل میں خدمت خلق کا جذبہ لئے میڈیکل کی ڈگری حاصل کرتا ہے اور پھر عملی زندگی میں بھی کامیاب ہوتا ہے تو اس کی پوری زندگی معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ عبادت الٰہی اور صدقہ حسنہ سے تعبیر کی جائے گی بشرطیکہ وہ بنیادی دینی تعلیم اور عمل صالح کے زیور سے آراستہ ہو۔
اسی طرح جدید علوم سے لیس انسان اگر خالص نیت کے ساتھ جدید تکنیک کے میدان میں انسانیت کی آبیاری کا قصد رکھتا ہے تو اس کی بھی پوری زندگی سراپا عمل بن کر دونوں جہاں کی کامیابی سے سرفراز ہوگی۔ لہذا کسی بھی علمی میدان میں قدم رکھنے سے پہلے نیت کی درستگی ضروری ہے جہاں حصول علم کا مقصد محض ڈگری یا سند کا حصول نہ ہو۔
حسن اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے دعوت دین کی ادائیگی کا احساس
علم ہر مقام پر ادب اور حسن اخلاق کا متقاضی ہے۔ نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :” من لم يرحم صغيرنا و لم يوقر كبيرنا و لم يعرف شرف علمائنا فليس منا ” ( أبوداود و ترمذى) ( جو ہم میں سے چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا ، بڑوں کا احترام نہیں کرتا ، علماء کی قدر نہیں کرتا ، وہ ہم میں سے نہیں).
اسی بات کی مزید تائید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول مبارک سے ہوتی ہے کہ ” ادبنى ربى فأحسن تأديبى ” ( میرے رب نے میری بہترین تربیت کی ) اور دوسری جگہ فرمایا کہ ” إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق” ( الادب المفرد: البخاری، رقم 273) ( مجھے حسن اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے)
یہ تمام احادیث اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ رب کائنات نے اپنے حبیب کی بہترین تربیت کرکے انہیں حسن اخلاق کے اس اعلی مقام پر فائز کیا جس کی معطر فضا سے انسانیت مسحور ہو گئی ۔ لہذا حصول علم اس بات کا متقاضی ہے کہ طالب علم حسن اخلاق و کردار کا وہ اعلی عملی نمونہ پیش کرے کہ عام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دوسری اقوام بھی اس کی خوشبو سے معطر ہو سکیں۔ اور دعوت دین کے میدان میں اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ حصول علم کا ایک اہم مقصد معرفت الٰہی کے ساتھ احیاء دین اور اعلاء کلمة اللہ ہے جہاں ہمیں اعلی اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہایت نرم اور دلکش لب و لہجہ اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
عالم دین کا وہ اعلی اخلاق و کردار ہی ہے جس کے اثر سے زمانہ قدیم سے غیر مسلم قومیں اسلام کے دامن میں پناہ لینے پر آمادہ نظر آتی ہیں۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے :
تم حسن سیرت کا وہ نمونہ بنو کہ دنیا پکار اٹھے
یہ کس چمن کی کلی کھلی ہے یہ کس گلستاں کا پھول مہکا
تبحر علمی
حصول علم اس بات کا متقاضی ہے کہ محض سطحی علوم یعنی ڈگری کے حصول کے لئے محض نصابی کتابوں یا سرگرمیوں پر قناعت نہ کریں بلکہ علم کے سمندر میں غوطہ زنی کر کے وہ گوہر آبدار بن کر نکلیں جس کی رعنائی سے دنیا متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اپنے موضوع میں اتنی گہرائی و گیرائی ہو کہ کسی بھی غیر معقول اعتراضات پر علوم شرعیہ کے دفاع پر قادر ہو لہذا ایسی صلاحیت کو نکھارنے کی کوشش ہو جن میں دقت نظر بھی ہو اور وسعت نظر بھی۔ اس ضمن میں علم کلام کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جس کی مدد سے طلبہ ان تبحر علمی کا خزانہ ثابت ہوتے ہیں جو اپنے مضبوط عقلی دلائل سے اسلام کی حقانیت کا لوہا منوانے پر مجبور کر سکیں۔
تنقیدی و تفکیری ارتقاء
تنقیدی و تفکیری ارتقاء حصول علم کے زریں اصولوں میں سے ایک ہے چنانچہ قرآن خود تخلیق کائنات اور خالق کائنات کے بارے میں غور وفکر اور عقلی استدلال کی تاکید کرتا ہے۔ کہیں ” افلا یتدبرون ” کہہ کر مخاطب ہے تو کہیں ” کذلک نفصل الآيات لقوم يتفكرون ” ۔ اس طرح کی بے شمار آیات غور وفکر پر ابھارتی ہیں اور نقدی و فکری ملکہ سے غافل رہنے والوں کو بدترین جاندار سے تشبیہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” إن شر الدواب عند الله الصم البكم الذين لا يعقلون ” ( الانفال : 22) ( بےشک اللہ کے نزدیک بدترین جاندار وہ بہرے اور گونگے ہیں جو عقل نہیں رکھتے / عقل سے کام نہیں لیتے).
اسی طرح نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز زندگی سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے بعض مواقع پر عقلی و فکری توجیہات کو مقدم کیا مثلاً معرکہ بدر میں مدینہ سے باہر نکل کر میدان کار زار میں آنا، غزوہ خندق کے موقع پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے پر خندق کھودوانا وغیرہ وغیرہ۔
اس ضمن میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت قابل ذکر ہے۔ان کے بعض اختلافی نظریات سے قطع نظر، انہوں نے فکر و شعور کی راہ کو جو جلا بخشی اس سے انکار ممکن نہیں۔ لہذا وہ اپنی کتاب ” المنقذ ” میں فرماتے ہیں جس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ ” حالات کے تحت انہوں نے ہر مذہب و عقیدہ کے سمندر میں ڈوب کر اس سے اسی فکری جوہر کو تلاشنے کی کوشش کی تاکہ اس کے غیر معقول سوالات کے جوابات اسی نقطئہ نظر سے دینے کے قابل ہو سکیں اور اس طرح حق و باطل کی تمیز کر سکیں لہذا باطنیہ و ظاہریہ کے روبرو ان کے عقائد کی چھان بین کی تو فلاسفر کے سامنے اس کے فلسفی جوہر کو تلاشنے کی بھر پور جد وجہد کی تو زاہد و صوفیاء سے ہم کلام ہونے کے لئے زہد و تصوف کے اسرار و رموز تک پہنچنے کی کوشش کی وغیرہ وغیرہ۔
دینی علوم کو عصری و سائنسی دلائل سے پیش کرنے کی صلاحیت پر غور و خوض
دور جدید میں حصول علم اس بات کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ دینی علوم کو عصری و سائنسی دلائل سے پیش کرنے کی صلاحیت پر غور وفکر کی جائے۔ کیونکہ موجودہ نسل اسلام کی حقانیت کو تسلیم کرنے کے لئے جدید عصری و سائنسی براہین و استدلال کا تقاضا کرتی ہے۔ لہذا ملک میں مروجہ زبان مثلاً ہندی ، اردو، انگلش، اور سنسکرت اور کمپیوٹر کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بعض بنیادی سائنسی نظریات میں مہارت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ موجودہ زمانہ کے سامنے اسلام کی صداقت کا بول بالا کیا جا سکے۔ اس نظریہ کی تائید خود قرآن کریم سے ہوتی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں شعر و قصہ جیسے فن ان کی تعبیرات کا خاصہ تھے لہذا قرآن نے اعلیٰ و اجمل شعری اسلوب اختیار کرتے ہوئے کفار قریش کے باطل افکار و نظریات کی تردید کی ۔ اسی طرح فن قصہ نگاری میں ان کے انہماک کو دیکھتے ہوئے قرآن قصہ نگاری کا بہترین پیرایہ اختیار کرتے ہوئے یوں مخاطب ہوا ” نحن نقص عليك أحسن القصص ” ( يوسف : 3) ( ہم آپ کے سامنے سب سے بہتر قصہ بیان کرتے ہیں)
اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہودیوں سے خط و کتابت کے ذریعے ربط قائم کرنے کے لئے حضرت زید بن ثابت کو سریانی زبان سیکھنے کا حکم دینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ تمام جدید علوم جو کسی بھی دور کی طاقت بن سکتے ہیں اور مسلم معاشرہ کو بہتری کی طرف لے جا سکتے ہیں، ان تمام میدان میں مسلم نوجوانوں کو آگے آنا چاہیے بشرطیکہ اس کے حصول کا مقصد دنیا طلبی و نام و نمود نہ ہو۔
چنانچہ قرآن و سنت اور ائمہ و مجتہدین کے نظریات کی ورق گردانی کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ حصول علم کا مقصد جو معرفت الٰہی سے عبارت ہے، جن چند اہم نکات کا تقاضا کرتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
حسن نیت و اخلاص لوجہ اللہ
حسن اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کے فریضہ کو انجام دیتے ہوئے اسلام کا بول بالا کرنا
موضوع پر گہرائی و گیرائی
تنقیدی و تفکیری تطور
عصر حاضر کے متنوع سائنسی افکار و نظریات سے استدلال کرتے ہوئے دینی علوم کو ثابت کرنے کی کوشش
یہ وہ اہم نقطے ہیں جن کی مراعات کے بغیر حصول علم کا مقصد فوت ہو کر رہ جاتا ہے مگر افسوس کہ آج ہمارے یہاں ایسے تعلیمی ادارے خال خال ہی پائے جاتے ہیں جہاں ان کا لحاظ کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حصول علم کے مقصد کو سمجھنے اور اس کے تقاضے کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close