تعلیم

تعلیم عام کرنے اور اردو کے تحفظ میں امارت شرعیہ کی تحریک کا ساتھ دیں : مولانا شبلی القاسمی

ہفتہ برائے ترغیب تعلیم و تحفظ اردو کے تحت مدرسہ اسلامیہ جھگڑوا مسجد دربھنگہ میں خصوصی مشاورتی اجلاس کا انعقاد
’’علم انسان کی بنیادی ضرورت ہے جس طرح کھاناپینا اور مکان- آج سائینس تیکنالوجی علم اور ہنر کا دور ہے جو شخص اور جو جماعت ان بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے بغیر آگے بڑھے گی وہ یقیناً منزل پر نہیں پہونچ سکتی یہ بات اسلام نے اپنی پہلی ہدایت اور تعلیم کے ذریعے دنیا کو بتایا، امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھار کھند نے اسلام کی اس پہلی تعلیم اور انسانوں کی بنیادی ضرورت کا روز اول سے خیال رکھا اپنے منشور ایجنڈا اور کاموں میں تعلیمی خدمات کو ہمیشہ فوقیت دی ۔‘‘یہ باتیں امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی نے مدرسہ اسلامیہ جھگڑوا مسجد دربھنگہ میں ’’ہفتہ برائے ترغیب تعلیم و تحفظ اردو‘‘ کے عنوان سے امارت شرعیہ کی ریاست گیر تعلیمی تحریک کے تحت منعقدخصوصی مشاورتی اجلاس میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ امارت شرعیہ نے جس طرح مذہبی تعلیم کے ادارے قائم کیے ہیں اسی طرح عصری تعلیمی ادارے بھی اسکول آئی ٹی آئی اور پارہ میڈیکل کالج کی شکل میں قائم کیے ہیں۔ سال 2021 میں امارت شرعیہ حضرت امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی کی ہدایت اور نگرانی میں ترجیحی بنیاد پرمذہبی اور عصری تعلیم کے فروغ پر کام کرے گی اسی کے ساتھ اردو زبان جس نے ملک کی آزادی اور آزادی کے بعد ملک کے باشندوں کے درمیان محبت قربت اور نزدیکیاں بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا اس کے تحفظ کے لئے بھی پوری قوت کے ساتھ سرگرم تحریک چلائے گی ،اردو جو نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک اور دنیا کے اکثر حصوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے اور جو ریاست بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے کہیں عصبیت اور کہیں عدم دلچسپی کی شکار ہے۔ امارت شرعیہ نے خاص طور سے تینوں ریاست بہار ،اڈیشہ و جھار کھند میں ان تینوں ایجنڈوں پر عوامی بیداری پیدا کرنے اور انہیں زمین پر اتارنے کی غرض سے یکم فروری تا ۷؍فروری ‘‘ہفتہ برائے ترغیب تعلیم و تحفظ اردو’’ کے عنوان سے ایک بڑی مہم شروع کی ہے۔ ریاست کے تمام ضلعوں کے اہم مقامات پر ضلع کے تمام بلاک کے تعلیمی سماجی فلاحی اور تحریک سے وابستہ لوگوں اور کارکنان کے ساتھ مشاورتی نشست رکھی ہے، تمام لوگوں کے سرگرم تعاون سے اس اہم معاملے پر قابو پایاجاسکتاہے ،ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی نسلوں کو علم کے ساتھ اعلی اخلاق و کردار پر باقی رکھنے کے لیے بنیادی دینی تعلیم کے مکاتیب ہر گاؤں اور محلے میں قائم کریں، اچھے اور معیاری اسکول کھولیں جن آبادیوں میں اسکول نہیں ہے، متحد ہو کر سرکار سے ان آبادیوں میں اسکول کھولنے کا مطالبہ کریں،اہل علم و ثروت لوگ پرائیوٹ اسکول کھولیں، اعلی مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی کے لئے باصلاحیت اساتذہ کے تعاون سے مختلف مقامات پر کوچنگ سینٹر کھولیں ،اسکول انتظامیہ کو اردو کی تعلیم کے نظم پر متوجہ کریں ،اپنے گھروں میں اردو بولنے لکھنے اور پڑھنے کااہتمام کریں ،دوسرے اخبارات کے ساتھ اردو اخبار اور اردو کے جریدے اور کتابیں خریدیں ،سرکاری دفاتر میں اردو زبان میں درخواست دینے کا حوصلہ پیدا کریں، جن دفاتر میں اردو میں لکھی ہوئی درخواستیں قبول نہ کی جائیں، ان کے خلاف متحدہ آواز اٹھائیں، اردو کے ساتھ فارسی زبان بھی سیکھیں۔مولانا نے اسی کے ساتھ عام لوگوں سے اساتذہ و معلمین کے احترام اوران کی ضروریات کا خیال رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کرام ملک و ملت کی تعمیر اور انسانیت سازی کا بڑا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ہماری ملی سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے ۔اس موقع سے جناب ڈاکٹر شاکر خلیق صاحب سابق پروفیسر متھلا یونیورسٹی،مفتی توحید مظاہری صاحب ،مولانا نظرالباری ندوی صاحب،جناب نظر عالم صاحب،مولانا اشتیاق قاسمی صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند،مولانا اعجاز صاحب سابق چیر مین مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ ،نذیر احمد امیر جماعت اسلامی دربھنگہ، عرفان احمد سلفی صاحبایڈووکیٹ ممتاز عالم، ایڈووکیٹ حافظ ضیاء اللہ،پروفیسر زاہد رضا، مولانا نسیم اختر قاسمی، مولانا اختر رشید قاسمی،مولانامرزا نصیر بیگ، مولانا صغیر رحمانی،قاضی ابو شاہد،قاضی اخلاق قاسمی، حافظ عبد القادر، محامد حسین، مولانا پھول حسن قاسمی،مولانا شعیب عالم قاسمی، مولانا نوشاد عالم اشاعتی، ڈاکٹر افتخار، حافظ اعجاز،حافظ بدرالحق مولانا مصطفی،مولانا ابوبکر قاسمی،حافظ فخر الدین،قاری صلاح الدین ایس ایم جاوید اقبال طارق انور فخر الاسلام تنویر احمد عرف مہتاب،ڈاکٹر سید ظفر افتاب،حسنین مکھیا شوکت اخلاقی، نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور امارت شرعیہ کی اس تحریک کی ستائش کرتے ہوئے اس کو وقت کی اہم ضرورت بتایا اور اس کو عملی شکل دینے کے سلسلہ میں مفید مشورے دیے۔ اس مشاورتی اجلاس میں مندرجہ ذیل اہم تجاویز بھی منظور کی گئیں ۔
(۱)امارت شرعیہ کی تحریک کو کندھے سے کندھا ملا کر گھر گھر پہونچائیں گے اور امیر شریعت کی آواز کو مضبوط کریں گے ۔(۲)اردو زبان کے فروغ کے لیے ہم خود اردو پڑھیں گے ، لکھیں گے ، اور اپنے بچے بچیوں کو اردو پڑھائیں گے ، لکھائیں گے ، اپنے گھروں میں اور معاشرے میں اردو کےا خبارات اور لٹریچر پڑھنے کا عمومی ماحول بنائیں گے، اپنی مراسلت کا ذریعہ اردو کو بنائیں گے، اپنی درخواستیں اردو میں لکھیں گے (۳)مکاتب کے نظام کو گاؤں گاؤں اور محلہ محلہ میں قائم کریں گے ۔ (۴)ہم لوگ اسکول اور کوچنگ سنٹر کے قیام کی بھی اپنے علاقے میں فکر کریں گے ، اور اس کے لیے جو قربانی دینی پڑے دیں گے (۵)ہر بلاک کے دفاتر میں اردو میں نیم پلیٹ لگانے کی تحریک چلائیں گے ، اپنے نجی دفاتر میں بھی اردو میں نیم پلیٹ لگائیں گے ۔
اجلاس کی نظامت مولانا محمد ارشد رحمانی قاضی شریعت دربھنگہ نے کی ،اور تجاویز پڑھ کر سنایا تمام شرکاء نے تجاویز کو بالاتفاق منظور کیا اس اجلاس میں مرکزی دفتر سے مولانا شمیم اکرم رحمانی صاحب معاون قاضی دار القضاء امار ت شرعیہ بھی شریک ہوئے ۔اس موقع سے ایک ضلعی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے ، جس کو تحریک کی تجاویز کو ضلع کے تمام بلاکوں میں عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔
پروگرام میں تمام بلاک کے صدر سکریٹری کے علاوہ تین سو سے زائد افراد شریک ہوئے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close