تعلیم

علم !!! ازجمشید جوھر قاسمی،ارریا وی

علم !!! از جمشید جوھر قاسمی، ارریا وی۔

علم چاہے دینی ہو یا دنیوی۔ دونوں میں ترفع کی خصوصیت ہے۔ اوریہ ترفع اس کا حق بھی ہے۔ کیونکہ انسان علم ہی کی بنیاد پر تمام مخلوقات سےافضل ہے۔ اوراس کی واضح دلیل روزمرہ ہماری نگاہوں کے سامنےگذرتی رہتی ہے۔ کیا ہم نہیں دیکھتے ہیں کہ ایک چھوٹا بچہ منوں من ہاتھی کو بھی اپنے قبضہ میں کرلیتاہے۔ شیر جس کانام سنتے ہی انسان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس پر بھی اپنی حکومت چلاتاہے۔جیسے چاہتا ہے رکھتا ہے۔ جب چاہتا ہے کھلاتا ہے۔جہاں چاہتاہےلےجاتاہے۔ زہریلی مخلوق سانپ بچھوؤں پر بھی اپنی خداداد صلاحیت اورعلم و لیاقت سے قبضہ جما لیتا ہے۔ زمین کی تہ سے آسمان کی بلندیوں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ اسی علم کی بنیاد پر ہواؤں کومسخرکرکےجہازوں کو بادلوں کے بیچ اڑا لیتا ہے۔ سمندر کی تہ سے گوہر نایاب۔ جوھرکمیاب اور ہیرے جواہرات کے خزانوں کےانبارکوبرآمدکرلیتاہے۔ البتہ علم دوطرح کا ہوتا ہے۔ ایک دینی علم دوسرا عصری علم۔ دونوں کی حیثیت اپنی جگہ مسلم ہونےکے باوجود دینی علم کا درجہ بادشاہ اور عصری علم کا رعایا جیسا ہے۔کیونکہ جس علم سے خدا نہ ملے وہ علم بے کار ہے۔ اسی وجہ دنیاوی علم کو معلومات کہاجاتاہے۔ علم حقیقی نہیں۔ یافنی وصنعتی مہارت سےبھی  تعبیر کیاجاتاہےکیونکہ ان سے خدا اور اس کے رسول تک رسائی ممکن نہیں۔ یا آخرت کی یاد دلانے میں محض عصری علوم ناکافی ہیں جب تک کچھ نہ کچھ دینی علم کاعنصرنہ ہو وہ خدا تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔ چنانچہ علم دین کے بارے میں بھی یہی فارمولہ ہےکہ اگر وہ دل میں نہ اترے بلکہ محض زبان پر ہو تو ایسا علم اس کے حق میں حجت نہیں۔ بلکہ قیامت میں اس کےخلاف حجت بنے گا۔ اسی لئے تو اللہ کے نبی علم نافع کی دعا کیا کرتے تھے۔ اور ایسے علم سے پناہ مانگتے تھے جو نفع بخش نہ ہو۔ کتنا علم حاصل کرنا ضروری ہے؟ ایک مرد و عورت کے لئے اتنا علم دین حاصل کرنا فرض ہے جس سے حلال وحرام کی تمیز ہوجائے۔ گویا آدمی اپنی زندگی کے جس شعبہ میں کام کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں اس کے احکام کاعلم ہونا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بازاروں میں گشت کیا کرتے اور دوکانداروں کو درے مار مار کربھگاتےتھے اور کہتے تھے کہ جاؤ پہلے اس سلسلہ کے احکام کی جانکاری لو پھر تجارت کیا کرنا۔ ورنہ اپنے طور پر جائز سمجھتے رہو گے اور تمہاری تجارت حرام ہوگی۔معلوم ہوا کہ اگر کوئی تاجر ہے تو اس کو تجارت کرنے کے احکامات کی جانکاری حاصل کرنا ضروری۔ اگرکوئی ڈاکٹرہے تو اس کو ڈاکٹر یت کاعلم حاصل کرنا ضروری ہے۔ اگرکوئی امام ہے تو اس کو امامت کے مسائل سے واقف ہوناضروری ہے۔ اگرکوئی کسان ہے تو اس کو زراعت کے مسائل کاعلم ہونا ضروری ہے۔اسی طرح جوجس میدان میں کام کر رہا ہے اس کواس سلسلہ کی جانکاری ضروری ہے۔ اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ 

از جمشید جوھر قاسمی، ارریا وی۔ ۱۷/ذوالحجہ ۰۴۴۱؁ھ بمطابق 19اگست 2019ء

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close