تعلیم

*مدارس اسلامیہ تعلیم و تربیت کی جولان گاہ*

✍🏻از قلم :محمد منھاج الحق چمپارنی, متعلم دارالعلوم وقف دیوبند

ہمارے ایمان کا یہ جزء اول ہے کہ اسلام برحق ہے تا قیامت باقی رہنے والا ہے اور خدائے واحد کی جانب سے یہی شریعت مقصود ہے
جس کی تائید انا أنزلنا الذكر وانا له لحافظون الآیۃ سے ہوتی ہے
اللہ تعالیٰ اس منزل من السماء دین کے تحفظ و بقاء مختلف نوعیت سے فرماتے ہیں،مدارس اسلامیہ مساجد و مکاتب خانقاہ و جماعت تبلیغ اور دیگر قومی ملی سماجی اور دینی مسلم تنظیمیں اور اس کی تمام سرگرمیاں اسی آیت مبارکہ کی ہوبہو تفسیر ہے،
اگر ان تمام ناحیہ اسلام میں غور کیا جائے تو تو ایک چیز ہر ایک میں مشترک نظر آتی ہے
وہ علم اور اہل علم ہے
جو اپنی علمی لیاقت چشم دور بین فیصلہ کن تدابیر اور ٹھوس لائحہ عمل کے ذریعہ امت کی ہر چہار جانب سے راہنمائی فرمارہے ہیں،
کوئی زبان و بیان کا سہارا لیتا ہے تو کوئی اپنے قلمی جواہرات امت کی راہوں میں بچھاتا ہوا نظر آتا ہے
بعض ماہرین فکر و تجربہ کی سریا پر پہونچ کر امت کے لگام کو صحیح سمت دیتے ہیں تو بعض با حوصلہ نوجوان امت پر گرنے والی ہر تیر و تلوار کے سامنے اپنا سینہ پیش کردیتے ہیں

الحمدللہ !
مدارس اسلامیہ عربیہ اپنے متعلمین کو ہر علوم سے آراستہ و پیراستہ کرتی ہے ، جس کی وجہ سے تشنگان علوم نبویہ اپنی علمی تشنگی بجھاتے ہیں ، اورہر میدان میں اور محاذ پر کھڑے دعوت اسلام دیتے ہیں ثواب دارین ، سعادت دارین ، رضاے رب ان کے پیش نظر ہوتی ہے ،کیا عربی؟ ، کیا اردو؟ ،! کیا انگریزی ؟کیا حساب ؟، اورکیا میراث ؟
ہروہ علوم جو حیات
انسانی کے لیے جز ء لا ینفک کی حیثیت رکھتی ہے ، وہ تمام علوم طلبہ مدارس احاطہ مدارس میں رہتے ہوےسیکھتے ہیں ، پڑھتے ، اپنے قلوپ میں علم و عمل کی شمعیں جلاتے ہیں ، پھر منزلوں کو پرواز کرتے ہیں ،
یہی مدارس اسلامیہ کی اساس و بنیاد کے اساسی ہدف ہیں
مگر افسوس وہ لوگ جو اسلامی تعلیمات ، نبوی فرمودات سے کو سوں دور نا ہنجار اور نابلد ہیں وہ ان مدارس پر طرح طرح کے تہمتیں لگاتے ہیں ، پرو پیگنڈے اور سازشیں رچتے ہیں ، مسلمان اور اسلام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں ،
انھیں چاہیے کہ وہ چند لمحات و ساعات ان بوریہ نشینوں کے ساتھ ہم نشینی اختیار کریں ، درس ومطالعہ میں شریک ہو ، پھر انھیں اس بات کے شناسائی ہوگی کہ آیا کہ مدارس میں دھشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے ، یا امن و آشتی کی ، اخلاق و کردار کی ، حلم وبردباری کی ،
** *الغرض یہ کہ مدارس اسلامیہ طالبان علوم نبویہ کو ، اخلاق و کرادار ، شیریں گفتاری ،لینت ونرمی ، حلم وعفو ، تواضع و خاکساری، شایستگی و سلیقہ مندی ، اعمال میں استقامت ، ثقاہت و متانت ، قلب ونظر کی وسعت ، مسلک میں اعتدال ، خدا اور رسول سے وارفتگی وشیفتگی کا درس دیتا ہے ، مزید یہ کہ انھیں تحقیق و تدقیق کا حسین گلدستہ ، علم ومعرفت کا سرچشمہ ، فکر ونظر کا آبشار ، وسعت مطالعہ اور دقت نظر کا مرقع ، مشکلات و مسایل کا حل نکالنے والا ، گھرای و گیرائی کا سنگم ، پر پیچ علمی سوالات اور پیچیدہ اعتراضات کا تشفی بخش جواب دینے والا ، قرآنی اصول اور سنت نبوی پر اپنی حیات مستعار گذارنے والا اور امت کو اسلام اور منہج اسلام کی افہام وتفہیم کا پاٹ پڑھانے والا بناتا ہے* ، اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ بوجھ عطا فرمائے، مدارس اسلامیہ اور علماء کی قدر دانی کی توفیق ارزانی فرماے آمیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close