تعلیم

تعلیم و تربیت کی اہمیت اور عصری تعلیمی  اداروں کی ذمہ داریاں! عارف حسین طیبی

 

   موبائل نمبر 9199998415

تعلیم انسان کے لئے بنیادی ضرورتوں میں سے ایک  ہے اسے حاصل  کئے بغیر ایک صالح اور پر امن معاشرے کا تصور ناگریز ہے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کا دارو مدار تعلیم پر ہے اور تعلیم ہی کے ذریعہ بنی نوع انسان شعور و فہم کی بلندی میں پرواز کرتا ہے  تعلیم خواہ دینی ہوں یاعصری دونوں ہی کردار سازی میں اہم رول ادا کرتے ہیں البتہ دونوں  طرح کے علوم کا حصول اگر  ایک ساتھ ہو تو یہ کسی نعمت عظمی سے کم نہیں تعلیم انسان کے لئے ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے دینا کی ساری جنگوں میں فتح حاصل کی جاسکتی ہے تعلیم ترقی کے لئے سب طاقتور ذریعہ ہے جسے دنیا میں بھی تبدیلی لانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے  تاریخ گواہ ہے دنیا میں ترقی اور عروج صرف ان ممالک اور اقوام کے حصے میں آئیں ہیں جنکے افراد عصر ی اور مذہبی تعلیم و فنون سے آراستہ اور پیراستہ ہوئے ہیں تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جو کسی بھی ملک کے دیگر تمام شعبوں کی بنیاد ہے کسی ملک کی ترقی اور اسکے باشندوں کے ذہنی ارتقاء کا اندازہ وہاں کی تعلیمی حالت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے علم کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات بھی لگایا  جاسکتا ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے وحی جس بات کو لیکر نازل ہوئی وہ تھی اقرا یعنی پڑھئے  یہی وہ تاریخی جملہ تھا جسکی ادائیگی من جانب اللہ فرشتوں کے ذریعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زبان مبارک سے کی گئی اس آیت سے رہتی دینا تک یہ پیغام کو عام گیا کہ انسانی فطرت تعلیم وتعلم کے سب سے زیادہ قریب ہے اسے حاصل کئے بغیر ایمانی کمال اور انسانی شعور ارتقا کے مراحل کو طے نہیں کرسکتا تعلیم سے انسان دنیا میں جینے کا فن سیکھتا ہے اور تعلیم ہی کے ذریعے انسان اگلی نسلوں تک جو انکا اثاثہ ہوتا ہے اسکو منتقل کرنے میں کامیاب ہوپاتا ہے کوئی ایک چیز ایسی نہیں جسکو آپ تعلیم سے محرومی کے بعد آگے بڑھا سکیں اسلئے پوری انسانیت کی اولین ترجیح تعلیم ہونی چاہیے  اسلام نے تعلیم و تعلم پر جتنا زور دیا ہے شاید دنیا کے کسی مذاہب میں تعلیم کے حصول پر اتنی شدت برتی گئی ہو

لیکن جب دنیا میں بسنے والی دیگر اقوام کو اس بات کا احساس ہوا کہ حصول علم کے بغیر دنیا کی سربراہی اور قیادت  ناممکن ہے تو تب انہوں نے ایک جامع تعلیمی نظام کو شکل دینےکو  ٹھان لی اور اسکے حصول کو سہل بنانے کے لئے نت نئے طریقے ایجاد میں لاتے رہے  پھر جلد ہی چند ہی سالوں میں پوری دنیا کو یہ باور کرایا کہ ہمارےدرمیان اعلی تعلیم  سےلیس ایسے افراد اور قابل شخصیت موجود ہیں جو دینا کی سربراہی اور قیادت کی صلاحیت رکھتے ہیں موجودہ وقت میں مغربی ممالک کی ترقی کا راز تعلیم کو اہمیت دینا اور تعلیم حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنا ہے مغربی ممالک کی کامیابی و کامرانی اور مشرق کی بربادی کی ایک اہم وجہ تعلیم کا نہ ہونا ہے آج جن قوموں کی ترقی کی داستان روز ہم خبروں کے ذریعے دیکھتے ہیں ان لوگوں نے تعلیم کی اہمیت و افادیت کو سمجھا اور ایک پائیدار تعلیمی اسٹرکچر تیار کئے جسمیں ملک اور قوم کی مفاد پوشیدہ تھی اگر اسی طرح ہماری قوم کے اندر  بھی حصول تعلیم کا جذیہ غالب آجائے تو یقینا وہ دن دور نہیں کہ ہم دنیا کے ان ملکوں میں شمار کئے جائینگے جو جدید علوم کی آگاہی رکھتے ہیں اسلام کی تاریخ گواہ ہے جب مسلمانون نے تعلیم و تربیت کو اپنے لئے  عروج کا ذریعہ سمجھاتو وه  دین و دنیا میں سربلندی اور سرفرازی سے نوازے گئے لیکن جب مسلمانوں نے اس بے بہا نعمت  سے روگردانی کی اور اسکے حصول سے دوری بناتے رہے تو زوال و انحطاط انکی مقدر بن گئی پھر وہ غلام بنا لئے گئے اور بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے تعلیم ہوا اور پانی کی طرح انسانی ضرورت ہے اسلئے نئی نسلوں میں تعلیم کی حصول کے لئے جذبہ اور نئی امنگ پیدا کرنا  معاشرے کی ذمہ داری ہے اور ملک میں تعلیمی نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے ہمارے دانشوروں کو ہمارے اہل صحافت کو ہمارے اہل سیاست کو ہمارے علما کو اور ہمارے ارباب اقتدار کو  پوری ذمہ داری کے ساتھ آگے آنا ہوگا تاکہ قدیم  خستہ اور بدحال  تعلیمی نظام کو تبدیل کرکے نئے امنگوں کے ساتھ جدید تعلیی نظام کو متعارف کرائیں کیوں کہ جس طرح کے تعلیمی نظام کے ذریعے  خاص کر دیہی  علاقوں میں اسوقت بچوں کو تعلیم فراہم کی جارہی ہے وہ ہر اعتبار سے ناکافی ہے یا یوں کہیں کہ موجودہ تعلیمی اسٹرکچر شاخ ناتواں پر ٹکی ہے اگر اسمیں تبدیلی لانے کے لئے  ارباب اقتدار کے طرف سے کوئی قدام نہیں کئے گئے تو وہ دن دور نہیں کہ ہمیں نسل نو میں علمی کم مائیگی اور میدان عمل میں ناکامی جیسی تصویر دیکھنے کو مل سکتی ہے جسکا تصور اس وقت نہیں کرسکتے اگر ہم بات کریں دیہی علاقوں کے سرکاری اسکولوں کی جو بچوں کے لئے  بنیادی تعلیمی کی مرکز حیثیت رکھتی ہے “یہ میں اسلئے کہہ رہا ہوں” کہ ہر والدین کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں  کہ وہ پرائیویٹ اسکولوں کی مہنگی فیس تحمل کرسکے ایسے میں بچوں کے والدین کے لئے گاؤں محلے کی سرکاری اسکول کسی بے بہا نعمت سے کم نہیں وہ  اپنے بچوں کی تابناک مستقبل انہی اسکولوں میں ڈھونڈتے ہیں اسلئے گاؤں کی سرکاری اسکول غریب اور ناتواں بچوں کے لئے ابتدائی درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے اگر  اسکول کی حالت بد سے بد تر ہوں  تو ذرا سوچئے غریب کسانوں و مزدوروں کے بچے آخر کہاں تعلیم حاصل کرینگے کیا آج تک کوئی عوامی نمائندوں نے ان غریب کسانوں کے درد و الم کو قریب سے محسوس کرنے کی کوشش کی ہے كہ آخر ان بچوں کی تاریک مستقبل کا ذمہ دار کون ہے اسلئے سرکار کی پوری ذمہ داری بنتی ہیکہ  وہ ان اسکولوں کو  بہتر سے بہتر تعلیمی نظام سی مزین کرے کیوں کہ موجودہ وقت میں ملک بھر سے  سرکاری اسکولوں کی حالت زار کی جو تصویر شوشل میڈیا ذریعہ نکل کر سامنے آرہی ہے  وہ کافی تشویشناک ہیں اور ارباب نقدو نظر کے لئے لمحہ فکریہ بھی کہ آج کس طرح دیہی علاقوں  کے سرکاری اسکولوں میں معصوم بچوں کے مستقبل کو تاریک راہوں میں ڈھکیلا جارہا ہے سرکاری اسکولوں کا المیہ یہ ہیکہ اسکولوں  میں اساتذہ کی سو فیصد حاضری نا کے برابر ہوتی ہے اگر سرکاری چاہتی ہے کہ غریب مزدور کسانوں کے بچوں کو بھی صحیح تعلیم و تربیت اور روشن مستقبل ملے تو سب سے پہلے ٹیچروں کو فعال اور متحرک کرنا ہوگا اور انکی حاضری اسکولوں میں سو فیصد یقینی بنانی ہوگی اسکے لئے سرکاری سطح پر سخت نگرانی کئے جانے کی ضرورت ہے کیوں کہ ایک تو وقت پر معلمیں اسکول نہیں پہونچتے اگر بادل نخواستہ کوئی صاحب اسکول پہونچ بھی جاتے ہیں تو وہ بھی  اپنی حاضری لگانے کے بعد چور دروازے سے اپنی ذاتی کام کے لئے نکل جاتے ہیں اور اسکول کی پوری ذمہ داری کوئی ایک ٹیچر یا اسکول کے وارڈن ہوتی ہے شاید اسی رویے کو دیکھتے ہوئے ماضی قریب میں ہی بہت سے  گاؤں والوں نے اسکول میں تالا لگاکر احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے تھے ان لوگوں کی شکایت تھی کے بچے تو اسکول پہونچتے ہیں لیکن معلمین کی حاضری نہیں ہوتی

اور ٹیچر کی عدم موجودگی کی وجہ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے تعلیم تو نہیں لے پاتے لیکن اسکول میں  مڈے میل کے انتظار میں اپنا وقت ضائع کرتے نظر آتے ہیں ان بے چارے بے بس اور لاچار بچوں کا مستقبل کچھ خود غرض ، بے حس اور کام چوروں کی وجہ سے تاریک راہوں میں گم ہوکر رہ گئی ہے اسی طرح  اسکول کی خوشنما اور خوبصورت پر شکوہ عمارت اپنی بےبسی اور بدحالی کی چغلی کرتی نظر آتی ہے عوام الناس کے ٹیکس کے پیسے سے بنی یہ  اسکول کی خوبصورت عمارت علم و حکمت کے وہ مینارے ہیں جہاں ملک کو بنانے اور سنوارنے والی شخصیتیں پیدا ہوتی ہیں لیکن

اسکول انتظامیہ کی  عدم توجہی کی وجہ سے ان درسگاہوں کی عمارت اتنی  خستہ حالت میں پہونچ گئی ہے جسے دیکھنے کے بعد  کھنڈر نما آثار قدیمہ کا گمان ہونے لگتا ہے

اسلئےاہل علم و دانش اور انقلابی افکار کے متوالوں کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے اورسرکاری اسکولوں میں تعلیم وتعلم  کے تئیں جو تساھلی اور بے التفاتی برتی جارہی ہے اسکے سد باب کے لئے سخت گیر تحریک کی ضرورت ہے تاکہ تعلیمی پسماندگی کو روکا جاسکے آخر  کب تک دیہی علاقوں میں  بسنے والے  مزدور کسان کے بچے  تعلیمی پسماندگی اور جہالت کی قعر عمیق میں غوطہ لگاتے رہیں گے اگر ان اسکولوں کی تعلیمی کار کردگی کا جائزہ لیں تو افسوس ہوتا ہے آخر ان اسکولوں میں  تعلیم کی کوالیٹی اور معیار اتنی بدتر کیوں ہے  روز بروز سرکاری درسگاہوں کا تعلیمی گراف کیوں گرتا جارہا ہے ہمارے ملک میں کرپشن کی جڑیں اتنی مظبوط ہے اس لعنت سے تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں وسائل کی کمی اور تعلیمی پالیسیوں میں عدم تسلسل کی وجہ سے جملہ سسٹم  تباہی کے دہانے پر جا پہونچی ہے سرکاری اسکولوں میں اعلی اور معیاری تعلیم کا نا ہونا کئی وجوہات و اسباب ہیں جس میں سب سے اہم وجہ ہے جعلی اور غیر مستند اسکول ٹیچروں کی تقرری شامل ہے بڑے پیمانے پر رشوت خوری کے ذریعے ہر سال ملک بھر میں نا اہل ٹیچروں کا انتخاب عمل میں آتا ہے جسکو ابجد تک کی پہچان نہیں ہوتی سیکڑوں بار ہندوستان کے مشہور نیوز چینلوں کے ذریعے ایسے نا اہل ٹیچروں کی گنوار پن ملک کے الگ الگ ریاستوں  کے لئے  بدنامی کا سبب بن چکی ہے اسلئے ایسے غیر ذی استعداد معلمین  سے بچوں کے بہتر مستقبل کی امیدیں نہیں رکھی جاسکتیں یہی وجہ ہیکہ ہر سال ملک کے کئی بڑے ریاستوں میں  پچاس فیصد بچے میٹرک کے ایگزام ناکام ہوجاتے ہیں کیوں کہ بنیادی تعلیم جو کہ پرائمری اسکولوں میں دی جاتی وہ اتنی کھوکھلی اور بے ترتیب ہوتی ہیکہ بچے بڑے اور مقابلہ جاتی امتحانوں میں بے بس ہوجاتے ہیں اور نتائج ناکامی کی صورت میں سامنے آتی ہے خاص کر اسطرح کا خمیازہ ان طالب علموں کو بھگتنی پڑتی ہے  جو میڈل کلاس اور غریب فیملی سے آتے ہیں

 کیوں یہ لوگ امیر اور صاحب ثروت لوگوں کے طرح وہ اپنے بچوں کو اچھے پرائیویٹ اسکولوں میں نہیں بھیج سکتے غربت اور لاچاری ایسی کہ پیٹ بھرنا مشکل ہوجاتا ہے وہاں بھاری بھرکم اسکولی فیس کہاں سے ادا کر ے موجودہ وقت جہاں  مال وزر کی طلب نے تدریسی پیشے کو  آلودہ کیا ہے وہیں سرکاری اسکولوں کے ٹیچروں میں اخلاص کا فقدان بھی صاف نظر آتا ہے تعلیم کے تئیں انکی بے التفاتی انکے نکمے پن کا غماز ہے موجودہ وقت میں یہ ہمارے معاشرے کی یہ  واحد جماعت ہے  جو اپنے آپکو بڑے فخر سے سرکاری ملازم کہلانا پسند کرتے ہے  حالانکہ ایک مخلص اور علم دوست استاذ ہمیشہ اپنے آپکو ایک خادم کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں اور صدیوں سے معاشرے میں کردار اور شخصیت سازی میں ایسے افراد کا ایک اہم رول رہا ہے اسلئے بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ملازمت کا جذبہ دل میں  لئے کوئی تعلیم جیسی خدمت کو صحیح ڈھنگ سے انجام نہیں دے سکتا  آج سرکاری بھی چاہتی ہے کہ تعلیم کا پورا سیکٹر پرائیویٹ ہاتھوں میں چلی جائے اسلئے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سرکاری اسکولوں کے تئیں بے التفاتی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے

اور اسکے نتائج بھی سامنے آنے لگے آج ہمارے سرکاری تعلیمی ادارے کسی بھی اچھے پرائیویٹ تعلیمی ادارے کا مقابلہ نہیں کر پارہے ہیں سوال اٹھتا ہے کہ ہمارا سرکاری تعلیمی اسٹرکچر اتنا ناقص اور کمزور ہے یا ہمارے اساتذہ ہی اس قابل نہیں کہ کوئی تعلیمی انقلاب لاسکے گذشتہ سارے نتائج اس بات کی طرف اشارے کر رہے ہیں کہ پرائیویٹ اداروں کے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے اور سرکاری اداروں  کے نتائج اور اسکی تعلیمی حیثیت بے معنی ہوکر رہ گئی ہے  لیکن سرکاری اساتذہ کی سہولتیں پرائیویٹ اداروں کے بہ نسبت کئی گنا زیادہ ہیں حکومت ہر سال اپنے بجٹ میں  اربوں کھربوں روپے سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے مختص کرتی ہے  لیکن اسکے باوجود سرکاری تعلیمی ادروں کے  معیار کا حد درجہ گھٹیا ہونا اس بات کا غماز ہے کہ سرکار  قوم کے بچوں کے تابناک مستقبل کے لئے بالکل سنجیدہ نہیں ہے شاید  اسی بدحالی اور تعلیمی کرپشن کے دیکھتے ہوئے  لوگوں نے سرکاری اسکولوں پر بھروسہ کرنا بند کردیا اور اپنے بچوں کا مستقبل پرائیویٹ اسکولوں کی چمکتی دمکتی بلڈنگوں کے چہار دیواری  میں تلاش کرنا شروع کردییے

پھر کیا تھا پرائیویٹ اسکولوں کے طرف بڑھتے عوامی رجحانات  کو دیکھتے ہوئے شہر سے لیکر گاؤں تک پرائیویٹ اسکولوں کا جال سا بچھ گیا اور ہر طرح کے بجٹ والے اسکول وجود میں آنے لگے

 پھر اکثر پرائیویٹ ادارے تعلیم جیسے مقدس شعبے میں مافیا کا کردار ادا کرنے لگے دیکھتے ہی دیکھتے نجی تعلیمی ادارے کارپوریٹ اور بزنس ہب میں تبدیل ہونے لگے اور اسکول انتظامیہ کے درمیان اوصاف و خصوصیات کی تشہیر میں مقابلہ آرائی ہونے لگی  آج ملک میں آپ کہیں چلے جائیں  آپ کو صرف عصری تعلیمی مراکز کے بڑے بڑے ہورڈنگ اور بینرز چوک چوراہے اور شہروں کی تنگ تاریک گلیوں میں چسپاں مل جائینگے آج بہتر اعلی اور معیاری تعلیم کے نام پر جو لوٹ گھسوٹ مچی ہے یقینا اسکے ذریعے تعلیم کو اہمیت کو داغدار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے من چاہے تعلیمی نصاب اور من چاہے تعلیمی آخراجات عوام الناس پر زبر دستی مسلط کئے جاتے ہیں غیر متوازن نظام تعلیم سی معاشرے کو الجھایا جارہا ہے

آج ہمارے یہاں ایسے اسکولز بھی ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمانوں کے زیر انتظام ہیں جہاں مکمل اسلامی ماحول میں اعلی پیمانے کی معیاری عصری تعلیم کے ساتھ تجوید، دینیات، اسلامی تاریخ، ودیگر دینی ضروری تعلیم دینے کا دعوی کیا جارہا ہے

لیکن یہاں بھی قوم کو نا امیدی ہی ہاتھ لگتی ہے کیوں کہ اکثر اسکول انتظامیہ دینی و تربیتی گوشے کو پر کرنے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں

حالانکہ اسکول انتظامیہ اپنی تشہیر میں دینی تعلیم کے تعلق سے بہت سے وعدے اور دعوے کرتے نظر آتے ہیں جس سے ہر والدین کو یہ امید ہونے لگتی ہے کہ انکا بچہ عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم سے بھی روشناش ہوگا لیکن ایسا بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے اکثر  جگہوں پر صرف اسکولی نصاب پر پوری توجہ مرکوز  کیجاتی رہی ہے جسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے عصری تعلیم سے مستفید تو ہوتے ہیں لیکن اسکول انتظامیہ کی عدم توجہی کے وجہ  سے بچے  اپنی کردار سازی میں ناکام ہوجاتے ہیں پھر یہ اشتہاری نعرے  دینی ماحول میں عصری تعلیم ایک جملہ ثابت ہوتا ہے راقم الحروف ذاتی طور پر کئی اسکولوں کے مالکان کو جانتا ہےجنکے اسکولوں میں بچوں کی تعداد ماشاءاللہ اچھی خاصی  ہے لیکن اسلامی و دینی  تعلیم کے لئے صرف ایک معلم دینیات  کی تقرری دینی تعلیم کے اعلی معیار کے دعوے پر سوالیہ نشان لگاتا ہے  وہاں دینی ماحول میں اسکامی تربیت کا کیا معیار ہوگا ہر ذی شعور اندازہ لگا سکتا ہے ا لا ماشاءاللہ کچھ اسکول ہیں جو اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ دینی تعلیم کی عدم فراہمی پر کسی طرح کی کوتاہی ناگریز ہے  لیکن زیادہ تر  اسکول انتظامیہ کی دینی تعلیم کے تئیں عدم توجہی باعث تشویش ہیں یہ بات یاد رہے دینی اور اسلامی تعلیم دئیے بغیر عصری تعلیم نا مکمل ہے  آج ہزاروں کی تعداد میں ہمارے درمیان  اعلی تعلیم یافتہ موجود ہیں لیکن انکی صحیح اسلامی فکر اور بہتر کردار سازی نہ ہونے کہ وجہ  خود غرضی مفاد پرستی ، رشوت خوری  اور خود نمائی اور اخلاقی بگاڑ میں وہ ایسے لت پت ہیں جس سے پورا معاشرہ ان  سےگھن کرتا ہے اسلئے اسلامی تعلیم دئیے بنا موجودہ دور میں بچوں میں اخلاقی اور روحانی ماحول پیدا کرنا نا ممکن ہے  شاید اسلئے بچوں کے والدین ایسے اسکولوں کا انتخاب کرتے ہیں جہاں دینی ماحول میں عصری تعلیم کا نظم ہو  کیوں کہ قراں و حدیث کے علم میں وہ مادہ اتم درجہ موجود ہے جس سے تربیت کے سارے دروازے کھل جاتے ہیں جہاں بچوں میں  فطری طور پر  دینی مزاج پیدا ہونے کے ساتھ انکے اندر زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی پروان چڑھتا ہے اسلئے علماء نے لکھا ہے کہ بچوں میں  تعلیم و تربیت کا  آغاز ناظرہ قرآن پاک کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی مسنون دعاؤں کو زبان زد کرائی جائے  جس سے  انکی زبان کی شفافیت نکھر کر سامنے آئے گی ابن سینا نے کتاب السیاسہ میں یہ نصیحت لکھی ہے کہ جیسے ہی بچہ جسمانی اور عقلی طور تعلیم و تعلم کے لائق ہوجائے تو اسکی  تعلیم کی ابتدا قرآن کریم کی تعلیم سے کرنا چاہئے تاکہ اصل لغت اسکی گھٹی میں پڑے اور ایمان اور اسکے صفات اسکے نفس میں راسخ ہوجائے مختلف اسلامی ملکوں میں تمام تدریسی طریقوں اور نظاموں میں قرآن کریم کی ہی تعلیم کو اساس اور بنیاد بتلایا ہے اسلئے کہ قرآن کریم دین کے شعائر میں سے ہے جس سے عقیدہ  مضبوط اور ایمان راسخ ہو تا ہے اگر موجودہ وقت میں عصری ادارے اگر یہ دعوی کرتی ہے کہ ہم بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ اسلامی تعلیم بھی  پوری ایمانداری سے دے رہے ہیں تو والدین کی بھی  ذمے داری ہیکہ گاہے بگاہے بچوں کا ٹیسٹ لیتے رہے تاکہ آپ کو اطمنان ہوسکے کہ  آپکے بچے دینی تعلیم سے بھی مستفیض ہورہے ہیں  کیوں کہ یہی وہ تعلیم ہے جس سے بچے  شرعی ارکان اور اسکے احکام کو بہتر طریقے سے اپنے ادراک میں لاسکتے ہیں  اور اپنی زندگی میں اسپر عمل پیرا ہوسکتے ہیں  اور اسکے ذریعے بچوں میں اسلامی تعلیم و تربیت کی اہمیت اور معاشرے  میں پنپ رہے غیر اسلامی سرگرمیاں اور مغربی افکار و اقدار کی اندھی تقلید سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے میں  کامیاب ہوسکیں گے

  تربیت تعلیم کی جز لازم ہے صاحب علم اگر تربیت سے  تہی دامنی کا شکار  ہو تو سمجھو وہ اخلاقی بگاڑ کا شکار ہے  معاشرے کو ان سے اچھی امیدیں رکھنا فضول ہے  کیوں صالح معاشرہ اسوقت وجود میں آتا جب انکے افراد تعلیم کے ساتھ تربیت و تہذیب اور ثقافت کی منہ بولتی تصویر ہو اور انکا کردار عوام کے سامنے ایک آئینہ کے مانند شفاف ہو  جسمیں ہر شخص اپنے کردار کی شفافیت کو بآسانی محسوس کر سکے بہترین تربیت ہی ہمیں جانوروں سے ممتاز بناتا ہے کیوں کہ جانور اور انسان کے بچے میں فرق اسلئے ہیکہ جانور کے بچے اپنی جبلت سے زندگی میں آگے بڑھتا ہے اور وہ اپنی آخری عمر پوری کرکے مر جاتا ہے لیکن انسانوں کے بچے کو اپنی جبلت کی تطہیر و تنظیف کرنی پڑتی ہے انہیں آگے بڑھنے کے لئے تعلیم کے ساتھ تربیت کی اشد ضرورت ہوتی ہے جس سے دنیا کے دیگر اقوام کی تہذیب اور ثقافت کو پہچاننے اور جوصحیح ہو اسکا انتخاب کرنے میں مدد ملتی ہے پھر وہ اپنی آنے والی زندگی میں تہذیب و تربیت کو  بہتر طریقے سے دنیا میں متعارف کروا پاتا ہے

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close