مضامین و مقالات

بے حیائی کا ایک تہوار ویلنٹائن ڈے۔ محمد ارشد قاسمی ارریاوی

  بے حیائی کا ایک تہوار ویلنٹائن ڈے  

ہر سال 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے بڑی فحاشی وعریانیت کے ساتھ منایا جاتا ہے. بہت سے نوجوان لڑکے ولڑکیاں اس دن کا بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہیں. اس دن کی  آمد پر عاشقوں کا ہجوم ہاتھوں میں پھول لیے تتلیوں کے شکار میں نکلتا ہے، تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں جسے نادان لڑکیاں قیمتی تحفہ سمجھ لیتی ہیں ، محبتوں کے جال بچھائے جاتے ہیں جسے معصوم تتلیاں سیج سمجھ بیٹھتی ہیں، وعدوں کے کمند پھینکے جاتے ہیں جسے رشتے کی مضبوط ڈوری سمجھ لی جاتی ہے، پھر عشق ومحبت کے نام پر ہر وہ کام انجام دیا جاتا ہے جس کی نہ کسی مذہب میں کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی مشرقی تہذیب جس کی اجازت دیتی ہے. افسوس تو اس بات کا ہے کہ تعلیم یافتہ نسل اس بے حیائی کو فروغ دے رہی ہے، اسکول، کالج اور یونیورسٹیز کے لڑکے اور لڑکیاں ہی اس حیاسوز تہوار کو جوش وخروش سے مناتی ہیں. اس دن نہ جانے کتنا حسن میلا ہوتا ہے،کتنے پھول بکھرتے ہیں، کتنی کلیاں مسلی جاتی ہیں، کتنے والدین کے سر شرم سے جھکتے ہیں اور بازار محبت میں نہ جانے کتنی عزتیں نیلام ہوتی ہیں. اس لئے 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منانا اس دن سے  ناجائز محبت کا آغاز یا تجدید کرنا ایک غیر اخلاقی اور احمقانہ عمل ہے جسے پہلے غیروں نے اپنایا لیکن بڑی تیزی کے ساتھ یہ ہندوستانی معاشرے میں بھی پھیلتا جا رہا ہے جس سے بچنے کی اور جسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہئے، کیونکہ ہندوستان ایسا ملک ہے جس کی مٹی میں شرم و حیا کا عنصر غالب ہے لیکن بے حیائی وفحاشی کی جو ہوا مغرب سے چلی ہے اس نے ہندوستانی تہذیب کو بھی آلودہ کردیا ہے، ہوس پرستی وبےراہروی کا جو طوفان یورپ سے اٹھا ہے اس میں ہم بھی بہتے جارہے ہیں وہ سارے افعال جو کبھی ہندوستانی سماج میں نہایت ہی معیوب سمجھے جاتے تھے آج انہیں فخریہ طور پر انجام دیا جارہا ہے، اسمارٹ سٹی ہوں یا پسماندہ گاؤں، شہر کی گلیاں ہوں یا پارک، فیشن اور آزادی کے نام پر ایسی مخرب اخلاق اور حیا سوز حرکتیں عروج پر ہیں جسے دیکھ کر کسی بھی شریف انسان کا سر شرم سے جھک جائے، کہا جاتا ہے کہ کسی بھی قوم کے  نوجوان اس قوم کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، جس قوم کے نوجوان ویلنٹائن ڈے کو بھی قومی تہوار کی طرح منانے لگیں،تعلیم پر تفریح کو ترجیح دینے لگیں، کتابیں پڑھنے کے بجائے فیس بک واٹس ایپ پر آنیوالے پیغامات کو پڑھنے میں زیادہ دلچسپی لینے لگیں اور عزم وحوصلے محنت ومجاہدے کے ساتھ تعلیمی وسیاسی میدان میں آگے بڑھنے کے بجائے خود کو عشق کے جال وزلفِ یار کی زنجیروں میں جکڑ لیں تو اس قوم کو بربادی وغلامی سے کوئی بچا نہیں سکتا. مغرب نے ہماری تباہی وبربادی کے جتنے راستے ہوسکتے ہیں کھول رکھے ہیں اور ہم بڑے شوق سے ان راہوں پر چل رہے ہیں بلکہ آنکھیں بند کرکے دوڑ رہے ہیں. اسی جنسی بے راہ روی نے اہل مغرب کو ذلیل کر رکھا ہے، ان کے خاندانی نظام تباہ و برباد ہوگئے ہیں، ان کے معاشرے کا چین وسکون غارت ہوکر رہ گیا ہے، جن خواتین نے میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگائے تھے، پردے کو قید تصور کیا تھا، پارکوں اور نائٹ کلبوں کو آباد کیا تھا اب آزادی سے تنگ آکر شرم وحیا کی چادر میں خود کو چھپارہی ہیں ، مشرقی تہذیب کی قصیدہ خوانی کررہی ہیں اور مشرقی تہذیب کے پروردہ یہ نوجوان لڑکے ولڑکیاں ان کے قابل رحم حالت کو دیکھ کر عبرت حاصل کرنے کے بجائے ان کے نقش قدم پر چلنے میں فخر محسوس کرتے ہیں. اس اخبار کے توسط سے میں اپنے نوجوان دوستوں بالخصوص طلباء وطالبات سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ خدارا.. ان خرافات ولغویات میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرکے اپنی ذلت و رسوائی کا سامان فراہم نہ کریں، یہ مصیبت زدہ سسکتی بلکتی قوم آپ کی جانب حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے آپ ان کی امیدوں کا بھرم رکھیں آپ ان کی تمناؤں وآرزؤں کا خون نہ کریں. 14 فروری سے ناجائز محبت کی شروعات کرنے کے بجائے غریبوں وبےسہاروں سے ہمدردی اور ان کی مدد کا آغاز کریں اور اس خالق کائنات کی محبت وخشیت کو اپنے دلوں میں جگہ دیں  جس نے قیس ولیلی وفرہاد لیلی، شیریں وفرہاد کو مٹی سے بناکر مٹی میں ملا دیا ان پر افسانے تو لکھے گئے لیکن تاریخ نہیں کیونکہ تاریخ انقلاب لانے والوں پر لکھی جاتی ہے. 


محمد ارشد قاسمی ارریاوی شعبہ انگریزی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ9536236908 

آپ بھی اپنے مضامین ہمیں بھیج سکتے ہیں۔ ہمارا ای میل ہے۔info@hindustanurdutimes.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close