مضامین و مقالات

بے حیائی اور فحاشی کے دور میں ہماری ذمہ داری۔ ضیاء الدین الحسینی

محترم قارئین! مؤمن کی ایک علامت جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو بھلائی کا حکم کرتے اور برائی سے روکتے ہیں _ارشاد ربانی ہے ،المؤمنون والمؤمنات بعضھم اولیاء بعض یأمرون بالمعروف وینھون عن المنکر)(التوبہ) اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں وہ نیکی کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں_کسی زمانہ میں یہ حال تھا کہ جب کبھی کسی کو بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنے کا موقع مل جاتا تو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کیا جاتا تھا، کیونکہ ہر مؤمن اس حقیقت سے بخوبی واقف تھا کہ ہمیں خیر امت کا جو لقب ملا، اس کی بنیادی وجہ امربالمعروف نہی عن المنکر بھی ہے اس لئے ہر مؤمن اپنی بساط کے مطابق اس فریضہ کو نبھاتا تھا، غرض ہر مؤمن کی زندگی میں اس کی خاص اہمیت تھی، اس لئے جب حضورﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ کہ ایک وقت ایسا آئیگا کہ جس میں تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ترک کردوگے، تو صحابہ کرام کو بڑی حیرت ہوئی تھی، دریافت کیا؟ حضور کیا ایسا دور بھی آئیگا-فرمایا نعم واشد منہ ہاں ہاں بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک دور آئیگا-اس کو حضور ﷺ نے اس طرح بیان فرمایا-کیف بکم اذا رأيتم المنکر معروفا، و المعروف منکرا-ذرا تصور کرو! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم منکر کو معروف اور معروف کو منکر سمجھو گے، یعنی نیکی کو بدی اور بدی کو نیکی سمجھا جائیگا-حالاں کہ منکرات سے وحشت اور معروفات سے انسیت ایک فطری بات ہے مگر جب انسان فطرت سے ہٹ جائے تو نہ اسے بدی سے وحشت ہوتی ہے اور نہ نیکی سے فرحت ہوتی ہے حالات بتاتے ہیں کہ وہ زمانہ بالکل قریب تر آگیا ہے، کیونکہ منکرات ومعصیات کی کثرت کی وجہ سے اب عموماً گناہوں کا احساس تک مٹ گیا ہے ورنہ؟ احساس تھا تو گناہوں سے دور تھے-احساس جو مٹ گیا گنہگار ہوگئےآج حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں-کوئی برائی، بدکاری، بداخلاقی، بے حیائی، باقی نہی جو معاشرے میں پائی نہ جاتی ہو بلکہ بداعمالیوں کی وجہ سے دنیا جہنم کدہ بن چکی ہے بقول حضرت مفتی عبد الرحیم صاحب لاچپوری رح  خبر حدیثوں میں جن کی آئی ہے وہ زمانہ اب آگیا ہےزمیں بھی تیور بدل رہی ہے فلک بھی آنکھیں دکھا رہا ہےبہر حال موجودہ حالات میں اپنی اور اپنے اہل وعیال کی پھر اللہ توفیق دے تو معاشرے کی بقدرِ استطاعت اصلاح کی فکر کرنا بہت ضروری ہے-بقول علامہ سید سلیمان ندوی رح اس دور میں سب سے اہم فریضہ مسلمان کو مسلمان بنانا ہے اس کے بعد غیر مسلم ہمیں اسلام کے مطابق دیکھ کر خود بخود مسلمان بن جائیں گے”جس کا قرآن پاک نے اس طرح مطالبہ کیا ہے(یأیھاالذین امنوا امنوا) اے ایمان والوں! ایمان لے آؤ اب اگر خود دعوت الی الدین دعوت الی الخیر کے فریضہ کو پورے طور پر انجام نہ دے سکیں تو جو لوگ اس سلسلے میں تحریری، تقریری، تحریکی، طور پر کوشش کرتے ہیں ان کی ضرور مدد کریں. 

ضیاء الدین الحسینی فلاح انسانیت ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ ارریہ بہاررابطہ نمبر 7557327122

آپ بھی اپنے مضامین ہمیں بھیج سکتےہیں ۔ ہمارا میل ہے info@hindustanurdutimes.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close