بین الاقوامی

سعودی عرب میں مویشی پالنے والی گریجویٹ خاتون سے ملیے

سعودی عرب میں خواتین رضاکارانہ طور پر مختلف پیشوں میں اپنی مہارت کا ثبوت پیش کر رہی ہیں۔ سعودی عرب کے جنوبی علاقے جازان کی ‘افراح غابی’ بھی ان ہنر مند نوجوان خواتین میں شامل ہیں‌ جنہوں نے تعلیم سے فراغت کے بعد اپنی ڈگری کے مطابق پیشے کی تلاش کے بجائے زراعت، کھیتی باڑی اور مویشی پروری کو اپنا پیشہ بنایا۔

جازان کی ‘افراح غابی’ بزنس ایڈمنسٹریشن کے شعبے میں کمیونٹی کالج سے فراغت کے بعد زراعت اور مویشی پروری کا پیشہ اپنایا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے افراح نے کہا کہ زراعت اور مویشی پروری اس کا بچپن کا شوق تھا۔ اس نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں گریجوایشن کی مگر اس نے تعلیم سے فراغت کے بعد میں اپنے علاقے میں واپس آئی۔ میں نے محسوس کیا کہ جازان کی زرخیز زمین کاشت کاری کے لیے موزوں ہے۔ میں نے جازان میں ایک ایگری کلچر فارم تیا رکیا جس میں بادام، کالی مرچ، انجیر اور لیموں کی کاشت کی نگرانی کرنے کے علاوہ ہر طرح کے پرندوں اور مویشیوں کی پرورش شروع کر دی۔

افراح غابی’ جس نے نوکری کا انتظار نہیں کیا بلکہ اس نے اپنی مدد آپ کے تحت اور اپنے خاندان کی معاونت سے کاشت کاری اور مویشی پروری شروع کردی۔ اس نے بتایا کہ مرغی بانی اور زراعت اسے خاندان میں ورثے میں ملی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی توجہ ہمیشہ ان روایتی پیشوں پر مرکوز رہی۔ اس نے گھر کے قریب ہی ایک پولٹری فارم تیار کیا۔

مرغی بانی کے ساتھ ساتھ افراح نے مویشی پالنا بھی شروع کیا۔ ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ میں نے اصرار پر 5 ہزار ریال مالیت سے سے ایک گائے خرید کی۔ اس کے بعد اس میں مزید اضافہ کیا اور نو سال میں اب اس کے پاس 9 گائے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ مویشی پروری اور زراعت کے پیشے میں قدم رکھنے پر اسے بہت سی مشکلات بھی پیش آئیں۔ اسے اپنے مویشی خانے کے لیے بجلی کی فراہمی کی ضرورت تھی جس کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ اس نے ہمسایوں سے کچھ رقم مستعار لے کر نہ صرف اپنے پیشے کو آگے بڑھایا بلکہ اپنے خاندان کی بھی مدد کی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close