ہندوستان اردو ٹائمز

مصر میں ایک رکشہ ڈرائیور پارلیمنٹ کا رکن کیسے منتخب ہوا؟

مصر میں حال ہی میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دوران ایک عام مزدور اور رکشہ ڈرائیور بھی رکن پارلیمنٹ منتخب ہوا ہے۔ اپنی ذاتی جیب سے اپنی انتخابی مہم چلانے والے رکن پارلیمنٹ 33 سالہ احمد حلمی الشیشینی کا تعلق شمالی مصر کی البحیرہ گورنری کے شہر کوم حمادہ کے نواحی گاوں النجیلہ سے تعلق رکھتا ہے۔

ایک رکشہ ڈرائیور کا پارلیمنٹ کے انتخابات میں‌ حصہ لینا تو شاید کوئی حیرت کی بات نہیں مگر اس کا بھاری اکثریت کے ساتھ جیتنا اور اپنے بڑے بڑے سیاسی مخالفین کو چاروں شانے چت کرنا یقینا حیران کن ہے۔ خود الشیشینی کو بھی توقع نہیں تھی کہ لوگ اس کےساتھ اتنی محبت کرتے اور اس سے بہت زیادہ توقعات رکھتے ہیں۔ الشیشنی کا اپنا ایک چھوٹا سا دفتر ہے جس میں اس نے اپنے چند رضا کار ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنی انتخابی مہم کی نگرانی کی۔ اس کے علاوہ اس کے پاس صرف اپنا ایک آٹو رکشہ ہے اور کوئی بیش قیمت گاڑی یا کار نہیں۔ تاہم جس گورنری سے اس نے اپنی قسمت آزمائی کی وہ ایک گنجان آباد اور بڑے ووٹ بنک والی گورنری قرار دی جاتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ سے بات کرتے ہوئے احمد حلمی الشیشینی نے کہا کہ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ میرا مقابلہ یہاں‌ بڑے بڑے آزمودہ ، اثر و رسوخ رکھنے والے اور تجربہ کار سیاستدانوں سے ہے۔ اس لیے مجھے اپنی کامیابی مشکل دکھائی دیتی تھی۔ میرے مخالفین اپنی انتخابی مہم اور اپنے دعووں‌ کی تشہیر پر خطیر رقم صرف کررہے تھے اور میرے پاس انتخابی دوروں اور اشتہارات پر خرچ کرنے کے لیےرقم نہیں تھی لیکن اس کے گاؤں اور آس پاس کے دیہات کے لوگوں نے اسے چندہ دیا اور ووٹ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ لوگوں بالخصوص نوجوانوں نے مجھے انتخاب لڑنے کی ترغیب دی اور اس کو کامیاب بنانے کا عہد کیا۔

اس حوصلہ افزائی کی روشنی میں احمد نے انتخابات کے لیے اپنے کاغذات جمع کروائے اور اپنی کمائی سے سیکیورٹی کی رقم ادا کی۔ جبکہ اس کے گاؤں اور آس پاس کے دیہات کے لوگوں نے دوسرے تمام اخراجات پورے کیے۔ اس میں اشتہارات، انتخابی سفر اور پروپیگنڈے پوسٹر اور بینرز شامل تھے۔

احمد الشیشینی نے نوجوانوں کو اپنے انتخابی پروگرام کے بارے میں بتایا اور انہیں یا دلایا کہ وہ پہلے بھی سماجی اور فلاحی کام کرچکا ہے۔ پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے کے بعد وہ اپنے حلقے میں محرومیوں‌ کا شکار افراد کے دکھ بانٹنے کی ہرممکن کوشش کرے گا۔

الشییشنی نے کہا کہ میں اپنے گاؤں اور ہمسایہ دیہاتوں میں 10 سالوں سے رفاہی کام کر رہا ہوں جن میں دولت مندوں اور ڈونروں کے پاس جانا اور ان سے رقم اکھٹی کرکے ضرورت مند بزرگوں ، معذوری سے دوچار افراد کی مدد کرنا ہے۔ وہ بیماروں کے لیے ادویات کا اہتمام کرتا اور ضرورت مندوں میں کپڑے اور خوراک پہنچاتا رہا ہے۔

اس کے علاوہ اس نے کہا کہ وہ اپنی لائبریری سے حاصل ہونے والی آمدن کو بھی فلاحی کاموں پر صرف کرتا ہے۔ لائبریری سے حاصل ہونے والی آمدنی سے اسکول کے ضرورت مند بچوں کے لیے اسٹیشنری،کاپیاں ، قلم اور اسکول کا سامان خریدنے اور انہیں ضرورت مند طلباء میں تقسیم کرنے ، ڈاکٹروں اور میڈیکل لیبز سے ملاقاتیں کرکے نادار مریضوں کے ٹیسٹوں میں رعایت دلوانے اور مفت طبی معائنہ کرانے میں ان کی مدد کرتا رہا ہے۔

الشیشنی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے مخالف امیدواروں کو 59 ہزار ووٹوں کی لیڈ سے شکست دی۔ حلقے کےعوام کی طرف سے اسے بہت زیادہ پذیرائی دی گئی ہے اور لوگ اسے غلابہ کا نائب سمجھتے ہیں اور وہ بھی اپنے حلقے کے عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے۔