بین الاقوامی

چین نے تنقید کے باوجود ہانگ کانگ سے متعلق سیکیورٹی قانون منظور کر لیا

بیجنگ ،۳۰؍جون ( آئی این ایس انڈیا ) چین نے امریکہ اور یورپی ملکوں کی شدید مخالفت کے باوجود ہانگ کانگ سے متعلق متنازع سیکیورٹی قانون منظور کر لیا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین کی پارلیمنٹ نے منگل کو ہانگ کانگ کے لیے سیکیورٹی قانون کی متفقہ طور پر منظوری دی ہے۔ پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے نئے سیکیورٹی قانون کا ڈرافٹ ابھی شائع ہونا باقی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چین کا سرکاری خبر رساں ادارہ منگل کو ہی نئے قانون کی بعض شقوں کو شائع کرے گا۔ چین کا کہنا ہے کہ ہانگ ہانگ میں گزشتہ برس شروع ہونے والے پرتشدد احتجاج کے بعد سیکیورٹی قانون کی ضرورت پیش آئی ہے جس کا مقصد دہشت گردی، بغاوت، علیحدگی پسندی اور غیر ملکی قوتوں کے ساتھ ملی بھگت جیسے اقدامات سے نمٹنا ہے۔

چین کی سرکاری نیوز ایجسنی نے رواں ماہ مسودہ قانون کی بعض شقیں جاری کی تھیں جس کے مطابق ہانگ کانگ کے موجودہ قوانین کو ختم کرنا اور اس کی تشریح کا اختیار چین کی پارلیمنٹ کی ٹاپ کمیٹی کے پاس ہو گا ۔چین اور ہانگ کانگ کے حکام متواتر کہہ چکے ہیں کہ سیکیورٹی قانون مسائل پیدا کرنے والوں کیلئے ہے اور اس سے شہریوں کے حقوق، آزادی اور سرمایہ کاروں کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچے گا۔ چین کی جانب سے ہانگ کانگ میں نیشنل سیکیورٹی آفس کا قیام بھی متوقع ہے جہاں سے شہری حکومت کی نگرانی، رہنمائی اور اس کی مددجاری رکھی جائے گی۔ یاد رہے کہ ہانگ کانگ برطانیہ کی کالونی تھی جسے 1997 میں ایک معاہدے کے تحت برطانیہ نے اسے چین کے حوالے کیا تھا۔

یکم جولائی کو ہانگ کانگ کی چین کو حوالگی کے 23 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں چین مخالف دھڑوں کی جانب سے تقریبات کا اعلان کیا گیا ہے اور احتجاج بھی متوقع ہے۔تاہم پولیس نے یکم جولائی کی تقریبات پر پابندی عائد کر دی ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے چار ہزار اہلکاروں کو اسٹینڈ بائی پر رکھا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یکم جولائی کو مظاہرین پر نئے سیکیورٹی قانون کا اطلاق ہو گا یا نہیں۔امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف ملکوں نے چین کے نئے سیکیورٹی قانون کی مخالفت کی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close