بین الاقوامی

چین کے تعلیمی ادارے کھل گئے، کرونا کا منبع ’ووہان ‘میں تمام مریضوں کی صحت یابی کا دعویٰ

بیجنگ ، لندن ؍27اپریل ( آئی این ایس انڈیا )چین کے دو انتہائی اہم شہروں میں تین ماہ بعد اسکول کھول دیے گئے ہیں جہاں بچوں کی تدریس کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین کی حکومت نے کرونا وائرس کے باعث عائد پابندیوں میں بتدریج نرمی کرنا شروع کر دی ہے۔ پیر سے بیجنگ اور شنگھائی میں تعلیمی ادارے کھول دیے گئے جہاں کئی ماہ بعد تدریس کا سلسلہ ایک بار پھر بحال ہوا ہے۔ شنگھائی میں ثانوی اور اعلیٰ ثانوی جماعتوں کے ان طلبہ کو کلاس میں جانے کی اجازت دی گئی ہے جو فائنل ایئر میں ہیں۔ بیجنگ میں صرف اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو کلاسز میں جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسکول کھلنے کے حوالے سے شنگھائی کی 18 سالہ طالبہ ہانگ ہوان کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں ایک طویل عرصے کے بعد اپنی ہم جماعت ساتھیوں سے مل سکوں گی۔ہانگ ہوان نے مزید کہا کہ گھر میں رہ کر سارا دن کمپیوٹر کے سامنے بیٹھنا ایک مشکل ترین کام تھا۔ گھر میں اس طرح کچھ زیادہ بہتر انداز سے سیکھا بھی نہیں جا سکتا تھا۔پیر کو اسکول آنے والے طلبہ کا مرکزی دروازے پر ہی جسمانی درجہ حرارت کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔ طلبہ کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ خصوصی طور پر تیار کی گئی موبائل ایپلی کیشن پر گرین کا نشان دکھائیں گے۔اس ایپلی کیشن کے ذریعے وبا سے متاثر ہونے کے امکانات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ چین کی وزارت تعلیم نے تعلیمی اداروں میں آنے والے تمام افراد کے لیے یہ احتیاطی تدابیر لازمی قرار دی ہیں۔ یاد رہے کہ چین میں پانچ ماہ قبل دسمبر 2019 میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آئے تھے۔ بعد ازاں حکومت نے سخت اقدامات کیے اور حکومتی دعوؤں کے مطابق وائرس کو کنٹرول کر لیا گیا ہے۔ جس کے بعد اب ملک میں عائد بندشوں کو بتدریج کم کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ خدشہ اب بھی موجود ہے کہ وبا دوبارہ سے پھیل سکتی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین میں حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ کرونا وبا جس شہر ووہان سے شروع ہوئی تھی وہاں اب اسپتالوں میں کرونا وائرس کا کوئی مریض نہیں ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close