بین الاقوامی

حکومت مخالف ترک گلوکارہ 288 روزہ بھوک ہڑتال کے باعث ہلاک

انقرہ ؍ 4 اپریل( آئی این ایس انڈیا ) ترک حکومت کی پابندیوں سے تنگ آکر بہ طور احتجاج مسلسل 288 دن بھوک ہڑتال کرنے والی ایک گلوکارہ اور ممنوعہ موسیقی بینڈ کی رکن گذشتہ روز دم توڑ گئیں۔خبر رساں اداروں کے مطابق ’یورم‘ موسیقی بینڈ کی طرف سے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ہیلن پولک جمعہ کو استنبول کے ایک گھرمیں 288 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد انتقال کر گئیں۔ ھیلن نے کئی ماہ قبل حکومت کی طرف سے موسیقی بینڈ پرعاید کردہ پابندیوں اور بینڈ کے خلاف حکومتی رویے میں تبدیلی کے لیے بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ خاتون موسیقارہ نے تا دم مرگ بھوک ہڑتال جاری رکھی۔خیال رہے کہ ترک حکومت نے ایک مقبول موسیقی بینڈ پر سنہ 2016ء￿ میں پابندی عاید کرنے کے بعد اس کے متعدد ارکان کو گرفتار کر لیا تھا۔حکومت نے اس گروپ پر باغی پیپلز لبریشن پارٹی سے بھی تعلقات رکھنے کا الزام عائد کیا ہے ، جسے ترکی ، امریکا اور یوروپی یونین نے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ھیلن پولک اور اس کے ساتھی ابراہیم گوکچیک نیحراست میں لیے اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے بھوک ہڑتال شروع کی تھی مگر حکومت نے ان کا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا تھا۔ایک ترک اخبار نے بتایا کہ ان دونوں کو 11 مارچ کو زبردستی اسپتال لایا گیا تھا، لیکن علاج سے انکار کے بعد ایک ہفتہ بعد ہی انھیں فارغ کر دیا گیا تھا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close