بین الاقوامی

امریکہ میں بے روزگاری کی شرح 50 سال کی بلند ترین سطح پر

نیویارک ؍ 4 اپریل( آئی این ایس انڈیا ) امریکہ میں تقریباً ایک عشرے کے بعد اس سال مارچ میں ملازمتوں کی فراہمی کی ریکارڈ بڑھوتی یک لخت رک گئی ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے آجروں نے سات لاکھ ایک ہزار ملازمتیں ختم کر دیں، جس سے امریکی معیشت جمود کا شکار ہو گئی ہے۔بے روزگاری کی شرح گزشتہ پچاس سال میں بڑھ کر چار اشاریہ چار فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے پہلے بے روزگاری کی سب سے بلند شرح تین اشاریہ پانچ فیصد تھی۔ملازمتوں کے ماہانہ نقصان کے اعداد و شمار حکومت نے جاری کئے ہیں، جو کہ سن 2009 کی کساد بازاری کے بعد بدترین ہیں۔ یہ اس بات کا دھیما سا اشارہ ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ گزشتہ ماہ ملازمتوں کی صورتحال اس سے بھی بدتر تھی، کیونکہ گزشتہ پندرہ روز کے دوران سب سے بڑی تعداد میں ملازمین کو فارغ کیا گیا۔مارچ کے آخری دو ہفتوں میں تقریبا ً دس ملین امریکیوں نے بے روزگاری الاؤنس کیلئے درخواستیں دائر کی ہیں۔ اس سے پہلے اتنی بڑی تعداد میں بے روزگاری الاؤنس کیلئے درخواست گزاروں کا ریکارڈ نہیں ملتا۔۔وائرس کی وجہ سے کاروباروں کی بندش ہوئی اور مجبوراً وسیع پیمانے پر برطرفیاں کی گئیں، جن میں ہوٹل، ریستوران، سینما گھر، موٹرساز کاخانے، انتظامی دفاتر اور ڈیپارٹمنٹل سٹور شامل ہیں۔ سن 1975ء￿ کے بعد یہ فروری سے لیکر مارچ تک سب سے زیادہ برخواستگیاں ہیں۔ گزشتہ ایک عشرے کے دوران، امریکی معیشت میں بائیس اشاریہ اٹھائیس ملین ملازمتوں کا اضافہ ہوا۔ اپریل میں ملازمتوں کی صورتحال کے بارے میں ماہِ مئی میں رپورٹ جاری کی جائے گی۔ ماہرین معیشت کو توقع ہے کہ اس رپورٹ سے ظاہر ہوگا کہ یہ تمام ملازمتیں ختم ہو گئیں۔اندازاً صرف مارچ میں چار لاکھ انسٹھ ہزار، یعنی تقریبا دو تہائی ملازمتیں، ریستورانوں، ہوٹلوں اور کسینو کے شعبوں سے ختم کی گئیں۔ پرچون فروشوں نے چھیالیس ہزار جب کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے سے اٹھارہ ہزار ملازمتیں ختم ہوئیں۔اس سال فروری میں ہی امریکی آجروں نے دو لاکھ تہتر ہزار ملازمتیں فراہم کی تھیں۔چند ماہرین معیشت نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ ماہ کے دوران، بے روز گاری کی شرح 15 فیصد تک جا سکتی ہے۔ یہ شرح سن 1930کی عظیم کساد بازاری سے بھی بدتر ہوگی، جب بے روزگاری کی شرح دس فیصد تک پہنچ گئی تھی۔اس وقت امریکہ کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی کسی نہ کسی طرح کے شٹ ڈاؤن کی پابند ہے، یعنی گھروں میں رہنے کی پابندی کر رہی ہے۔ اس کی وجہ سے بار، ریستوران، سینما گھر، فیکٹریاں، جم اور دیگر بہت سے کاروبار بند ہیں۔ چند ہوٹل بھی بند ہو گئے؛ جو کھلے ہیں وہ زیادہ تر خالی پڑے ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close