بین الاقوامی

فیس ماسک کی چوری، امریکا پر یورپ اور کینیڈا کا الزام

برلن ؍ 4 اپریل( آئی این ایس انڈیا ) دنیا بھر میں اس وقت کووڈ انیس بیماری کی مہلک وبا انسانی جانوں کو ہڑپ کر رہی ہے۔ ایسے میں جرمنی نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ احتیاطی طبی سامان مثلاً فیس ماسک کے حوالے سے یورپ کے ساتھ مسابقتی عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔کورونا وائرس کی پھیلی ہوئی وبا کے بعد اب متعدد ممالک انسانوں کے استعمال میں لائے جانے والے احتیاطی طبی سامان کی کمیابی پر پریشان ہیں۔ جرمنی نے امریکا پر خاص طور پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اس نے ایسے فیس ماسک کو جبراً ضبط کرنے کا ارتکاب کیا ہے، جن کی باقاعدہ خریداری کے حوالے سے باضابطہ طور پر مالی ادائیگی بھی کی جا چکی ہے۔ فیس ماسک کی اس ضبطگی کو جرمن حکومت نے جدید قزاقی کا ایک فعل قرار دیا ہے۔ جرمن دارالحکومت کی شہری ریاست برلن کے وزیر داخلہ اندریاس گائزل نے کہا ہے کہ امریکی حکام نے دو لاکھ فیس ماسک کی ایک کھیپ کو بنکاک میں اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ گائزل کے مطابق یہ فیس ماسک جرمنی میں کورونا وائرس کی وبا کے خلاف استعمال کے لیے خریدے گئے تھے۔ جرمن حکومت نے FFP2 معیار کے یہ ماسک ریاستی پولیس کے اہلکاروں کو ڈیوٹی کے دوران استعمال کرنے کے لیے منگوائے تھے۔ ایس پی ڈی کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ رالف مؤٹسنیش نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایسے غیر قانونی ہتھکنڈوں کو استعمال کرنے کی بظاہر ضرورت اس لیے نہیں ہونی چاہیے تھی کہ یہ فیس ماسک ایک اور ملک نے خرید رکھے تھے۔ انہوں نے اس کا اعتراف کیا کہ فیس ماسک کی شدید قلت کے دور میں ایسا کیا جانا کسی حد تک سمجھ میں آتا ہے۔ برلن کے وزیر داخلہ اندریاس گائزل کے مطابق یہ فیس ماسک برلن کی ریاستی حکومت نے اپنی ریاستی پولیس اہلکاروں کے لیے منگوائے تھے۔ ایک جرمن اخبار ٹاگیس اشپیگل کے مطابق یہ فیس ماسک چین میں تیار کیے گئے تھے۔ دوسری جانب امریکی حکومت نے کثیر القومی کمپنی تھری ایم کو فیس ماسک کی ایک انتہائی بڑی کھیپ فوری طور پر فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ کچھ روز قبل فرانس نے بھی امریکا پر کم و بیش ایسا ہی الزام عائد کیا تھا کہ اس نے نقد ادائیگی کر کے چین کی فیکٹریوں سے وہ فیس ماسک خریدے تھے جو ان کے ملک کے لیے بنائے جا رہے تھے۔ دریں اثنا کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے فیس ماسک کی مطلوبہ مقدار کی فراہمی نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ٹروڈو کے مطابق ایسا دکھائی دیتا ہے کہ فوری طور پر زیادہ رقم دینے والے کو تیار کیے جانے والے ماسک فراہم کر کے کینیڈا کی کھیپ میں کمی کی گئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکا کو ایسے فیس ماسک کی بہت زیادہ ضرورت ہے لیکن کینیڈا کی طلب بھی کم نہیں ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close