بین الاقوامی

پاکستان پر بیرونی قرضہ ایک سو سولہ ارب تیس کروڑ ڈالر تک پہنچا

کراچی،10؍ جون (ہندوستان اردو ٹائمز) وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے اج پیش کیئے جانے والے اقتصادی سروے کے اعداد وشمار کے تحت فی کس سالانہ آمدن تیرہ اعشاریہ چار فیصد اضافہ کے ساتھ پندرہ سو تینتالیس ڈالر ہوگئی ہے جو پچھلے مالی سال میں تیرہ سو اکسٹھ ڈالر تھی۔پاکستان پر بیرونی قرضہ میں تین فیصد اضافہ کے ساتھ اس سال مارچ تک پاکستان پر بیرونی قرضہ ایک سو سولہ ارب تیس کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ گزشتہ سال مارچ تک بیرونی قرضہ ایک سو نو ارب بانوے کروڑ ڈالر تھا۔اس وقت ملک پر اندرونی قرضہ اور واجبات پچیس ہزار پانچ سو باون ارب روپے تک پہنچ گئے۔ گزشتہ برس مارچ میں پاکستان پر اندرونی قرضہ اور واجبات چوبیس ہزار چار سو اٹھہتر ارب روپے تھے۔ جولائی تا اپریل کرنٹ اکاؤنٹ ستتر کروڑ ڈالر سرپلس رہا۔ جولائی تا اپریل ترسیلات زر میں گزشتہ سال کی نسبت انتیس فیصد اضافہ ہوا۔ دس ماہ میں ترسیلات زر کا حجم چوبیس ارب چوبیس کروڑ ڈالر رہا۔

اسٹیٹ بینک کے خالص زرمبادلہ ذخائر سولہ ارب تیرہ کروڑ ڈالر رہے۔ گیارہ ماہ میں بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر سات کروڑ ڈالر کی کمی کے ساتھ سات ارب سولہ کروڑ ڈالر رہے۔اقتصادی سروے کے مطابق کپاس کے علاوہ دیگر فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ گنے کی پیداوار بائیس فیصد اضافے کے ساتھ آٹھ کروڑ دس لاکھ ٹن سے زائد رہی جبکہ گندم کی پیداوار آٹھ اعشاریہ ایک فیصد اضافے کے ساتھ دو کروڑ بہتر لاکھ ترانوے ہزار ٹن رہی۔دوسری جانب چاول کی پیداوار تیرہ اعشاریہ چھ فیصد اضافے کے ساتھ چوراسی لاکھ انیس ہزار ٹن رہی۔ آلو کی پیداوار میں تیس فیصد جبکہ پیاز کی پیداوار میں آٹھ اعشاریہ چھ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران لارج مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی شرح نمو آٹھ اعشاریہ نو فیصد رہی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت اٹھارہ فیصد اضافہ کے ساتھ ایک کروڑ پچھہتر لاکھ بیس ہزار ٹن رہی۔ رواں مالی کے پہلے گیارہ ماہ میں ٹیکس آمدن چار ہزار ایک سو تہتتر ارب روپے رہی۔ مئی دوہزار اکیس میں مہنگائی میں اضافہ کی شرح دس اعشاریہ آٹھ فیصد رہی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close