بین الاقوامی

انڈونیشیا اور ایسٹ تیمور میں سیلاب سے درجنوں افراد ہلاک

جکارتہ ، 5اپریل (ہندوستان اردو ٹائمز ) انڈونیشیا اور پڑوسی ایسٹ تیمور میں بارش کے بعد آنے والے زبردست سیلاب نے بھاری تباہی مچا دی جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو اپنا گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے۔انڈونیشیا اور پڑوسی ملک ایسٹ تیمور میں آنے والے زبردست سیلاب اور چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے اب تک کم از کم 75 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں دیگر لاپتہ بتائے جاتے ہیں۔سرکاری عہدیداروں نے پیر کے روز بتایا کہ سیلاب نے زبردست تباہی مچائی ہے۔ اس نے انڈونیشیا سے لے کر ایسٹ تیمور کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔

اس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کے لیے منتقل ہونا پڑا ہے۔ سیلاب اور چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے ندیوں میں پانی کی سطح کافی اوپر پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں مکانات پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ امدادی کارکنوں کو لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے میں کافی مشقت کرنی پڑ رہی ہے۔انڈونیشیا کے ڈیزاسٹرمینجمنٹ ایجنسی کے ترجمان رادتیا جاتی نے میٹرو ٹی وی کو بتایا کہ 55 لوگوں کی موت ہوچکی ہے ،لیکن اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ 42 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

ایسٹ تیمور کے ایک عہدیدار نے بھی بتا یا کہ کم از کم 21 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ ایسٹ تیمور، انڈونیشیا اور آسٹریلیا کے درمیان واقع ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ایسٹ تیمور میں ہونے والی اموات میں سے بیشتر دارالحکومت ڈیلی میں ہوئی ہیں۔جاتی نے تبایا کہ انڈونیشیا کے مشرقی فلورس علاقے میں مکانوں، پلوں اور سڑکوں پر کیچڑ بھر گیا ہے جب کہ بارش ہو رہی ہے اور تیز ہوائیں بھی چل رہی ہیں جس کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو متاثرہ علاقوں میں پہنچنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ کیچڑ اور سخت موسم ہمارے لیے ایک زبردست چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔ ملبوں کے پہاڑ کی وجہ سے تلاشی اور بچاو ٹیم کو پریشانیاں پیش آ رہی ہیں۔جنوب مشرقی ایشیا کے ان ملکوں میں بارش کے موسم میں سیلاب اور چٹانیں کھسکنے کے تباہ کن واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔

جنوری میں بھی انڈونیشیا کے مغربی جاوا کے سمیڈانگ قصبے میں سیلاب کی وجہ سے چالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اور گزشتہ ستمبر میں بورنیو میں چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے کم از کم گیارہ افراد کی موت ہوگئی تھی۔انڈونیشیا کی ڈیزاسٹر ایجنسی کا خیال ہے کہ ملک کی تقریباً نصف آبادی یعنی 125 ملین باشندے چٹانیں کھسکنے کے خطرے سے اکثر دو چار رہتے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ جنگلوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی اس تباہی کی ایک اہم وجہ ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close