بین الاقوامی

بنگلہ دیش: کشتی حادثے میں متعدد افراد ہلاک،کئی لاپتہ

ڈھاکہ ، 5اپریل ( ہندوستان اردو ٹائمز ) ایک چھوٹی کشتی کو ایک مال بردار بڑی کشتی نے پیچھے سے ٹکر مار دی جس سے کشتی وہیں غرقاب ہو گئی۔ اس میں پچاس افراد سوار تھے۔بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا ہے کہ چار اپریل اتوار کی شام کو دریائے شیتا لکھّیا میں ایک چھوٹی کشتی ایک مال بردار جہاز سے ٹکر لگنے کے بعد ڈوب گئی۔ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں کم از کم 50 افراد سوار تھے۔

حکام کے مطابق اب تک پانچ لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ درجنوں افراد اب بھی لا پتہ ہیں۔بنگلہ دیش میں واٹر ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے وابستہ ایک افسر مبارک حسین نے بتایا کہ یہ واقعہ ڈھاکہ کے پاس ہی دریائے شیتا لکھّیا میں اس وقت پیش آیا جب ایک ڈبل ڈیکر کشتی کو مال بردار جہازنے پیچھے سے ٹکر مار دی جس کی وجہ سے کشتی غرقاب گئی۔

یہ کشتی ناریان گنج سے پڑوسی ضلع منشی گنج جارہی تھی جسے تقریباً 45 منٹ کا سفر طے کرنا تھا، تاہم روانہ ہوتے ہی مقامی وقت کے مطابق تقریباً چھ بجے شام کو حادثہ پیش آ گیا۔گم شدہ افراد کی تلاش اور لاشوں کو نکالنے کے لیے غوطہ خوروں کی خدمات کے ساتھ ساتھ دیگر امدادی سرگرمیاں رات میں جاری رہیں۔ تاہم حادثے کے بعد ہی فوری طور پر آنے والے ایک طوفان کے سبب یہ سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔بنگلہ دیش کی حکومت نے کورونا وائرس کی بڑھتی وبا کے پیش نظر پیر پانچ اپریل سے ملکی سطح پر ایک ہفتے کے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے

اور اس خبر کے آتے ہی صنعتی شہر میں کام کرنے والے لوگ اپنے گھرں کی طرف بڑی تعداد میں نکل پڑے اسی لیے کشتی کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔اس سات روز ہ لاک ڈاؤن کے دوران فلائٹ سمیت گھریلو سطح کی تمام نقل و حمل کی خدمات معطل رہیں گی جبکہ مال اور دکانیں بھی بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بینکوں کو ہفتے کے کام کے دنوں میں صرف ڈھائی گھنٹے یومیہ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے

جبکہ نجی اور سرکاری سیکٹر کے کاروباری اداروں میں بھی کم سے کم افراد کو کام کرنے کی اجازت ہوگی۔بنگلہ دیش میں بیشتر افراد نقل و حمل کے لیے ایسی ہی کشتیوں پر انحصار کرتے ہیں اس لیے ایسے حادثات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close