بین الاقوامی

عالم اسلام کی قدیم ترین مسجد ودرسگاہ جامع ازہرکے اساتذہ و طلبہ کاامیرشریعت پرتعزیتی اجلاس

قاہرہ5اپریل(آئی این ایس انڈیا) آج بروز پیر مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع ایک ہزار سال پرانی مسجد اور دنیا کی قدیم ترین دینی وعالمی درسگاہ جامع ازہرکے متعدد اساتذہ اور طلبہ نے امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے لیے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کی ، اس موقع پر اپنے تعزیتی پیغام میں جامعہ ازہرکے مؤقر استاذ ڈاکٹر سیف رجب قزامل سابق ڈین فیکلٹی آف شریعہ طنطا نے حضرت کی موت پر اپنے گہرے رنج وافسوس کا اظہار کیا ،سوشل میڈیا پر انکے جنازہ میں موجود جم غفیر دیکھ کر انہوں نے کہا کہ جنازہ میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا اکھٹا ہوناانکے عند اللہ مقبول ہونے کی علامت ہے اورکہاہے کہ2017 میں خانقاہ رحمانی کی زیارت کیوقت مجھے وہاں انکی شخصیت اور خدمات کو قریب سے دیکھنے کو ملا تھا وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔اللہ انکی خدمات کو قبول فرمائے ،اسی طرح ڈاکٹر براء صفوان استاذ فیکلٹی آف عربک زبان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا مرحوم ایک مخلص اور جہاندیدہ قائد تھے ،ان سے ملاقات کے دوران ایسا محسوس ہوا تھا کہ علم روحانیت کے وہ حسین پیکر ہوں ،انکی وفات کی خبر سنکر دلی صدمہ ہوا ،اللہ انہیں اپنے محبوب بندوں میں جگہ عطا فرمائے۔وہیں دوسری جانب اپنے تعزیتی پیغام میں قاہرہ میں مقیم قدیم ترین ندوی اور جامعہ عین شمس کے پروفیسر ڈاکٹر عبد المجید ندوی ازہری نے مولانا کی وفات پر اپنے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا بہت ہی بلند پایہ عالم دین تھے ،ملت اسلامیہ ہندیہ کی مضبوط آواز تھے وہ بلند و جرات مند قائدتھے۔اللہ انکو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔

 

اسی طرح جامعہ ازہر کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز (شعبہ اردو) فیکلٹی آف لینگویجیز کے مؤقر استاذ ڈاکٹر محمد عزیر ندوی نے کہا کہ یوں تو زندگی اور موت کا سلسلہ ابتداء آفرینش سے ہی جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا، بڑے اور چھوٹے ہر طرح کے لوگ یہاں آتے رہیں گے اوراپنی یادوں کے نقوش چھوڑ کر یہاں سے جاتے رہیں گے۔ لیکن ان میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی موت فرد واحد کی موت نہیں بلکہ پوری امت کی موت ہوتی ہے، حضرت امیر شریعت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری جنرل حضرت سید محمد ولی رحمانی صاحب مرحوم کی شخصیت بھی کچھ اسی طرح کی تھی، وہ ایک جامع، ہمہ گیر اور متعدد الکمالات شخصیت کے مالک تھے، وہ خانقاہی بھی تھے اور سیاسی بھی۔ وہ قانون داں بھی تھے اور حقوق نسواں کے پاسباں بھی، ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آواز حق بھی بلند کرتے اور مظلوموں کی داد رسی بھی کرتے ، وہ اسلام اور مسلمانوں کی تلوار بھی تھے اور زرہ بھی۔ ویسے تو مرحوم نے بہت سارے کارنامے انجام دیئے ہیں لیکن میرے نزدیک ان کے دو کام انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، ان میں ایک کام دفاعی ہے اور دوسرا ترقیاتی ہے ، چنانچہ انہوں نے اگرایک طرف مدارس اسلامیہ کو حکومت کی چنگل سے دور رکھ کر اسلام اور مسلمانوں کے عقیدے اور شناخت کی حفاظت کی تو دوسری طرف رحمانی تھرٹی جیسا انتہائی اہم اور مفید ادارہ قائم کرکے ہونہار اور لائق مسلم بچوں کو ترقی کا راستہ بھی دکھایا۔ مولانا مرحوم نے اپنے ان دو کارناموں کے ذریعے مسلم قوم کو نئی راہ دکھائی ، اور اسے یہ پیغام دیا کہ اگر تم مسلمانوں کی عظمت رفتہ واپس لانا چاہتی ہو تو تمہیں ان دوکاموں کو اولیت دینا ہوگی، ایک یہ کہ اسلامی درسگاہوں کو سرکاری مداخلت سے دور رکھ کر قوم کی دینی وملی شناخت اور اسلامی عقائد و اخلاق کو محفوظ رکھو ، اور دوسرا یہ کہ” رحمانی تھرٹی” نما تعلیمی ادارہ قائم کرکے قوم کے لائق اور ہونہار فرزندوں کو اعلی تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرو، تاکہ وہ ملک وملت کی قیادت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیں اور اس کی ڈوبتی نیا پار لگائیں، اور مسلمانوں کو ایک ترقی یافتہ قوم کی حیثیت سے پیش کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا کی بال بال مغفرت فرمائے، ان کے کاموں کو قبول فرمائے، ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے، ان کے پسماندگان کو صبر جمیل دے، اور ہم سب کو توفیق دے کہ ان کے لگائے ہوئے پودوں کی آبیاری کریں ، اور انہیں ثمر آور بناکر ، مسلم قوم کو ترقی کی چوٹی پر پہنچانے سے متعلق ان کا خواب شرمندہ تعبیر کریں۔

مولانا بہت ہی اعلی فکر کے حامل تھے ،مولانا مرحوم بے باک و جرات مند قائد تھے ،وہ موجود ہ پر آشوب دور میں امید کی کرن تھے ،اللہ حضرت کو غریق رحمت کرے.، جنت الفردوس میں انبیائے کرام ، شہدائے عظام اور اپنے دیگر نیک وپرہیزگار بندوں کی صحبت نصیب کرے. اور ان کی علمی ودینی خدمات اور ان کے مخلص شاگردوں کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔اس موقع پر ریسرچ اسکالر مولانا فضل الرحمن ندوی ازہری نے مرحوم کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مرحوم جہاں ایک بے مثال مربی وقائد تھے، وہیں انکی شخصیت بہت ہی دلآویز تھی ،وہ سادگی اور انکساری کی انوکھی مثال تھے،وہ حضرت مولانا منت اللہ نور اللہ مرقدہ کے حقیقی معنوں میں جانشیں تھے ،وہ اپنی تحریروںوتقریروں میں اسلام کی بالادستی اور اسکی ہمہ گیریت و ابدیت اور دنیا و آخرت کی فلاح و بہبود کے لئے صرف اسلام ہی کے کار آمد ہونے کو بہت ہی خوبصورت اور دلکش انداز میں پیش کرتے ،اور عوام و خواص کو دینی امور پر سختی سے کاربند ہونے کی ہدایت دیتے ان جیسی علمی وفکری اور جامع شخصیت مدتوں میں پیدا ہوتی ہے۔اسکے علاوہ ازہر میں مقیم متعددطلبہ نے اپنے رنج وغم کا اظہار کیاہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close