بین الاقوامی

نہر سوئز میں مال بردار بحری جہاز کے پھنسنے کی وجہ کیا تھی؟

قاہرہ، 2 اپریل ( آئی این ایس انڈیا ) دنیا کی سب سے بڑی آبی تجارتی گزرگاہ نہر سوئز میں پھنسے ہوئے دیو ہیکل مال بردار بحری جہاز کو ہٹا کر ایک ہفتے سے پھنسے شپنگ کنٹینرز اور مال بردار بحری جہازوں کی ٹریفک کو بحال کیا جا چکا ہے۔ لیکن اب بھی اس معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے کہ ایسا واقعہ پیش کیوں آیا۔کیا جہاز کا آپریٹر ذمہ دار تھا؟ کمپنی کی غلطی تھی یا موسم ذمہ دار تھا؟ جہاز کی مالک کمپنی ایور گرین کارپوریشن نے چوبیس مارچ کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ 65 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی شدید آندھی اور گرد کے طوفان کے باعث جہازکا رخ تبدیل ہو گیا تھا۔

 

رپورٹ میں بتایا گیاکہ اس جہاز کو چلانے والی تائیوانی کمپنی ایور گرین میرین کارپ محتاط انداز سے کام کرتی ہے جس سے کسی حادثے کے رونما ہونے کا خطرہ کم سے کم ہوتا ہے، جب کہ کمپنی کے تمام فیصلے چوٹی کے عہدیدار کرتے ہیں۔کمپنی سے قریب افراد کا کہنا ہے کہ ایور گرین کارپوریشن کے جہازوں کو گزشتہ ہفتے سے پہلے کبھی حادثہ پیش نہیں آیا۔ اس کا کریڈٹ وہ ایور گرین کے بانی چینگ ینگ فاکے کمپنی میں قائم کردہ ڈسپلن کو دیتے ہیں، جن کا انتقال دوہزار سولہ میں اٹھاسی برس کی عمر میں ہوا۔انہوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں کام شروع کر کے دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک تائیوانی بحری جہاز میں تھرڈ آفیسر کی ملازمت اختیار کی اور اپنے دوستوں کے ساتھ ایک میرین شپنگ فرم کی بنیاد رکھی۔ پھر 1968 میں صرف ایک پرانے بحری جہاز سے ایور گرین میرین کارپ قائم کی۔ آج ایور گرین کارپوریشن کے پاس 200 شپنگ کنٹینرز کا فلیٹ ہے۔چینگ کو اپنی کمپنی چلانے کے لئے ان کے جاپانی انداز کے ڈسپلن کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ چینگ کی موت کے بعد کمپنی میں حصول کرنے کی جنگ ان کے بیٹوں کے درمیان عدالت میں طے پائی۔شپنگ انڈسٹری اور بحری معاملات پر ریسرچ کے ادارے پولیرِس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے صدر لی اینگ کوایوآن نے سوئز کینال میں پیش آنے والے حادثے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یقینا کمپنی کا انتطام اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ایور گرین کارپ نے تئیس مارچ کوسوئز کینال میں پھنسنے والا بیس ہزار ٹن وزنی سامان بردار بحری جہاز ایک کمپنی ایور گی ون کو لیز پر دیا تھا۔

 

جہاز کے سوئز کینال میں پھنسنے سے اربوں ڈالر یومیہ مالیت کے تجارتی سامان کی ترسیل رک گئی تھی۔کمپنی کے ترجمان نے پیر کے روز کمپنی کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ تاہم ایور گرین نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایک دفعہ جہاز کے مالکان اور دیگر متعلقہ فریق اس حادثے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر لیں، تو بعد میں وہ کمپنی مالکان کے ساتھ باقی معاملات میں تعاون کریں گے۔تائیوان انٹرنیشنل لاجسٹکس اینڈ سپلائی چین ایسوسی ایشن کی سربراہ ، کیتھی چِن کا کہنا ہے کہ سوئز کینال میں ہوئے حادثے کو شاید نصف برس تک یاد رکھا جائے گا، لیکن ایور گرین میرین کارپوریشن کا کاروبار جاری رہے گا، کیونکہ دنیا کا نوے فیصد سامان بحری راستوں ہی سے پہنچایا جاتا ہے۔کیتھی چِن کہتی ہیں کہ شپنگ انڈسٹری سے وابستہ لوگ بالاخر اپنی توجہ شاید جہاز کے دیو ہیکل سائز کے مقابلے میں تین سو گز چوڑی نہر پرمرکوز کریں گے، جہاں یہ جہاز پھنس گیا تھا۔ چن کا کہنا تھا کہ لوگ اب سوچ رہے ہیں کہ کیا انہیں واقعی اس جیسے بڑے جہاز کی ضرورت ہے، کیونکہ گزرگاہ کی بھی اپنی ایک حد بندی اور گنجائش ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close