ہندوستان اردو ٹائمز

مسلمانوں کےمسائل کاحل بس تعلیم ہی ہے! انوار الحق قاسمی

کل بتاریخ 9/رجب المرجب 1442ھ مطابق 22/فروری بروز سوموار کو مسلمانوں کےمسائل اور ان کے حل کےعنوان پر جنکپور کےویل کم ہوٹل میں جمعیت علماء نیپال کاایک تاریخی پروگرام ہوا،جس میں دونمبر پردیش کے مختلف اضلاع سے کثرت سےعلماء کرام ،دانشوران عظام اور دوعظیم مہمانان خصوصی :(1 )سابق وزیر اعظم ،فورم نیپال کےصدر اوپندریادو(2 )دونمبر پردیش کےوزیر اعلی لال بابوراؤت نےشرکت کی۔
خصوصی طور پر ضلع روتہٹ سےشرکت کرنےوا لےعلماء کرام ونشوران عظام کےاسماء ذکرکیےجاتےہیں:
(1 )حضرت مولانا قاری حنیف عالم صاحب قاسمی مدنی سکریٹری جمعیت علماء نیپال (2 )حضرت مولانا محمد عزرائیل صاحب مظاہری مرکزی ممبر جمعیت علماء نیپال (3 )حضرت مولانا محمد شوکت علی صاحب قاسمی مدنی صدرجمعیت علماء روتہٹ(4 )حضرت مولانا اسعد اللہ صاحب مظاہری مرکزی ممبر جمعیت علماء نیپال(5 )حضرت مولانا مفتی ناصر صاحب قاسمی(6 )حضرت مولانا جوادعالم صاحب مظاہری(7 )حضرت مولانا سراج صاحب جمالی (8 )حضرت مولانا درخشید صاحب (9 )حضرت مولانا خیرالدین صاحب مظاہری(10 )حضرت مولاناصابر صاحب مظاہری (11 )انجنئیر عبدالجبار صاحب مٹھیا خزانچی جمعیت علماء نیپال(12 )مکھیاسلیم اللہ صاحب (13 )حضرت مولانا معین الدین صاحب (14 )راقم :انوار الحق قاسمی۔
مجلس کاآغاز تلاوت قرآن سےہوا،اورشان رسالت میں نذرانہ عقیدت ساجد رضا نےپیش کیا۔
حضرت مولانا ہارون خان صاحب مظہری نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا،اور نظامت کےفرائض حضرت مولانا مفتی خالدصدیقی صاحب نےانجام دیا۔
جمعیت علماء نیپال کےسکریٹری حضرت مولانا قاری حنیف عالم صاحب قاسمی مدنی مسلمانوں کےموجودہ مسائل کو پیش کرتے ہوئے فرمایا :(الف )غربت وافلاس کی شکار انسان ترقی کی فہرست میں سب سے نیچے۔
(ب)تعلیمی شعبہ میں بالخصوص صوبہ نمبر2 میں دلتوں سے بھی بدترحالت۔
(ج)حکومتی عہدوں اور مناصب میں صفر
(د)تہذیب وثقافت ،زبان وادب اورروایات کےتحفظ اور اس کےنظام عمل میں بالکلیہ غفلت ۔
(ہ)عدل وانصاف میں نارسائی کااحساس۔
حضرت نے اور بھی دیگر مطالبات پیش فرمایا ۔
جملہ مسائل کےحل پر روشنی ڈالتےہوئےوزیراعلی لال بابوراؤت نےبڑے ہی درد بھرے لہجے میں کہا کہ ہم مسلمانوں کےمسائل کاحل صرف تعلیم ہی سے ممکن ہےاور ہمارے مسائل ؛اس لیے حل نہیں ہورہےہیں کہ ہم تعلیم میں بہت ہی پیچھے ہیں ۔
اگر واقعی ہم تمام مسلمان دل سےیہ چاہتے ہیں کہ حکومت مسلمانوں کےمسائل حل کرے ،توپھر ہم مسلمانوں کوتعلیم میں آگے آناہوگااور ہرمسلمان کو تعلیم میں آگےبڑھاناہوگا۔
اس لیے آپ حضرات ہرہربستی میں جاجاکر تعلیمی بیداری مہم چلائیں اور تمام مسلمانوں کوترغیب دیں اور انہیں ابھاریں کہ اپنی اپنی اولادوں کو اسکولوں اور کالجوں میں بھیجیں اور انہیں اعلی تعلیم دلوائیں،تاکہ وہ ماہر ڈاکٹر، انجینئر ، سائنس داں اور سیاست داں بن سکے۔
جہاں مسلم قوم تعلیم یافتہ ہوئی ،ویسے ہی ہمارے سارےمسائل ایک ایک کرکے حل ہوجائیں گے ۔
اور واضح رہے کہ جب تک مسلم قوم تعلیمی میدان میں ترقی نہیں کرےگی،اس وقت تک مسلمانوں کےمسائل حل نہیں ہوسکتےہیں ۔