بہار و سیمانچل

سونسا و سیہین روڈ کا ڈرائیورسن ٹوٹنے کی وجہ سے درجنوں گاؤں کا ہسوا اور نوادہ سے رابطہ منقطع ہو گیا

ہسوا ، نوادہ (محمّد سُلطان اختر) سونسا و سیہین گاؤں کے قریب تلیا ندی پر بنایا ہوا ڈرائیورسن بدھ کی رات کو ٹوٹ گیا۔ اس ڈرائیورسن کے ٹوٹنے کی وجہ سے ، سیہین ، ترونی ، دونا ، ڈفلپورہ ، بھولا بگھا ، جیشری بگھا ، ڈیہوری ، مرکٹا ، شچول ، کھیرن بلدار سمیت درجنوں گاؤں کا رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔ اس راستے کے ذریعہ ضلع گیا کے درجن بھرگاؤں جیسے روئلا ، پانڈے چک ، مہاپور ، چیا وغیرہ درجنوں گاؤں کے لوگ اسی راستے سے گزرتے تھے۔ ایک ہفتہ مسلسل بارش کی وجہ سے پانی کا دباؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈرائیورسن ٹوٹ گیا۔ اِس ڈرائیورسن سے مذکورہ بالا تمام گاؤں کے لوگوں کو کافی پریشانی جھیلنی پر رہی ہے انہیں بازار جانے کے لئے پہنچنے 50-60 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔ مذکورہ گاؤں کے لوگوں کو پیسوں اور پریشانیوں کے علاوہ ضیاع مسافت طے پڑےگا اور زیادہ وقت برداشت کرنا پڑے گا۔ مولانا نوشاد زبیر ملک رہائشی سیہین و ترونی گاؤں کے رہائشی وجے کمار اور مدن کمار ، دونا کے پپو سنگھ ، انیل وشوکرما نے بتایا کہ ڈرائیورسن ٹوٹنے کے سبب شادی کرنے والے کنبہ کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ پل 2002 میں تعمیر کیا گیا تھا۔
سنسا-سیہین تليا پل کے اوپر 2002 میں ایک پل تعمیر کیا گیا تھا۔ اس وقت کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سنجے پاسوان نے اپنے رکن پارلیمنٹ کے فنڈ سے لگ بھگ ساڑھے چوبیس لاکھ کی لاگت سے تلیا ندی پر ایک پل تعمیر کیا تھا۔ پل کی تعمیر کے بعد ، تقریبا 50 گاؤں کا ہسوا اور نوادہ سے رابطہ جڑے ہوئے تھے۔
پل چوڑا کرنے کی وجہ سے پل کو توڑا گیا۔
باجرہ موڑ سے گونر بگھا تک سڑک کی چوڑائی منصوبہ کی وجہ سے تلیا ندی پر تعمیر کیا گیا تھا پھِر توڑ دیا گیا سونسا گاؤں کے قریب 30 فٹ چوڑا پل تعمیر ہونا تھا اس لئے توڑا گیا پانی کا پریشر تسلسل کے ساتھ جاری ہونے کی وجہ کر ڈرائیورسن ٹوٹ گیا۔ٹھیکیدار و ایجنٹ کے ذریعے ڈرائیورسن صحیح طریقے سے نہیں بنائے گئے۔ گاؤں والوں نے بتایا کہ بجرا موڑ سے گونر بگھا تک سڑک کی توسیع کے لئے تلیا ندی پرپل تعمیر ہونا ہے پل کے قریب ڈرائیور سن کی تعمیر صحیح نہیں ہوا۔پل کنکریٹ کی لاپرواہی سے یہ حادثہ ہوا۔ گاؤں والوں نے بتایا کہ یاس طوفان کے باعث ہونے والی بارش کی وجہ سے ، سونسا ندی پر بنایا گیا ڈرائیور سن پانی کی تیز رفتار سے بہہ گیا تھا۔
سیہین دونا گاؤں کے درجنوں لوگوں نے بتایا کہ برسات موسمِ کے اختتام پر ایجنٹ کو پل توڑنا چاہئے تھا۔ اگر یہ پل نہ توڑا گیا ہوتا تو مذکورہ بالا تمام گاؤں کو کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close