بہار و سیمانچل

صلاحیتوں کے لحاظ سے مولانا احمد ولی رحمانی امیر کے لیے زیادہ اہل ہیں:محمد مظہر عالم

صاحب گنج، 15جون(ہندوستان اردو ٹائمز) امیر شریعت سابع کے بعد امیر شریعت ثامن کے تلاش میں ابھی امارت شرعیہ بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ ہے، اس کا انتخاب ارباب حل وعقد کرتے ہیں، کئی نام سامنے آرہے ہیں، ان ناموں میں خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں حضرت مولانا احمدولی فیصل رحمانی صاحب میرے خیال میں سرفہرست نظر آرہے ہیں، ان کا انتخاب امارت کے لیے نیک فال ثابت ہوگا،حافظ مولوی محمد مظہر عالم صاحب ، صاحب گنج نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے جہاں تک معلوم ہے، حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی ذات سے اللہ نے بڑا بڑا دینی ودنیوی کام لیا ہے، وہ عہدوں کے پیچھے کبھی نہیں بھاگتے، عہدہ ان کے پیچھے پیچھے دوڑرہا ہے، اور عہد ہ کا وقار انکی وجہ سے بڑھا، عالمی سطح پر بڑے بڑے اداروں کے چلانے کا ان کے پاس تجربہ ہے، میرا خیال ہے کہ ان کے امیر شریعت بننے سے ان کا کوئی نام بلند نہیں ہوگا، بلکہ قوم وملت کا بڑا فائدہ ہوگا، وہ بے لوث خادم کی طرح کام کریں گے،

انہوں نے کہا کہ ان کے دادا امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانی صاحبؒ جب امیر منتخب کیے گئے تھے، ا ن کی عمر تقریباً وہی تھی، جو حضرت مولانا احمدولی فیصل رحمانی کی ابھی ہے، اور دنیا نے دیکھا کہ مولانا منت اللہ رحمانی نے امارت کو کس بلندی پر پہونچایا،مظہر صاحب نے کہا کہ وراثت صلاحیت کے لیے رکاوٹ نہیں بنتی، ہاں یہ رکاوٹ اس وقت ضرور ہے، جب باپ نے اپنی زندگی میں بیٹا کوا ٓگے بڑھانے کی کوشش کی ہو، مگر یہ ایک سچائی ہے جس سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہئے، کہ نہ باپ نے بیٹے کو کبھی آگے بڑھایا اور نہ بیٹا نے کبھی باپ کی بیساکھی کا سہارا لیا، عوام کی حمایت بھی انہیں کے ساتھ ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close