بہار و سیمانچل

قمر الباری دهمولوی راجد کے تمام تر عہدوں سے دیا استعفی

نواده (محمد سلطان اختر ) ڈاکٹر محمد شہاب الدین صاحب کی موت کو لے کر سیاسی گلیاروں میں بھونچال آ گیا۔ جس میں نوادہ ضلع راجد کے صدر رہ چکے قمر الباری دهمولوی نے تمام تر عہدوں سے استعفیٰ دے دیا انہوں نے کہا کہ جس طرح راجد کی ٹیم تماشائی بنی رہی۔ اور ہر طرف سے اُسامہ شہاب کی بیچینی دیکھی لیکِن راجد کے طرف سے انکی لاش کا کھلواڑ بنانا دیکھ کرقمر الباری دہمولوی دل برداشتہ ہو کر تمام تر عہدوں سے استعفیٰ دے دیا قمر الباری دهمولوی بہت ہی جدوجہد کرنے والے اور نواده ہی نہیں پورے ملک بھر میں پارٹی کے لئے احتجاج کرنے والے،پارٹی کو پروان چڑھانے والے،پارٹی کے لئے بے لوث خدمت کرنے والے، اُنہوں نے کہا جو بچپن سے پوری جوانی بلکہ پوری زندگی لگانے والے ڈاکٹر شہابِ الدین کی پارٹی نہیں ہوئی تو میرا کیا ہوگی۔ جس سے اُنہوں نے راجد کے تمامی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا انہوں نے مزید کہا کہ لالو پرساد کے رہائی کی قیمت شہابِ الدین صاحب کی موت سے ادا کی گئی ہے؟
اس ملک میں ایک سابق رکن پارلیمنٹ اور قدآور لیڈر کے ساتھ راجد اور سرکاری انتظامیہ کا ایسا رویہ ہے کہ عام آدمی کاحال بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جسد خاکی کی جس طرح بے حرمتی کی گئی ہے وہ بیحد تکلیف دہ ہے، اور اس پر راجد پارٹی جشن منانے سے کم نہیں کیا۔
ڈاکٹر شہاب الدین صاحب اپنی زندگی کی شروعات سے لے کر آخر تک راجد کے ہی رہے۔جیل سے رہائی پر کہا تھا میرا نیتا نتیش کمار نہیں میرا نیتا لالو پرساد یادو ہے،مگر ہائے افسوس راجد ایسے وقت اُنکو انگوٹھا دیکھایا جب وُہ رخصت ہو چکے تھے۔رابري دیوی انگوٹھا چھاپ وزیراعلی کے طور پر رابری دیوی کو کو بحال کرنا یہ ڈاکٹر شہابِ الدین صاحب کی دین تھی ۔لالو جی جیل جاتے ہوئے کہا اب میری عزت شہابِ الدین تیرے ہاتھ میں ہے۔۔اور ذمه داری بخوبی نبھایا بھی۔ اور بھی بڑے بڑے کارنامے راجد کے لئے کیئے۔ لیکن آج راجد پریوار نے ڈاکٹر شہاب صاحب کی موت کا جشن منایا تماشہ بنا دیکھتا رہا۔قمر الباری دھمولوي کہتے ہیں کہ جب ڈاکٹر شہاب الدین صاحب کو بلی کا بکرا بنا دیا گیا تو ہم لوگ کون کھیت کے مولی ہیں کیوں مون ہیں اور کیوں خاموش ہیں۔وقت پر یاد کرایا جائے گا۔ اتنے دنوں تک پارٹی کے لئے کام کرنے کا صلہ یہ ملا اس لئے دل برداشتہ ہو کر قمر الباری دهمولوی نے استعفیٰ دے دیا تمام تر عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ایسا لگتا ہے کہ بہار میں اب راجد کا نام لینے والا تک نہیں رہے گا یہ مذہب ذات پات کی پارٹی خاندانی پارٹی ہے۔ خاندان اور ذات و پات کی پارٹی كا کبھی کوئی وجود نہیں ہوتا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close