بہار و سیمانچل

کسانوں کی تحریک پر وحشیانہ بربریت کےخلاف سی پی آئی ایم ایل نے مارچ نکالا اور وزیر اعظم کا پتلا جلایا

مودی حکومت زراعت اور کسان مخالف تینوں سیاہ قوانین واپس لے:سی پی آئی ایم ایل

مظفرپور:30/نومبر (پریس ریلیز ) زرعی اور کسان مخالف تینوں سیاہ قوانین کے خلاف اور مجوزہ بجلی بل -2020 کو واپس لینے کے مطالبے لیکر جاری کسانوں کی تحریک پر ڈھائے گئے بربریت کے خلاف سی پی آئی ایم ایل نے مرکزی حکومت کے اس غیر مناسب رویہ کے خلاف ریاست گیر سطح پر یوم احتجاج منایا، اسی کے تحت شہر میں ایک احتجاجی مارچ نکالا اور وزیر اعظم مودی کا پتلا جلایا۔ مارچ ہری سبھا چوک مالے ضلعی دفتر سے ہوتا ہوا مختلف راستوں سے ہوتا ہوا کلیانی چوک پہنچا جہاں پر وزیر اعظم کاپتلا جلایا گیا۔ اس دوران ، کسانوں کی تحریک پر ہونے والے ظلم کو روکناہوگا، کسان ملک مخالف کالا قانون واپس لو ، ملک پر کارپوریٹ حکمرانی مسلط کرنابندکرو ، جیسے نعرے لگانا بند کئیے گئے۔ مارچ میں سی پی آئی ایم ایل ضلعی سکریٹری کرشن موہن ،ٹاؤن سکریٹری سورج کمار سنگھ، پروفیسراروند کمار ڈے ،آفس سکریٹری سکل ٹھاکر ، انصاف منچ کے ریاستی نائب صدر اور سی پی آئی ایم ایل رہنما آفتاب عالم ، انصاف منچ بہار کے ریاستی ترجمان اسلم رحمانی، ضلعی صدرفہد زماں ، ریاض خان ،طلباء سیل۔آئیسا کے دیپک کمار ، انقلابی نوجوان سبھا کے شفیق الرحمن ،محمد اعجاز، راج کِشور پرساد ، دھننجئے کماردیگر طلباء ، نوجوان سمیت پارٹی کارکن شامل تھے۔اس دوران کرشن موہن نے کہا کہ مرکز میں مودی حکومت کے سامنے پرامن اور جمہوری انداز میں تین کالے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے دہلی جانے والے کسانوں کو مودی اور بی جے پی حکومت کے غیر انسانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مودی سرکار کی پولیس نے ان کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں کھڑی کیں ، پانی کا بوچھار ، آنسو گیس کے گولے فائر کیے ، لاٹھی چارج کیا اور شاہراہ کھودی۔ مودی سرکار کا یہ عمل انتہائی شرمناک اور بزدلانہ ہے۔ سورج کمار نے کہاکہ مرکزی حکومت کسان مخالف ہے۔ اسی وجہ سے کسانوں بات کرنے سے ڈررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین کالے قوانین اور بجلی کے بل 2020 کو واپس لینے کے بجائے حکومت اور بی جے پی کسانوں کو بدنام کرنے اور جھوٹے پروپیگنڈے کرنے میں مصروف ہے۔ لیکن کالے قانون کے خلاف اپنے حقوق کے لئے کسانوں اور ملک کے عوام کی بے مثال تحریک جاری رہےگی۔
آفتاب عالم نے کہا کہ ملک بھر کے کسانوں نے پہلے ہی زرعی ترمیمی قوانین کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایاتھا اور ان سے دستبرداری کا مطالبہ بھی کیاتھا ۔لیکن حکومت نے ملک گیر احتجاجی تحریکوں پر کوئی توجہ نہیں دی۔ آخر کار کسانوں نے دہلی کوچ کا اعلان کیا۔ اور اب کاشتکاروں کے پرامن مظاہروں کو دبایا جارہا ہے ، جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ اسلم رحمانی نے اپنے بیان میں کہاکہ در حقیقت مودی سرکار کسانوں کو نہیں بلکہ زراعت اور کاشتکاری کو کارپوریٹ کمپنیوں کو کسان مخالف قانون کے حوالے کرکے ملک پر کمپنی کا راج نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔وہیں فہد زما نے تمام کسانوں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ ملک کا ہر انصاف پسند شہری بڑے پیمانے پر کسانوں کی متحرک تنظیم کو تیز کریں اور مل کر کسان مخالف حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلائیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close