بہار و سیمانچل

ویشالی سانحہ: متاثرہ کے گاؤں میں پپو یادو نے لگائی پنچایت ، دونوں فریق کی سنی بات

ویشالی،24نومبر(آئی این ایس انڈیا) بہار کے ویشالی میں 30 اکتوبر کو ایک 20 سالہ لڑی کو چھیڑ چھاڑ کی مخالفت پر دیہاتیوں نے زندہ جلادیا تھا، انہیں تشویشناک حالت میں علاج کے لئے داخل کرایا گیا تھا لیکن علاج کے دوران 15 دن بعد اس کی موت ہوگئی۔ متاثرہ شخص کی موت کی وجہ سے معاملہ طویل ہوگیا اور اس پر سیاست شروع ہوگئی۔حزب اختلاف کی جماعتوں کے لیڈران نے غمزدہ کنبہ سے ملاقات کی اور حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انصاف کی اپیل کی۔ اسی سلسلے میں منگل کے روز دبنگ لیڈر پپو یادو متاثرہ کے اہل خانہ ویشالی پہنچے۔ اپنے مختلف انداز کے لئے مشہور پپو یادو نے اس دوران متاثرہ لڑکی کی گاؤں کی پنچایت کا اہتمام کیا جس میں انہوں نے متاثرہ اور ملزمین دونوں فریق کی بات سنی۔موصولہ اطلاع کے مطابق منگل کے روز جب متاثرہ افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد پپو یادو اپنے قافلے کے ساتھ واپس جانے لگے تو ملزم کے اہل خانہ نے انہیں روک لیا اور متاثرہ کیلئے انصاف کی التجا کرتے ہوئے پپو یادو کے ساتھ رونا شروع کردیا۔ متاثرہ اور ملزم سے ملاقات کے بعد انہوں نے گاؤں میں دونوں فریق کی ایک پنچایت بنائی۔ سینکڑوں افراد کے ہجوم میں پپو یادو دونوں فریق کی سنتے ہوئے دکھائی دئے۔جب اس سلسلے میں پپو یادو کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے دونوں فریقوں کو سنا ہے، چونکہ میں یہاں آیا ہوں، آپ کو انصاف ملے گا، اسے لکھ لیں۔ حکومت اور انتظامیہ ہر چیز کے لئے قصوروار نہیں ہے، بعض اوقات معاشرہ بھی قصوروار ہوتا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close