بہار و سیمانچل

نوادہ کے پانچ اسمبلی حلقہ میں سے 4 اسمبلی حلقہ عظیم اتحاد کے کھاتے میں

گووند پور اسمبلی حلقہ نے چالیس سال کا ریکارڈ توڑا، میاں بیوی کی ہوئی بری شکست

نوادہ (محمد سلطان اختر) نوادہ ضلع نے انتخاب 2020 میں ایک تاریخ رچا ہے کیوں کہ پانچویں اسمبلی حلقہ میں سے 4 اسمبلی حلقہ میں عظیم اتحاد کامیاب ہوئے، جس میں کامران ملک نے چالیس سالوں سے جیت رہے میاں بیوی سابق ممبر اسمبلی کوشل کمار یادو دونوں میاں بیوی کو شکست دیا عوام پر ہورہے چالیس سالوں سے دھوکا دری،روڈ بجلی کی ترقی سے دور تھے، گووند پور اور نوادہ اسمبلی حلقہ کے عوام نے ووٹ کا بائیکاٹ کرکے بدلہ لیا، گووند پور اسمبلی حلقہ سے پورنیما دیوی کو لگ بھگ 30 ہزار ووٹوں سے شکست کیا، اسی طرح نواده اسمبلی حلقہ سے کوشل کمار یادو سابق ممبراسمبلی کو لگ 9000 ووٹوں سے شکست دیا،نوادہ کا یہ انتخاب اپنے آپ میں ایک تاریخ رکھتی ہے ادھر رجولی اسمبلی حلقہ سے پرکاش ویر عظیم اتحاد کے رہنما لگ بھگ آٹھ ہزار ووٹوں سے کامیاب ہوئے۔ہسوا اسمبلی حلقہ سے نیتو سنگھ 17000 ہزار ووٹوں سے کامیاب ہوئی، اس بار بہار انتخاب بہت ہی دلچسپ ہوتا جا رہا تھا،
بہار الیکشن میں جوں جوں گنتی آگے بڑھ رہی تھی سیاسی مہاویروں کی دھڑکنیں بھی اوپر نیچے ہو رہی ہے تحریر لکھے جانے تک سیاسی پنڈتوں کے تمام اندازہ الٹ پلٹ نظر آرہے تھے قبیل از کاؤنٹنگ تیجسوی یادو کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ بہار کے اگلے وزیرِ اعلیٰ کے طور پہ دیکھا جارہا تھا فی الحال معاملہ بلکل کانٹے کا ہے اسوقت عظیم اتحاد ایک سو چودہ جبکہ این ڈی اے ایک سو بائیس پر آگے چل رہی ہے اور اسی سیٹوں پر عظیم اتحاد نیز چھیاسی سیٹوں پر این ڈی اے جیت حاصل کرچکی ہے اچھی بات یہ ہیکہ ابھی تک ٹوٹل ووٹ کا تقریبا ساٹھ سے پینسٹھ فیصد ووٹ گنا جا چکا ہے جبکہ ابھی دیہی علاقوں کی مشینیں کھلنی شروع ہوئی ہے بہت سی سیٹیں ایسی ہیں جن پہ محض سو ووٹوں کے آس پاس آگے پیچھے معاملہ چل رہا ہے امید ہیکہ این ڈی اے کیلئے بہار کے انگور کھٹے ثابت ہونگے (ان شاءاللہ)

بہت سی سیٹوں پر کامیابی کا اعلان ہونے کے باوجود سرٹیفیکیٹ نہیں دیا جارہا تھا۔خبر لکھنے تک اس طرح کی خبریں خوب آرہی تھی
خیر جو سب سے اچھی خبر بہار سے آئی وہ سیمانچل سے تعلق رکھتی ہے سیمانچل کے ووٹروں نے انتہائی سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی قیادت کو عزت بخشی جو کہ یقینا سبھی کیلئے خوشی کا باعث ہے جس میں سیمانچل کے سبھی ووٹروں کو اس سمجھ بھرے فیصلہ پر بہار کی عوام مبارک باد پیش کرتی ہے اسی طرح نوادہ کے مسلم ووٹروں نے بھی سمجھداری کا ثبوت پیش کیا امید ہے آئندہ آنے والے الیکشنوں میں مسلمان اس فیصلہ سے کچھ سیکھ حاصل کر لیں گے
قبل از الیکشن میں کچھ لوگ واویلا کررہے تھے کہ اویسی کھیل بگاڑسکتے ہیں مجھے لگتا ہے اس نتیجہ سے قوم کو کھیل بنانا سیکھ دیا ہے لوگ آج تک اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہمیشہ اپنوں پر ہی کیوں انگشت نمائی کرتے ہیں ہماری تنظیموں کے ذمہ داران اور بہار کے بڑے بڑے مسلم ٹھیکیداروں میں سے کتنوں نے عظیم اتحاد سے یہ سوال پوچھا کہ مسلم قیادت کی حصہ داری عظیم اتحاد میں کیوں نہیں؟
ساری سیاست تبھی کیوں داؤ پہ لگ جاتی ہے جب مسلم قیادت کو حصہ داری دینی ہوتی ہے؟
اگر مسلمان اتنے ہی اچھوت ہیں تو انکے ووٹ سے اتنا پیار کیوں ہے؟
بہار الیکشن کے مکمل نتائج آنے دیں اسکے بعد عظیم اتحاد سے ٹکٹ پائے مسلمانوں کی ہار جیت اور اسکی وجہ کا جائزہ لیں آپ کے تئیں انکی محبت واضح ہوجائیگی قوی امید ہیکہ یوپی کی طرح بہار کا بھی یادو سماج بی جے پی کے ساتھ ویلنٹائن ڈے مناتا نظر آئیگا
من حیث القوم ہم سب کیلئے بہتر ہوگا کہ اپنی قیادت کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے اس پر اعتماد کریں اسے سپورٹ کریں اسے آگے بڑھائیں
بہار کی عوام ایک بار پھر سیمانچل کی عوام کو اس خوبصورت فیصلہ پر مبارک باد پیش کرتا ہوں خاص کر اختر الایمان صاحب جیسے باہمت باحوصلہ اور صاحب فہم و فراست شخص کو جسکی انتھک محنتوں کوششوں اور کاوشوں نے آج قوم کو ایک پیاری سی خوشی دی اللہ تعالی ہم سب کو عقل سلیم عطاء فرمائے اور ہمت و حوصلہ کے ساتھ اپنی قیادت سیادت سیاست کو آگے لے کر بڑھنے والا بنائے۔جہاں جہاں مجلس کے لوگ کھڑے نہیں تھے وہاں سے عظیم اتحاد کو ووٹ دینا بھی مبارک بادی کے مستحق ہیں،

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close