بہار و سیمانچل

بقرعید کے پیش نظر متنازعہ ہورڈنگ لگوانا فرقہ پرستی کو بڑھاوا دینا ہے : مولانا آفتاب اظہر صدیقی

کشن گنج 3/ جولائی (نمائندہ) کچھ ہفتوں بعد مسلمانوں کا دوسرا عظیم تہوار – جسے وہ اللہ کے لیے جانور ذبح کرکے مناتے ہیں – آنے والا ہے۔ دوسری طرف لاک ڈاؤن اور کورونا کے خطرے نے انسانی زندگی کا طرز عمل بدل کر رکھ دیا ہے، اب نہ شادیوں میں پہلے کی طرح ہجوم ہے اور نہ تہواروں میں پہلے جیسا مزہ۔ اس کے باوجود نفرت و عناد اور تعصب سے بھری ذہنیت نے دہلی اور یوپی میں اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا ہے، یوپی اور دہلی کے کچھ علاقوں میں بڑے بڑے بینر چسپاں کیے گئے ہیں جن میں بکرے کی تصویر کے ساتھ یہ عبارت لکھی ہوئی ہے "میں جان دار ہوں، گوشت نہیں، ہمارے بارے میں نظریہ بدلیں” جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت گوشت ایکسپورٹ کرنے میں دوسرے نمبر پر ہے، یہاں گوشت کے تمام کارخانے ہندو برادران کے ہیں، بکرے کی سب سے زیادہ خرید و فروخت اور مہنگائی ہولی کے موقع سے ہوتی ہے۔ آخر اس طرح کے بڑے بڑے ہورڈنگ لگانے کا مقصد کیا ہے؟ کیا وہ لوگ مرکزی سرکار کو اس بات پر آمادہ کرلیں گے کہ بھارت میں جاندار کے نام پر چکن اور مٹن سے لے کر بیف تک ہر طرح کے گوشت پر پابندی لگادیں، سرکار چاہ کر بھی ایسا نہیں کرسکتی، اس لیے کہ یہ ملک کی معیشت اور مودی نوازوں کے کارخانوں کا مسئلہ ہے، آخر سور کھانے والوں کو صرف بکرے میں ہی جان کیوں نظر آرہی ہے؟ جبکہ سائنس کی بات مانیں تو ہر سبزی اور ترکاری میں جان ہے۔
بقرعید سے پہلے اس طرح کے پوسٹر اور ہورڈنگ کا نظر آنا کسی گہری سازش کا پیش خیمہ بھی ہوسکتا ہے۔ دہلی اور یوپی کے سیکولر انصاف پسندوں کو چاہیے کہ ان ہورڈنگ کو اتار پھینکیں۔ یہ بیان راشٹریہ علماء کونسل کے صوبائی انچارج مولانا آفتاب اظہر صدیقی نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے دیا۔
……………………

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close