بہار و سیمانچل

عیدسے قبل سہرسہ کے9کورونا پوزیٹو طلباء کو ڈسچارج کرکے گھر بھیجاگیا


سماجی کارکن شاہنوازبدرقاسمی نے ضلع انتظامیہ سے بقیہ طلباء کو جلد چھوڑنے کی اپیل کی

سہرسہ (ہندوستان اردو ٹائمز) آج سہرسہ کے جن نائک کرپوری ٹھاکر چھاترآواس سے 9کورونا پوزیٹو طلباء جوسبھی جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا کے تھے نگیٹو رپورٹ آنے کے بعد آئسولیشن واڈ سے ڈسچارج کرکے ہوم کورن ٹائن کیلئے گھر بھیج دیاگیا۔
سماجی کارکن وصحافی شاہنوازبدرقاسمی نے میڈیا سے بات چیت کے دوران بتایاکہ یہ سبھی بچے مہاراشٹر کے نندوبار سے بذریعہ اسپیشل ٹرین 6مئی کو سہرسہ پہنچے تھے،جن طلبہ کی دو مرتبہ رپورٹ نگیٹو آئی ہے انہیں گھر جانے کی اجاز ت دے دی گئی ہے ان میں چار سہرسہ بستی،دو ثور بازار،ایک سونبرساراج،ایک سوپول اور ایک طالب علم نیپال کاشامل ہے۔
سہرسہ کے ڈی ایم کوشل کمار اور ایس پی راکیش کمار کی موجودگی میں ان تمام بچوں کو گلاب کاپھول،میڈیکل سرٹیفکٹ اور کٹ دیکرآج دوپہر3بجے ایمولینس کے ذریعہ گھر روانہ کیاگیا،سہرسہ کے ڈی ایم نے اس موقع پر کہاکہ عید سے قبل ان بچوں کو گھربھیجا جارہاہے تاکہ گھر جاکر وہ عید منائیں،یہ تمام بچے اپنے گھر میں 14دنوں تک ہوم کورن ٹائن رہیں گے اور ڈاکٹروں کی ہدایات پرعمل کریں گے۔
شاہنوازبدر نے بتایاکہ ابھی بھی 11طلباء جنہیں کورونا پوزیٹو بتایاگیاہے جن نائک کرپوری ٹھاکر چھاتر آواس میں ہیں،سب کے سب صحت مند ہیں انہیں کوئی تکلیف یابیماری نہیں ہے بس دوسری اور تیسری رپورٹ آنے کاانتظار ہے جیسے جیسے ان بچوں کی رپورٹ نگیٹو آتی رہے گی ان سب کو مقامی ڈی ایم کی اجازت سے ہوم کورن ٹائن کیلئے گھر بھیج دیاجائے گا۔انہوں نے بتایاکہ ضلع کے کہرابلاک کے 62طلباء کو پولٹکینک کالج میں رکھاگیاہے،بلاک کورن ٹائن کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھی ان بچوں کو ابھی تک نہیں چھوڑا گیاہے،انتظامیہ روز ٹال مٹول کررہی ہے۔شاہنواز بدر نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیاہے کہ ان تمام طلباء کو جن کے اندر کورونا کی کوئی علامت نہیں ہے شک کی بنیاد پر رکھاگیاہے جلدسے جلد گھر بھیجاجائے،جن کی رپورٹ پوزیٹو کے بعد نگیٹو آچکی ہے انہیں بھی ڈسچارج کردیاجائے،ضلع میں اب تک کورونا کے نام پر جن طلباء مدارس کے اہل خانہ کا ٹیسٹ ہواہے سب کے سب نگیٹو بتائیں گے ہیں ،انہوں نے کہاکہ جہاں جہاں ان بچوں کو رکھاگیاہے مسلسل کھانے اور انتظامی بندوبست کی شکایت آرہی ہے جو بیحد افسوسناک بات ہے ضلع انتظامیہ سے درخواست ہے کہ ان بچوں کاخیال رکھیں،کوروناکے نام پر مزید خوف زدگی اور دہشت نہ پھیلاجائے ہمیں اب کوروناسے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسی کے ساتھ جینے کی عادت ڈالناہوگااور احتیاطی تدابیر کاخیال رکھناہوگا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close