بہار و سیمانچل

*بہار کی عوام جس طرح اڈوانی کےرتھ روکنےکاکام کیاتھااسی طرح کالےقانون کوبھی روکنےکاکام کریں*

*بہار کی عوام جس طرح اڈوانی کےرتھ روکنےکاکام کیاتھااسی طرح کالےقانون کوبھی روکنےکاکام کریں*
*سمری بختیارپورکےرانی باغ میں عظیم الشان احتجاجی ریلی سے طلبہ لیڈرعمرخالداورمشکورعثمانی کی ایپل*

سہرسہ،این آرسی،سی اے اے اور این پی آر کےخلاف سمری بختیارپورکےرانی باغ میں پچھلےدس دنوں سےجاری غیرمعینہ احتجاجی دھرنے میں گزشتہ شب جے این یو کے مشہور طلبہ لیڈرعمرخالد،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کےسابق طلبہ یونین صدرمشکور احمدعثمانی اوربہارکے سابق وزیرپروفیسرچندرشیکھر سمیت کئی رہنماؤں نے شرکت کرکے مظاہرین کے حوصلہ کوبڑھایا۔
اس موقع پر یوتھ لیڈر عمرخالد نےاپنے خطاب میں کہاکہ بہار کی سرزمین انقلابی سرزمین ہے یہاں سے جو بھی آواز اٹھتی ہے پوری دنیامیں سنی جاتی ہے یہاں کی تاریخ رہی ہے کہ جب جب ملک میں ظلم وتشدداورنفرت پھیلانےکاکام ہوایہاں کی عوام نے مکمل بیداری کے ساتھ اس کامنھ توڑجواب دیا،یہ سرزمین سمراٹ اشوک اورگوتم بدھ کی ہے،یہ وہی سرزمین ہے جب تاناشاہی بھارت میں آئی جے پرکاش جیسی شخصیت نےپور ےملک کو جگانے کاکام کیا،عمر خالد نے کہاکہ جس طرح 30سال پہلے بہار کی سرزمین نے اڈوانی کی رتھ روکنے کاکام کیاتھاایک مرتبہ پھر مجھے یقین ہے کہ یہاں کی عوام سی اے اے،این آرسی اور این پی آر کو روکنے کاکام کریں گے انہوں نے کہاکہ جو لوگ کہتے ہیں اس احتجاج سے کچھ نہیں ہونے والاہے انہیں پتہ ہوناچاہئے جہاں پہلے یہ کہاجاتاتھا ہم پہلے سی اے اے لائیں گے پھراین آرسی نافذ کریں گے اب ہمارے وزیراعظم کہتے ہیں کہ ابھی این آر سی کی ہم نے تو کوئی بات ہی نہیں کی ہے یہ احتجاج کچھ دن اور جاری رکھئے یہ لوگ لکھ کر بھی دیں گے کہ ہم این آرسی نہیں لائیں گے۔عمر خالد نے کہا کہ موجودہ حکومت ملکی آئین پر یقین نہیں رکھتی ، ملک کی جمہوریت پر یقین نہیں رکھتی انہیں گاندھی جی، امبیڈکر اور بھگت سنگھ سے کوئی مطلب نہیں،انہیں ہٹلر اور موسیلینی سےالہام حاصل ہوتا ہے۔آج جو کام مودی جی ہندوستان میں کرنا چاہتے ہیں وہ جرمنی میں ہٹلر نے 1930 میں کیا تھا۔ ان کے شکار یہودی تھے اور گیس چیمبر میں 60 لاکھ یہودی تھے اور انھیں بدنام کیا گیا تھا اور مار ڈالا گیا تھا جو آج ہٹلر پوری دنیا کا بدنما داغ ہے ۔جرمنی میں لوگ اس کانام بہی سنناپسندنہیں کرتے ہیں لیکن افسوس کہ اس کام کو جو ہٹلر نے1930 میں کیا تھا وہ کام ہندوستان میں 2020 میں مودی حکومت کرنے کا ارادہ کر رہی ہے لیکن حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ یہ جرمنی نہیں ہے تمام مذاہب کے لوگ باہمی اخوت اور امن سے یہاں رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ این سی آر، سی اے اے اور این پی آر جیسے قانون کے ذریعے حکومت لوگوں کو پھر لائن میں لگانا چاہ رہی ہے. اسے ملک کے غریب و بےبس لوگوں کی نہیں اڈوانی آڈانی کی فکرستا رہی ہے،عمر خالد نےبہارکےوزیر اعلی نتیش کمار کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ بہکاوے کی سیاست اب بہار میں نہیں چلنے والی ہے جن کے ووٹوں سے آپ وزیراعلی بنے ہیں ان کو پریشان مت کیجئے ورنہ آپ کی یہ کرسی سلامت نہیں رہے گی انہوں نے رانی باغ کے احتجاجی ریلی میں شریک ہزاروں مردوخواتین اور نوجوانوں کے حوصلے،ہمت اور جذبہ کو سلام کرتے ہوئے اس عظیم تحریک کو جاری رکھنے کی اپیل کی اور کہاکہ ہم عنقریب یہ لڑائی جیت جائیں گے۔اے ایم یو طلبہ یونین کے سابق صدر مشکور احمد عثمانی نے کہاکہ یہ لڑائی ہندو اور مسلمانوں کی نہیں بلکہ نظریات کی ہے جو لوگ ملک کو مذہب کی بنیادپرتوڑناچاہتے ہیں وہ اپنے مقصدمیں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے انہوں نے کہاکہ ہم خوش نصیب ہے کہ اس لڑائی کو لڑرہے ہیں ہندوستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی بھی ہماری ماں اور بہنوں نے اس طرح مورچہ نہیں سنبھالاتھادیش اور دستور کو بچانے کی جنگ ہم ضرورجیتیں گےمشکور عثمانی نے کہا کہ جب بات تین طلاق کی تھی ہماری مائیں گھروں میں رہی،جب معاملہ 370 کا ہوا پھر بھی چپ رہے،جب بابری مسجد کا معاملہ ہوا تو بھی گھروں سے نہیں نکلے کیونکہ یہ ہم سے تعلق رکھتا تھا اور اس کا نقصان مسلمانوں کا ہوا مگر معاملہ جب سی اے اے اور این آر سی کا آیا تو آج پورا ملک شاہین باغ بنا ہوا ہے کیونکہ اس کا نقصان سیدھے ملک کا ہوگا جو ہم برداشت نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ اس ملگ کے ذرے ذرے میں ہمارے خون پسینے کی آمیزش ہے قربانیاں ہیں انہوں نے کہاکہ مودی حکومت نفرت کی ایک علامت بن چکی ہے جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیاجائے گادیش کو بچانے کیلئے ہندومسلمان مل جل کر اس تحریک کو کامیاب کررہے ہیں انہوں نے سمری بختیار پور کی عوام کومبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ آپ صرف احتجاج نہیں بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک تاریخ لکھ رہے ہیں جو ہمیشہ سنہرے حرفوں سے لکھاجائے گا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلباء لیڈر ابوالفرح شازلی نے کہا کہ ہماری قومی یکجہتی کو کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے اور یہ قانون اسی شازش کا حصہ ہے لیکن ہم سھبی متحد ہو کر اس سازش کو ناکام بنا کر ہی دم لیں گے.۔ان کے علاوہ بہارکے سابق وزیر پروفیسر چندرشیکھر،منوج پاسوان وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔اس عظیم الشان احتجاجی ریلی کی نظامت شاہنوازبدرقاسمی اور پن پن یادو نے مشترکہ طورپر انجام دئیے۔اس موقع پرچھتر ی یادو،بام سیف کے سریندر یادو،مولاناساجداشرف،حافظ ممتازرحمانی، چاند منظرامام، ہلال اشرف،وجیہ احمد تصور،خذیجہ خاتون،ہارون رشید،پروفیسر نعمان،امین عبدالسلام،مولانامظاہروغیرہ خصوصی طورپر موجود رہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close