بہار و سیمانچل

جس کے سینے میں امت کا درد ہے وہ معاشرے کی اصلاح کے لئے بے تاب و بے چین ہے،الھدٰی اسلامی کوئز مسابقہ میں شامل تمام کامیاب طلبہ و طالبات کو تشجیعی انعامات سے نوازا گیا،

تعلیم کے بغیر ہم کسی بھی میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتے:نظام الدین ندوی

سمستی پور (پریس ریلیز) اسلام میں تعلیم حاصل کرنے کی بڑی اہمیت ہے اور اس حصول تعلیم پر زور دیا ہے تعلیم کے بغیر ہم زندگی کے کسی بھی میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں،یہ باتیں الھدیٰ اسلامی مکتب چکپاڑ کے ڈائریکٹر مولانا محمد نظام الدین ندوی نے دلسنگھ سرائے بلاک حلقہ کے بھٹگامہ گاؤں میں منعقد اسلامی کوئز مسابقہ کے دوران کامیاب طلبہ و طالبات کو تشجیعی انعامات دینے سے قبل کہیں انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو اپنے مذہب کی بنیادی و ضروری احکامات سے واقف کرانا عصر حاضر کا اہم تقاضہ ہے،انہوں نے کہا کہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم دیں انہیں اسلامی تہذیب و تمدن سے آشنا کرائیں انہیں مذہبی، اخلاقی ، تہذیبی ارتداد سے بچانے کی کوشش کریں ورنہ مستقبل میں ایک بہت بڑے طوفان سے سامنا کرنا ہوگا یہی بچے ملک و قوم کےمستقبل ہیں یہی دنیا و آخرت میں ہماری کامیابی کے ذریعہ ہیں ان کی بہترین تعلیم و تربیت کا انتظام کریں ۔ راشٹریہ جنتا دل اقلیتی سیل کے ضلع صدر نسیم عبداللہ انصاری نے کہا کہ تعلیم کا بنیادی مقصد معرفتِ ذات ہے یہ انسان اور اس کی ذات کے درمیان ایسا پُل ہے جس کے قائم ہونے سے انسان کی شخصیت کی تجدید اور نکھار کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور پھر انسان کی شخصیت روحانیت کی منازل طے کرنا شروع کر دیتی ہے،مولانا امام الدین ندوی نے کہا کہ ہمارے معاشرے کا حال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے،ہر کوئی اپنی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہا ہے،اور اسکے حالت زار پر دانشورانِ قوم و ملت،عمائدین و قائدین امت اشک بار و ماتم کناں ہے،جس کے سینے میں امت کا درد ہے وہ معاشرے کی اصلاح کے لئے بے تاب و بے چین ہے، ہر کوئی چاہتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں عدل و انصاف ہو،اخوت و بھائی چارگی ہو،آپس میں محبت و مودت ہو اتحاد و اتفاق کی فضاء قائم ہو،شادی میں سادگی ہو،اور ہم ایک دوسرے کے دکھ درد کو بانٹنے والے ہوں،ماسٹر محمد عباس نے کہا کہ موجودہ وقت میں علم سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے، تعلیم کے بغیر ہماری ترقی ممکن نہیں ہے،معاشرہ کی اصلاح اور صالح معاشرہ کی تکمیل کے لیے تعلیم یافتہ معاشرہ کا ہونا انتہائی ضروری ہے،سوشل نیوز آف بہار کے ایڈیٹر صحافی نقی الرحمٰن ہاشمی نے کہا کہ جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے ربّ کو پہچانا۔انہوں نے کہا کہ ایک بشر جب تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر خودگر اور خود گیر شخصیت کا حامل ہو جاتا ہے تو پھر اسکی ماحول سے مکالمے کی راہ بھی ہموار ہو جاتی ہے۔ اسکے بعد انسان تخلیق و تجدید کا ایک قابل فخر سرچشمہ بھی بن کر اُبھر سکتا ہے، ایسے تعلیم یافتہ افراد مہذب معاشروں کو جنم دیتے ہیں اور پھر پڑھے لکھے معاشروں کے گلستان میں امام غزالی، علامہ اقبال اور آئن سٹائن جیسے پُرمہک پھول کھلتے ہیں،موقع پر مولانا محمد صدام،مولانا محمد ذیشان ندوی،دلسنگھ سرائے کے سابق نائب پرمکھ محمد شمشاد عالم،وغیرہ نے بھی خطاب کیا،مجلس کی صدارت مولانا محمد امام الدین ندوی نے کیا جبکہ نظامت کے فرائض انجام قاری محمد مصطفیٰ نے دیا،پروگرام کا آغاز باضابطہ طور پر مولانا محمد صدام کی تلاوت کلام پاک و قاری محمد ظاہر حسین ویشالوی کی نعتیہ اشعار سے ہؤا،حکم کے فرائض انجام مولانا محمد امام الدین ندوی و مولانا محمد افضل ندوی نے مشترکہ طور پر دیا،بچوں سے سوال مولانا محمد جاوید قاسمی نے کیا،اسلامی کوئز مسابقہ دو نشستوں پر منقسم تھا پہلی نشست میں اول پوزیشن محمد عمران ابنِ محمد امتیاز،دوئم پوزیشن سمرن پروین بنت محمد ببلو،سوئم پوزیشن محمد سجاد ابنِ محمد زبیر عالم،نے حاصل کیا وہیں دوسری نشست میں اول پوزیشن نصرت پروین بنت مرحوم محمد طاہر،دوئم پوزیشن شبنم پروین بنت محمد فیروز،سوئم پوزیشن شاذیہ پروین بنت محمد جہانگیر نے حاصل کی،موقع پر نصیر الدین قدوائی،محمد منصور، محمد دانش،محمد امتیاز،محمد یاسین،محمد شمیم،محمد جسیم،محمد شمشیر،محمد ہاشم،محمد اعجاز،محمد ارمان،محمد آزاد وغیرہ موجود تھے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close