ہندوستان اردو ٹائمز

حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی رحمۃاللہ علیہ اپنی تعلیمی کاوشوں کے لیے تاقیامت یاد رکھے جائنگے۔

جامعہ اصلاح المسلمین قصبہ بانکا میں ماہانہ مسابقہ قرآن کا انعقاد۔

بانکا :حفظ و تجوید کے مشہور ادارہ جامیہ اصلاح المسلمین قصبہ شمبوگنج بانکا بہار میں طلباء کے درمیان ماہانہ مسابقہئ حفظ و قرائت کا انعقاد عمل میں آیا،جس میں حکم کے فرائض جامع مسجد پھلواری شریف پٹنہ کے امام حضرت مولانا عمران صاحب نے انجام دیے۔اس موقع پر انھوں نے طلباء کی یادداشت اور تجوید و قرائت کے قواعد کے مطابق تلاوت قرآن کا جائزہ لیا اور طلباء کی بہترین کارکردگی پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے مسابقہ کے اختتام پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ الحمدللہ اس مدرسے میں حفظ و تجوید کی تعلیم نہایت توجہ اور اہتمام کے ساتھ دی جاتی ہے جس کامجھے طلباء کے امتحان کے دوران احساس ہوا اوریہ دیکھ کر قلبی مسرت ہوئی کہ نہ صرف یہاں کے طلباء کی یادداشت ٹھوس اور مضبوط ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تجوید کے تمام قواعد و ضوابط کی رعایت کے ساتھ وہ تلاوت کرتے ہیں،آموختہ کی یادداشت اور لب و لہجہ پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس مدرسے کی کامیابی میں اس کے بانی و سرپرستِ اول حضرت مولانا اسرارالحق قاسمیؒ کی دعاؤں کا خاص دخل ہے،جس طرح حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کو بچوں کی تعلیم و تربیت کی فکر رہاکرتی تھی اور وہ جس نہج پر قرآن کریم کی تعلیم کو عام کرنے کی فکر رکھتے تھے الحمدللہ اس مدرسے میں اسی نہج پر کام ہورہاہے اور ان شاء اللہ تاقیامت جاری رہے گا مدرسہ کے مہتمم واساتذۂ کرام اس ادارے کی تعلیمی ترقی کے لیے شب وروز مخلصانہ جدوجہد کررہے ہیں جس کی وجہ سے آج یہ مدرسہ قرآنی تعلیم کا قابل اعتمادادارہ بن گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ معیاری تعلیم کے علاوہ یہاں بچوں کی سنت نبویﷺکے مطابق تربیت کا بھی خاص اہتمام کیاجاتا ہے اس کے علاوہ شب و روز کی مسنون دعائیں،نماز کے فرائض،واجبات و مستحبات بھی یاد کروائے جاتے ہیں اور ضرورت کے بقدر عصری علوم انگریزی و حساب وغیرہ بھی پڑھائے جاتے ہیں اور مدرسے میں صاف صفائی کا بھی معقول اہتمام کیاجاتا ہے۔مدرسہ کے مہتمم فرحان اختر نے مہمان مکرم کا استقبال کرتے ہوئے ان کی علمی و ملی خدمات پر روشنی ڈالی اور کہاکہ حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی بھی مفتی مناظرحسن نعمانی صاحب کی علمی اور ملی خدمات کے معترف تھے اور ان کی خدمات کو سراہتے تھے۔
اس موقع پر مدھوبنی سے آئے ہوے مہمانِ خصوصی حضرت مولانا افتخار کیفی صاحب نے مسابقہ کی غرض و غایت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اس طرح کے مسابقہ کا مقصد طلبہ کے اندر علمی و فکری ہر میدان میں آگے بڑھنے کا شوق و جذبہ پیدا کرنا ہے، اس میں محنتی طلبہ کی ہمت افزائی اور دیگر طلبہ کی ترغیب ہوتی ہے۔ مولانا نے ممتاز طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئےفرمایا کہ طالبان علوم نبوت رسول ﷺ کے نمائندے ہیں، اس لیے اللہ کے رسول کی ان صفات اور اخلاق و کردار کو اپنی ذات سے اپنانا ہے اور اس کی دعوت امت کو دے کر اللہ کے سچے پیغام کو پوری انسانیت تک پہنچانا ہے ۔نیزطلبہ اگر اپنے کام اپنے شوق سے کرنے لگیں تو ان کے لیے آگے ترقی کے مراحل کھلتے جائیں گے ۔نیز مدرسہ کی طرف سے جو ہدایات دی جاتی ہیں اس پر عمل کرنے اور اپنے بچوں کی فکر کرنے کی سرپرستوں سے گزارش کی۔اور مولانا صاحب نے اپنے تاثرات میں طلبہ کو محنت اور لگن کے ساتھ علم دین سیکھنے اور اپنے کاموں کو پلاننگ کے ساتھے انجام دینے کی نصیحت فرمایا

مہمان خصوصی حضرت مولانا رفیع رضوی مدظلہ العالی نے اپنے پرمغز خطاب میں دین کو اپنا مقصد حیات بنانے کی تلقین کرتے ہوئے طلبہ سے فرمایا کہ آپ نبوی علم کے لیے اللہ کی طرف سے چنے گئے ہیں، اس لئے اس علم کی قدر کریں اور اس کو دوسروں تک پہنچانے کی فکریں اپنے اندر پیدا کریں۔ مولانا نے مزید فرمایا کہ ہر مسلمان نمائندۂ رسول ہے لیکن سب سے بڑھ کر نمائندہ وہ ہے جو علم نبوت کو حاصل کررہاہے اور آگے چل کر وہ عالم ہوگا اور اس کی تشریح و اشاعت کرے گا۔ اللہ کے رسول ﷺ کی وراثت صرف الفاظ کی نہیں بلکہ یہ ان معانی و حقائق اور درد کی وراثت ہے جس کا ذکرآیت شریفہ ’’ لعلک باخعٌ نفسک علی آثارھم ان لم یؤمنوا بھذا الحدیث اسفا‘‘ میں ہوا۔
مولانا نے حالات حاضرہ پر روشنی ڈالتے ہوئے طلبہ کو نصیحت فرمائی کہ اپنے دل کو خدا کا گھر بنائیں، اپنے شعور کو بیدار کریں اور اپنے اوقات کا جامعہ کے احاطہ میں رہ کر صحیح استعمال کریں تاکہ آپ کا مستقبل روشن ہو ۔
اخیر میں جامیہ ہذا کے صدر جناب رحمان صاحب نے آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا